ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرےگا، چیف جسٹس گلزار احمد

Chief Justice Gulzar Ahmed

اسلام آباد(آئی این پی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، عوام کوروٹی،پٹرول، تعلیم،صحت اور روزگارکی ضروررت ہے،نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے۔این ڈی ایم اے باہرسے ادویات منگوا رہا ہے۔ نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کیلئے منگوائی جارہی ہیں؟ کیا یہ ادویات پبلک سیکٹر اسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟ کیا ادویات سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی استعمال ہو رہی ہیں؟ عدالت نے نجی کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات اور ذرائع آمدن، این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کروناوائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت 3ہفتے تک ملتوی کردی نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے؟ نہیں معلوم این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں؟اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے۔ این ڈی ایم اے ادویات منگوانے میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ باہر سے آنے والی ادویات کی ڈریپ سے منظوری سے ہونی چاہیے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ادویات کی منظوری ڈریپ دیتی ہے ،جسٹس اعجازلاحسن نے پوچھا کہ کیا ادویات سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی استعمال ہو رہی ہیں؟باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں؟ ڈریپ نے کہا ہے کہ ادویات جس مریض کو دی جائیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔ یہ دوا تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے ہیں۔جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ مریض کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کردیں گے تو مریض دنیا سے چلا جائے گا۔ بہتر ہوتا کوائف اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سرکاری اسپتالوں کو دی جاتی۔ کیا یہ ادویات پبلک سیکٹر اسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویز کے مطابق نجی کمپنی کیلئے مشینری این ڈی ایم اے نے اپنے جہازپر منگوائی۔ نجی کمپنی نے مشینری این 95 ماسک کے لئے منگوائی۔ کیامشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی؟اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشینری منگوانے میں این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کسی انفرادی شخصیت کو فیور نہیں ملنی چاہیے۔ کمپنی کا مالک 2 دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا۔ نہیں معلوم باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ کورونا نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا۔ نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں؟ ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی۔ کمپنی کے مالک کا گھر بیٹھے کام ہوگیا۔چیف جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس دیے کہ نجی کمپنی کی این ڈی ایم اے نے این 95ماسک کی فیکٹریاں لگوادیں۔ ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے۔ بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ باقی شعبوں کو بھی اگر ایسی سہولت ملے تو ملک کی تقدیر بدل جائے۔ کس قیمت کی مشینری آئی؟ ایل سی کیسے کھولی گئی؟چیف جسٹس گلزاراحمد نے پوچھا حکومت نے کاروباری شخصیات کو سہولت دینی ہے تو اخبار میں اشتہار دیا جائے۔ حکومت ایسا کرے تو ملک میں صنعتی انقلاب آجائیگا۔ پیداوار اتنی بڑھ جائے گی کہ ڈالر بھی 165 سے 20سے 25 روپے کا ہوگا۔ ہمیں یاد ہے کہ ڈالر کبھی 3روپے کا ہوتا تھا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ مشرق وسطی سے آنے والے پاکستانیوں کو کہاں کھپایا جائیگا؟ ۔ کیا 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد وہ جہاں مرضی ہے جائیں؟ 50ہزار سے ایک لاکھ مزدور مشرق وسطی سے واپس آرہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تعلیمی اداروں سے لوگ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ان کو کھپانے کا کیا طریقہ ہے؟ حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے وہ نہیں معلوم۔ اگر حکومت کی کوئی معاشی پالسی ہے تو بتائیں؟۔چیف جسٹس گلزار احمد نے پوچھا حکومت کا مستقبل کا وژن کیا ہے وہ بھی بتائیں۔ حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کر ے گی؟ کیا عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ عوام کوروٹی،پٹرول، تعلیم،صحت اور روزگارکی ضروررت ہے۔ وزیر اعظم کہتا ہے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلی آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے۔ سندھ حکومت 4 ارب روپے کی 400 لگژری گاڑیوں کے لیے کیسے خرچ کر سکتی ہے؟ یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لیے منگوائی گئی ہیں۔ ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 16 لاکھ ہے۔ اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دینگے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ 4ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں۔ کراچی کا نالہ صاف کے کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کی کیا پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومت ایسی گاڑیاں منگوا رہی ہیں؟ایڈووکیٹ جنرلز نے عدالت کو بتایا کہ کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوا رہے۔ دوران سماعت بینچ کے رکن جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ آکسیجن سلنڈر کی قیمت 5ہزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ حکومت کہاں ہے؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ لوگوں کو بڑی امید تھی اس لیے لوگ تبدیلی لائے۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر آگئے ہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت قانون کے اندر رھتے ہوئے سخت فیصلے کررہی ہے۔ دم کا بحران پیدا ہوا جس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ حکومت ایسے طاقتوں کے خلاف سرنڈر نہیں کررہی ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پوری حکومت کو 20 لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے۔ حکومت کی اگر کوئی خواہش ہو توحکومت کو کوئی روک نہیں سکتا۔ حکومت ہر کام میں قانون کے مطابق ایکشن لے۔چیف جسٹس نے پوچھا 16 ملین ٹن گندم سندھ سے چوری ہوگئی، اس کا کیا بنا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹڈی دل کا مسئلہ صوبائی ہے، اس کے خاتمے کے لئے معاونت کررہے ہیں۔عدالت نے این 95 ماسک کی تیاری کیلئے درآمد مشینری کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالت نے نجی کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات اور ذرائع آمدن بھی طلب کرلی۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت نے حکم دیا کہ سندھ حکومت گجر نالے کی صفائی کیلئے رقم کا بندوبست کرے۔ عدالت نے سندھ حکومت ترقیاتی کاموں کی بجاے چار ارب کی خطیر گاڑیوں کی خریداری پر وضاحت طلب کرلی۔سپریم کورٹ میں کوروناوائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت 3ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*