امیر اور غریب میں بڑھتا ہو افرق ترقی میں رکاوٹ ہے ، عمران خان

PM Imran Khan

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے ، فاٹا میں عدم استحکام لانا چاہتا ہے ، مارچ2021تک یکساں نظام تعلیم لائیں گے ، دینی مدارس کو قومی دھارے میں لائیں گے ، امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں ، خارجہ پالیسی کامیاب ہے ، ماضی میں اتحادہ ہونے کے باوجود ایبٹ آپریشن ہوا، اسامہ بن لادن کو شہید کردیاگیا ،اس وقت ہمیں ذلت کا نشانہ بنایا گیا ، ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں ہماری پالیسیوں کے نتیجے میں آج امریکی صدر ٹرمپ عزت دیتا ہے ، افغانستان میں تعان کی درخواست کرتا ہے ، سعودی عرب اور ایران نے ہمیں صلح کرانے کےلئے کہا ، امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہیں ، کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت مواقع ہیں ، 5اگست کو کشمیر کو غیر قانونی طریقہ سے بھارت کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی ، اب بھارت آزاد کشمیر کو اپنا حصہ دیکھانے کی کوشش کر رہا ہے ، اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، ہم نے بھارت میں الیکشن ہونے کا انتظار کیا، کشمیر پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے ، بندوق کے زور پر تحریک روکی نہیں جا سکتی ، کرونا وائرس ختم ہوگا تو تحریک تیز ہوگی ، ریاست مدینہ کا فلسفہ نوجوانوں کو پڑھانا ہے، 30جنوری سے ٹڈی دل کے حوالے سے ہنگامی حالت کا اعلان کررکھا ہے ، این ڈی ایم اے کو اس پر کنٹرول کرنے کےلئے تمام اخراجات کا اختیارات دیے ہوئے ہیں، یہ پاکستان کےلئے بہت خطرناک ہوسکتا ہے ، اس کےلئے ہم کوئی کوتاہی نہیں کر رہے،، اپوزیشن سے کوئی دشمنی نہیں نہ بدلہ لینا چاہتا ہوں ، نیب میں نے نہیں بنایا ، سیاسی انتقام نہیں ہو رہا ، تمام اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں ، اگر احتساب نہیں ہوگا تو ملک ری پبلک بن جائے گا،لاک ڈاﺅن پر کسی ملک کے فیصلوں میں کنفیوژن نہیں تھا تو وہ پاکستان تھا، نیوزی لینڈ کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہاں آبادی پھیلی ہوئی ہے،ہمیں ایس اوپیزکی پیروی کرنا ہوگی،احتیاط نہ کی گئی تو ہمارے صحت کے شعبے پر دباﺅمزید بڑھے گا،ہمیں اپنے بوڑھوں اور بیماروں کو بچانا ہے، اگر بے احتیاطی کی گئی تو ہم بہت مشکل میں پڑ جائیں گے،ٹائیگرفورس کو ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے پر لگادیا ہے ،ہمیں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ملا، وزیر اعظم ملک کے باپ کی طرح ہوتاہے اور قوم اس کے بچے ہوتے ہیںجمعرات کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 30جنوری سے ٹڈی دل کے حوالے سے ایمر جنسی ڈیکلیئر کیا ہوا ہے ، این ڈی ایم اے کو اس کو کنٹرول کرنے کےلئے تمام اخراجات کا اختیارات دیے ہوئے ہیں، یہ پاکستان کےلئے بہت خطرناک ہوسکتا ہے ، اس کےلئے ہم کوئی کوتاہی نہیں کر رہے،اس حوالے سے کورونا کی وجہس ے کچھ سپلائز انگلینڈ سے آنا تھے وہ رک گئے ، حکومت پورا زور لگائے گی لیکن سب کچھ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے ، افریقہ ، ایران اور بھارت سے ٹڈی دل کا طوفان آسکتا ہے ، پوری قوم مل کر مقابلہ کرے گی ، جب پاکستان میں کرونا کے 26کیس ہوئے تو ہم نے کارروائی کی اور لاک ڈاﺅن کیا، سارے صوبوں نے اپنے قدم اٹھانا شروع کئے ، پاکستان کے اندر آبادی زیادہ ہے ، غربت ہے ، ہمارے حالات دنیا کے مختلف ہیں ، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں ایک طرف ہم نے لوگون کو کورونا سے بچانا ہے دوسری طرف بھوک سے بچانا ہے ، لوگوں نے دباﺅ ڈالا کہ سخت لاک ڈاﺅن کرنا چاہیے تھا جس طرح بھارت نے کیا ہر ملک اپنے انداز میں اس سے نمٹ رہا تھا ، بار بار کہا جارہا ہے کہ کنفیوژن تھی ، پہلے دن سے ہماری واضح پالیسی ہے ، 13مارچ سے آج تک میرا ایک بیان بتا دیں جس میں تضاد ہو ، اگر وسائل ہوتے تو سخت کرفیو بہترین آپشن ہے یہ میرے مسلسل بیانات تھے ، کبھی کنفیوژن نہیں آئی ، اسد عمر نے این سی او سی کی سربراہی ی اور اچھا کام کیا ، پاکستان کے پاس صحت کے حوالے سے کوئی ڈیٹا نہیں تھا، سب ڈیٹا اکٹھا کیا اور اچھے فیصلے کئے اور ان میں کوئی تضاد نہیں آیا، بھارت میں لاک ڈاﺅن سے بڑی تباہی ہوئی ، اعدادوشمار ہیں34فیصد لوگ شدید غربت میں چلے گئے ، غریب آدمی کچلا گیا، ہزاروں لوگ سڑکوں پر آگئے ، اس طرح کا لاک ڈاﺅن ہمیں کہا جا رہا تھا، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کرونا انڈیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے ، تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، آج ہمارے لئے مشکل مرحلہ ہے ، ہم نے کنسٹرکشن کا شعبہ پہلے کھولا ، آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ لاک ڈاﺅن کے زیادہ نقصانات ہیں، امریکہ میں کورونا بڑا بڑھ رہا ہے لیکن وہ لاک ڈاﺅن کھول رہے ہیں ، جو دنیا کا امیر ملک ہے ، ہم نے سب سے پہلے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی بات کی کہ متاثرہ علاقوں مٰں لاک ڈاﺅن کریں ، آبادی زیادہ ہونے کے باوجود ہم جس طرح اس سے نکلے ہیں ابھی تک بڑا کرم ہے ، اگلا مرحلہ بڑا مشکل ہے ، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کوبتایا کائے کہ ایس او پیز پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے ، احتیاط نہ کی تو ہمارے ہسپتالوں پر دباﺅ بڑھ رہا جائے گا ، یہ دباﺅ مزید بڑھنے والا ہے ۔ یہ سب کےلئے ضروری ہے کہ لوگوں کو احساس دلائیں کہ بوڑھوں کو بچانا کتنا ضروری ہے ، بیمار لوگوں کو بچانا ضروری ہے ، سمارٹ لاک ڈاﺅن کا مقصد ان لوگوں کا تحفظ ہے ، 4000لوگوں کی اس بیماری سے وفات ہوئی ہے ،اگر ہم نے احتیاط کی تو آئندہ مرحلہ کامیابی سے نکل جائیں گے اور ہمارا صحت کا نظام اس سے نمٹ لے گا ، اگر بے احتیاطی کی نقصان ہوگا، ٹائیگر فورس کو ایس او پیز پر لگادیا ہے ، متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کریں گے ، احتیاط کی تو کرونا کے اثرات سے نکل جائیں گے ، ہمیں کہا رہا ہے کہ کرونا کے پیچھے چھپ رہے ہیں ، اعدادوشمار دیکھیں آج ہی آئی ایم ایف نے جاری کئے ہیں، دنیا کی معیشت کو کرونا کی وجہ سے 12ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ، انگلینڈ کی معیشت 20فیصد نیچے آگئی اور منفی گروتھ میں چلی گئی ، 100سال کے بعد دنیا کا سب سے بڑا معاشی بحران آیا ہے ، کوئی یہ نہیں بتاسکتا کہ معیشت کا نقصان پورا کرنے میں اور بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا، جس طرح کی معیشت ملی تھی ہم نے اس کے آگے ہی کام کرنا ہے ، 20ارب ڈالر کا ہمیں کرنٹ خسارہ ملا ، اس کا مطلب ہماری معیشت بیمار تھی ، تاریخ میں سب سے بڑا خسارہ ملا، برآمدات 20ارب ڈالر پر منجمند تھی، درآمدات 60ارب ڈالر تھی ، ہمیں ڈالر کے 125روپے کے ریٹ میں ملا ، ایکسچینج ریت میں ہم نے استحکام لایا۔2013میں16000ارب روپے کا قرضہ تھا، ہمیں حکومت ملی تو 30ہزار ارب کا قرضہ تھا، آدھی آمدن سود کی ادائیگی میں خرچ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر رہ گئے ، دنیا میں دوستوں سے پیسے مانگے ، ملک کےلئے 30سال کےلئے پیسے اکٹھے کرتا ہوں ، ملک کےلئے پیسے جمع کرتے ہوئے کبھی شرم نہیں آئی ، ملک جب جسی ملک سے پیسے مانگتا ہے تو شرم آتی ہے ، بدقسمتی سے ملک کی لیڈرشپ تھی ، وزیراعظم کی حیثیت باپ کی ہوتی ہے۔ عمران خان نے کہاکہ میں نے واشنگٹن کے دورے کے دوران 6780ڈالر خرچ کئے جبکہ نوازشرف نے اسی دورے کےلئے 549000ڈالر اور آصف زرداری نے 752000ڈالر خرچ کئے ، اقوام متحدہ کے دورے پر آصف زرداری نے 13لاکھ ڈالر ، نوازشریف نے11لاکھ ڈالر، شاہد خاقان عباسی نے 7لاکھ ڈالر خرچ کئے وہی دورہ میں نے 1لاکھ62ہزار ڈالر میں کیا، میں نے اپنے سٹاف کوآدھا کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ماضی کے حکمرانوں نے اخراجات کئے جب ملک مقروض رھا تھا، سٹیٹ بینک سے 6ہزار ارب کا انہوں نے ادھار لیا جو ہم نے ختم کئے ، ان کے المدت قرضہ کو طویل المدت قرض میں تبدیل کیا، 1300ارب کا گردشی قرضہ ملا، مہنگی بجلی بنا کر سستی بیچ رہے ہیں ، ایل این جی پر 15سال کا معاہدہ کریں ، اب مہنگی گیس لے رہے ہیں ، ان کے غلط معاہدے ہم بھگت رہے ہیں ، ماضی کی حکومتوں کے غلط معاہدوں اور کاموں کا جواب ہم سے مت مانگیں ، ہم نے 20ارب ڈالر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم کر کے 3ارب ڈالر پر لے آئے ہیں ، پرائمری خسارہ بیلنس کردیا ، آرمی نے اخراجات کم کئے جبکہ بھارت اخراجات بڑھا رہا ہے ، غربت سے نکلنے کےلئے احساس پاکستان کی تاریخ کا بڑا پروگرام ہے ، کرونا کے دوران اس کو بڑھایا ، کرونا سے پہلے ٹیکس کی گروتھ 17فیصد تھی ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضادہ ہوا، ترسیلات زر میں 3فیصد اضافہ ہوا، برآمدات ماہانہ بنیادوں پر بڑھ رہی تھی، ہماری معاشی ریٹنگ میں اضافہ ہوا، اب تک پانچ ہزار ارب روپے کے قرضے واپس کئے جو ماضی کی حکومت نے لئے تھے ، کرونا سے سب سے زیادہ منفی اثر سروس سیکٹرپر پڑا ، سیاست متاثر ہوئی ، کوشش ہے ایس او پیز کے ساتھ محدود سیاحت کھولیں ، ابھی تک کرونا سے کتنا نقصان ہوگا یہ اندازہ نہیں کر سکتے ، مکمل تیار ہیں اور رقم اس کےلئے محفوظ رکھی ہے ، کنسٹرکشن کی صنعت کو مراعات دینے کےلئے 30ارب رکھا ہے تا کہ ان لوگوں کےلئے گھر بنائیں جو آسانی سے گھر خرید سکیں ، زراعت کےلئے 50ارب رکھا ہے ، زراعت اور کنسٹرکشن پر پوری توجہ ہے ، چین سے بیچ کی پیداوار کےلئے ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ، صنعتوں کےلئے ہزاروں رامیٹریل سے ڈیوٹی ہٹا دی ہے تا کہ برآمدات میں اضافہ ہو، احساس اہم پروگرام ہے ، امیر اور غریب میں بڑھتا ہو افرق ترقی میں رکاوٹ ہے ، ایک کروڑ20لاکھ لوگوں کو مختصر وقت میں شفاف انداز میں رقم مشکل وقت میں تقسیم کرنا ایک ریکارڈ ہے ، اب اس کو بڑھا رہے ہیں اور ایک کروڑ60لاکھ لوگوں تک لے کر جا رہے ہیں اب تک ہم نے 200پناہ گاہ ہیں بنائی ہیں ، ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے ، انصاف کارڈ ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچا رہے ہیں ، سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے لوگوں کےلئے سب سے زیادہ فنڈ رکھے ، بلوچستان کو زیادہ پیسہ دے رہے ہیں ، بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے ، فاٹا میں عدم استحکام لانا چاہتا ہے ، مارچ2021تک یکساں نظام تعلیم لائیں گے ، دینی مدارس کو قومی دھارے میں لائیں گے ، امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں ، خارجہ پالیسی کامیاب ہے ، ماضی میں اتحادہ ہونے کے باوجود ایبٹ آپریشن ہوا، اسامہ بن لادن کو شہید کردیاگیا ۔ ہمیں ذلت کا نشانہ بنایا گیا ، ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے ، آج امریکی صدر ٹرمپ عزت دیتا ہے ، افغانستان میں تعان کی درخواست کرتا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ سعودی عرب اور ایران نے ہمیں صلح کرانے کےلئے کہا ، امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہیں ، کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت مواقع ہیں ، 5اگست کو کشمیر کو غیر قانونی طریقہ سے بھارت کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی ، اب بھارت آزاد کشمیر کو اپنا حصہ دیکھانے کی کوشش کر رہا ہے ، اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، ہم نے بھارت میں الیکشن ہونے کا انتظار کیا، کشمیر پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے ، بندوق کے زر پر تحریک روکی نہیں جا سکتی ، کرونا ختم ہوگا تو تحریک تیز ہوگی ، ریاست مدینہ کا فلسفہ نوجوانوں کو پڑھانا ہے ، جب تک ریاست احتساب نہ ہو غریبوں کو تعلیم اور صحت کیسے دے سکتے ہیں ، فلاں کی کمائی کا پیسہ باہر سے لایا اس کا بھی جواب دیا ، اقتدار میں رہنے والے جواب نہیں دیں گے تو عام آدمی کیسے دے گا ، چینی کی تحقیق کے دوران پتہ چلا چینی کی قیمت یہ طے کرتے ہیں ، انہوں نے29ارب سبسڈی دی اور9ارب ٹیکس دیا ، اپوزیشن کو سے کوئی دشمنی نہیں نہ بدلہ لینا چاہتا ہوں ، نیب میں نے نہیں بنایا ، سیاسی انتقام نہیں ہو رہا ، تمام اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں ، اگر احتساب نہیں ہوگا تو ملک بنانا ری پبلک بن جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*