مجھ سے 7 ارکان قومی اسمبلی نے این آر او مانگا،مراد سعید کا انکشاف

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے انکشاف کیا ہے کہمجھ سے 7 ارکان قومی اسمبلی نے این آر او مانگا، ایک اس وقت یہاں اجلاس میں بیٹھا ہے،یہاں پرمنتیں اورپیچھے سازشیں کرتے ہیں،ڈاکٹر عباداللہ سے دس کروڑ قوم کا نکلوا چکا ہوں ،66کروڑ پر حکم امتناعی ہے ،اگر میں برا ہوں تومیرے گھر کے باہر آکر منتیں کیوں کررہے تھے،میرے والد کی منتیں کیوں کررہے تھے،اگر میں اتنا برا ہوں تو میرے گھر جرگہ لیکر کیوں آئے ، ارلیمنٹ میں ذاتیات پرتقاریرکی گئیں،میری تقاریرسخت ہوسکتی ہیں مگرکسی پرذاتی حملے نہیں کیے،سیاسی مخالفت کے نام پرمیرے خاندان کی تضحیک کی گئی،ابھی چار لوگوں کو ایکسپوز کیا میں 30 لوگوں کو ایکسپوز کرسکتا ہوں،اگر میرے سر پر گولی بھی رکھ دیں سٹیٹس کو حصہ نہیں بنوں گا ،جتنی گالیاں دو گے اتنا ہی آگے بڑھوں گا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مرواد سعید کو جواب دینے کیلئے مائیک مانگا مگر پینل آف چیئر نے انہیں بولنے کی اجازت نہ دی۔بدھ کو نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مرادسعید نے کہا کہ میں اپنی ذاتی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ،21 تقریروں میں اپوزیشن نے مجھے اور میرے قائد کو نشانہ بنایا گیا ،جب تحریک انصاف بنی تو عمران خان کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کیا گیا ،کینسر کے مہلک مرض کے خلاف ہسپتال بنایا پھر بھی تنقید کی گئی ،وزیر اعظم نے کوئی کیمپ آفس رکھنے کی بجائے اپنے گھر میں رہائش رکھی ،جب کرنے کو کوئی بات نہیں ملی تو ذات کو نشانہ بنایا ،ذاتی حملہ کسی پر نہیں کروں گا ،جب میں اپوزیشن میں تھا ان کے ساتھ تھا تو میری تعریفیں کررہے تھے ،میری ساری تقریریں نکلوائیں ایک ایک لفظ نکلوائیں میں نے کسی کی ذات کو نشانہ بنایا ہو ، شازیہ مری نے اس دن مجھے کہا چیئرمین بلاول تقریر کریں گے مگر آپ ذرا گزارا کرلینا ،میں نے کہا دلیل سے بات کروں گا ،میں نے تقریر کا جواب دیا ،ان کے سوشل میڈیا نے میرے خلاف مہم چلائی گئی ،میں ان سے زیادہ سوشل میڈیا مہم چلو آسکتا ہوں مگر نہیں چلائی ،مجھے فروٹ بھجوائی گئی ،دوسری پار ٹی کے7 ارکان نے این آراو مانگا ، ایک ایم این اے نے سڑک کا پیسہ کھا لیا، سڑک نہیں بنائی۔ ان کا سینئر رہنما مجھے گالیاں دینے والے رکن کے خلاف کرپشن کی فائلیں لایا۔ڈاکٹر عباداللہ سے دس کروڑ قوم کا نکلوا چکا ہوں ،66کروڑ پر حکم امتناعی ہے ،میرے گھر کے باہر آکر منتیں کیوں کررہے تھے،میرے والد کی منتیں کیوں کررہے تھے،اگر میں اتنا برا ہوں تو میرے گھر جرگہ لیکر کیوں آئے ،جب ریکوری ہو رہی تھی تو ا±نکے گھر والے میرے گھر کے سامنے رات بارہ بجے تک کیوں کھڑے رہے،میں نہیں ملا تو جرگہ لیکر میرے والد کے پاس کیوں گئے،اگر آپ نے کرپشن نہیں کی تو میرے پاس آکر مینتیں کیوں کرتے ہیں،میں بات کرنے کے لیے ا±ٹھا تو مجھے گالیاں دی گئیں ،تو میں نے پیپلزپارٹی کے سینئر رکن کو کہا کہ ا±نکو گالیاں دینے سے منع کریں ،تو وہ سینئر رکن کہتے ہیں کہ آپ کیس نہیں بناتے تو گالیاں کھائیں ،کیا یہ طریقہ ہوتا ہے،ورکرز کا کوئی قصور نہیں انہیں قیادت جو کہتی وہی کرتے ہیں ،میرے مخالف کو فون کرکے میرے بارے میں معلومات پوچھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ وہ ا±سی گھر میں رہتا ہے جہاں سات سال قبل رہتا تھا ،اب اگر میرے لیڈر کے بارے میں تضحیک کی تو پھر ایکسپوز کروں گا ،ابھی چار لوگوں کو ایکسپوز کیا میں 30 لوگوں کو ایکسپوز کرسکتا ہوں،میں نے آڈٹ درست کیا ہے تو مجھے پیچھے نہیں ہٹنا ،اگر میرے سر پر گولی بھی رکھ دیں سٹیٹس کو حصہ نہیں بنوں گا ،جتنی گالیاں دو گے اتنا ہی آگے بڑھوں گا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج کیا اور بات کرنے کیلئے مائیک مانگا۔شگفتہ جمانی نے کہا کہ ایوان میں بات نہیں کرنی دی جا رہی،ہماری دل آزاری کی جاتی ہے۔اس پر پینل آف چیئر امجد نیازی نے کہا کہ شازیہ مری ایوان میں موجود نہیں،وہ آہیں گی تو خود بات کریں گی ،شازیہ مری کا نام مراد سعید نے لیا ہے، وہ آئینگی تو ذاتی وضاحت ضرور دے سکتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*