سینیٹ میں اپوزیشن نے بجٹ کو ناکام حکومت کا عوام دشمن بجٹ قرار دیدیا

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں اپوزیشن نے بجٹ کو ناکام حکومت کا عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرانوں پر بحران پیدا ہو رہے ہیں، آخر غریب عوام جائے تو جائے کہاں؟ امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، غریب کا کیا قصور ہے ان کے لیئے روزگار کے مواقع بالکل ختم ہو گئے ہیں،مہنگائی میں اضافہ دھڑا دھڑ ہو رہا ہے، حکومت کوویڈ کے پیچھےچھپ رہی ہے،اس حکومت میں مافیاز کا اضافہ ہو رہا ہے،اب تیل کا بھی مافیا آگیا ہے وہ کہاں سے آیاہے، 18ویں ترمیم پر بحث کا غلط وقت ہے،این ایف سی کی بات ہو رہی ہے، صوبوں کا حق نہیں مارنا چاہیئے، بھارت کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بننے پر اعتراض بھی نہیں اٹھایا گیا، بھارت کو واک اوور دیا گیا، ایک طرف مودی کو احساس پروگرام کے حوالے سے مدد کی آفر کی جارہی ہے دوسری طرف وزیر اعظم  سندھ جاکر وزیر اعلی سندھ مرادعلی شاہ سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے، ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران سینیٹرز مشاہد حسین سید، ستارہ ایاز، کرشنا کماری اور عابدہ عظیم نے کیا۔جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری نے کہا کہ یہ ناکام حکومت کا عوام دشمن بجٹ ہے، بحرانوں پر بحران پیدا ہو رہے ہیں، آخر غریب عوام جائے تو جائے کہاں؟ ان سے پیٹرول بھی دستیاب نہیں ہو رہا ہے، کورونا کے شکار لوگ کی تعدا ڈیڑھ لاکھ سے اوپر ہو گئی ہے، کرشنا کماری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے نیازی حکومت کو آئینہ دکھایاہے، وزیراعظم کہا کرتے تھے وزیراعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی میں تبدیل کروں گا، ایچ ای سی کے فنڈز میں کٹوتی کر دی گئی ہے ،پاکستان زرعی ملک ہے، این ایف سی کے حوالے سے صوبوں کے شیئر میں کٹوتی کی گئی ہے سندھ کے ترقیاتی پروگرام بہت متاثر ہوئے ہیں،بجٹ میں تھر پارکر اور سندھ کو نظر انداز کیا جاتا ہے، سندھ کو حصے کا پانی پورا نہیں مل رہا، مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین نے بھارت کو سبق سکھایا ہے،مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہر بجٹ کی بنیاد ریونیو پلان ہے، گردشی قرضہ ریکارڈ 1.8 ٹریلین پر ہے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت کو واک اوور دیاگیا، بھارت کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بننے پر اعتراض بھی نہیں اٹھایا، ایک طرف مودی کو احساس پروگرام کے حوالے سے مدد کی آفر کی جارہی ہے کہ  دوسری طرف وزیر اعظم  سندھ جاکر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ اس حکومت میں مافیاز کا اضافہ ہو رہا ہے،اب تیل کا بھی مافیا آگیا ہے وہ کہاں سے آیاہے، 18ویں ترمیم پر بحث کایہ وقت غلط ہے، این ایف سی کی بات ہو رہی ہے، صوبوں کا حق نہیں مارنا چاہیئے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ ٹائیگر فورس پیپر ٹائیگرز ہیں،  ابھی تک کورونا پر غلط پیغام دیا گیا ہے، سیمنٹ کی سیل 37 فیصد کم ہو گئی ہے،سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ لگ رہا ہے یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، مہنگائی میں اضافہ دھڑا دھڑ ہو رہا ہے، کوویڈ کا بہت بڑا مسئلہ ہے،خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں آکسیجن نہیں ہے، پمز میں بھی کوئی چیز نہیں ملے گی، ترقیاتی فنڈز کو ہسپتالوں اور تعلیم کی طرف لگانا چاہیئے،حکومت باہر سے لوگوں کو لانے میں فیل ہوچکی ہے، این ایف سی ایوارڈ پر بہت باتیں ہو رہی ہیں چھوٹے صوبے بہت متاثر ہو رہے ہیں، جس صوبے کو ضرورت ہو اس کو زیادہ پیسے دیئے جائیں،اس پر ضرور بات ہونی چاہیئے، سادگی ہونی چاہیئے لیکن نظر نہیں آرہی امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، غریب کا کیا قصور ہے ان کے لیئے روزگار کے مواقع بالکل ختم ہو گئے ہیں، حکومت کو چاہیئے جلد اس پر کام کرے، سینیٹر عابدہ عظیم نےکہا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،حکومت کوویڈ کے پیچھےچھپ رہی ہے،ٹڈی دل سے 45 اضلاع متاثر ہیں ،حکومت نے اعلی تعلیمی اداروں پر دس فیصد ٹیکس لگایا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*