کرونا اور وینٹی لیٹر

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
رات کے آخری پہر جب گلی کی ساری بتیاں کرونا کے خوف اور گرمی کی چادر اوڑھے سو چکی تھیں۔ گرم ہواﺅں نے دن بھر کے تھکے ماندے انسانوں کو تھپک تھپک کر گہری نیند سلا دیا تھا۔ میں بھی حسب معمول عبادت او رطویل مراقبے کے بعد سونے کے لیے بستر پر لیٹ گیا۔ میرے بوجھل اعصاب جلد ہی مجھے نیند کی وادی میں لے گئے مجھے سوئے ہوئے ابھی شاید چند گھڑیاں ہی گزری تھیں کہ تیز شور بلند ہوا۔ جیسے ہی میرے حواس بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ کوئی بہت شدت اور زور سے دستک دے رہا تھا اور یہ عمل وہ تواتر سے دہرائے جا رہا تھا۔میرا نیند کا خمار کچھ کم ہوا اور جب اعصاب قدرے بحال ہوئے تو میں تیزی سے بیڈروم سے نکل کر مین گیٹ کی طرف گیا۔ کیونکہ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے ذرا بھی دیر کر دی تو شور سے گھر والوں کے ساتھ ساتھ اہل محلہ بھی جاگ جائیں گے۔
میں نے تیزی سے جا کر دروازہ کھولا تو میرے سامنے دو دیہاتی وضع قطع کے نوجوان لڑکے کھڑے تھے مجھے دیکھتے ہی وہ تیزی سے میری طرف بڑھے اور بولے جناب عبداللہ بھٹی صاحب آپ ہیں وہ پنجابی زبان میں بات کر رہے تھے میرے اقرار کرنے پرہاتھ جوڑتے ہوئے بولے جناب ہمارے والد صاحب کی طبیعت بہت خراب ہے ڈاکٹروں نے ہمیں جواب دے دیا کسی ہسپتال میں کوئی جگہ خالی نہیں ہے کسی نے ہمیں آپ کا بتایا تو دم کرانے آپ کے پاس آگئے ہیں۔ وطن عزیز میں جب بھی بیماری پرانی اور پیچیدہ ہوتی ہے یا لاعلاج شکل اختیار کر جاتی ہے تو بے بس لا چار مریض اور لواحقین بزرگوں درویشوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ میرے ساتھ اکثر یہ حادثہ ہو تا رہتا ہے جب لوگ رات کے کسی بھی وقت آکر دعا اور دم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ مریض ساتھ ہی کھڑی پک اپ میں ہے لہٰذا میں پک اپ کی طرف بڑھا جہاں پر تقریبا پچاس سالہ شخص لیٹا ہوا تھا بیٹے نے موبائل فون کی روشنی اپنے والد کے چہرے پر ماری تو اسے دیکھ کر میں بھی لرز گیا اس شخص کی سانسیں بری طرح اکھڑی ہوئی تھیں اور وہ بڑی مشکل اور زور دار پھنسی ہوئی آواز کے ساتھ سانسیں لے رہا تھا۔
مریض کے چہرے پر وہ رونق بہت کم تھی جسے زندگی سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ مریض اور اس کے بیٹوں کے چہروں پر التجا کے تا ثرات نمایاں تھے مریض کے بدن پر لرزا طاری تھا اور شدت درد سے اس کے آنسو جاری تھے۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد اور حالت اتنی متغیر تھی کہ وہ برسوں کا بیمار نظر آرہا تھا جبکہ بیٹوں کے چہرے حسرت ویاس کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ مریض بولنے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن بیماری اور نقاہت کی وجہ سے ایک حرف بھی اس کے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہ ہو سکا۔اس کو دیکھ کر بیٹوں نے بھی رونا شروع کر دیا اور مجھے با ر بار کہہ رہے تھے کہ ان کے والد کو بچالیں شدت غم سے ان کی زبانوں سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کرادا ہو رہے تھے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ میری کیا اوقات ہے خدا سے تم بھی دعا کرو میں بھی کرتا ہو ں کیونکہ خدا ایک ہے وہی سب کا کارساز ہے کوئی بھی شے اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں دنیا کا ہر شاہ و گدا اس کا ہی محتاج ہے۔
اِنسان کے لیے اِس سے بڑی ذلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ خدا کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ لیکن میں نے ان کی تسلی کے لیے مریض کو دم کرنا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی اور یہ بھی پوچھا کہ ڈاکٹر کیا کہتے ہیں تو اس کا بیٹا بولا ڈاکٹر کہتے ہیں مریض کو وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے لیکن ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر ز کم ہیں کسی بھی ہسپتال میں وینٹی لیٹر تو دور کی بات وارڈ میں بھی جگہ نہیں ہے ہم تقریبا ً لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگا کر مایوس ہو کر آپ کی طرف آئے ہیں۔ ان کی تکلیف مجھ سے بھی برداشت نہیں ہو رہی تھی لہٰذا مجبوراً اتنی رات گئے میں نے اپنے چند ڈاکٹروں کو بھی فون کیا کسی نے تو فون اٹھایا ہی نہیں اور اکثر کے فون بند تھے اور اگر کسی نے اٹھایا بھی تو اس نے معذرت کی کہ ہسپتال میں موجود تما م وینٹی لیٹر ز مصروف ہیں اب کوئی مریض وفات پا جائے تو ہی چانس بنتا ہے مریض کے بیٹوں نے بتایا کہ پرائیوٹ ہسپتالوں کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔
مریض کی حالت اور بیٹوں کی تکلیف دیکھ کر میں بھی عجیب بے بسی اور لا چارگی محسوس کر رہا تھا۔ ایسے مشکل لمحات میں ہمیشہ قدرت نے عجیب و غریب انداز میں میری دستگیری کی ہے کیونکہ جن کا مشکل کشا خدا ہو تو ان کی راہ کے پتھر بھی پھول بنتے چلے جاتے ہیں مریض کے بیٹوں کے آنسوﺅ ں سے بھیگی آنکھوں میں التجا اور ان کی آواز اور چہروں پر پریشانی کے رنگ بہت گہرے ہو گئے تھے۔ اچانک ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح دماغ میں لپکا کہ چند روز پہلے ہی ایک مخیرآدمی نے مجھے کہا تھا کہ میرے پاس زکوة کے پیسے پڑے ہیں اگر کوئی ضرورت مند ہو تو مجھے ضرور بتایئے گا لہٰذا میں ایک امید اور اللہ کے سہارے اس کو فون ملا دیا کیونکہ اللہ کی مدد آچکی تھی اس نے فون اٹھا لیا اور میری با ت سننے کے بعد کہا آپ فوری طور پر فلاں پرائیوٹ ہسپتال آجائیں میں بھی وہاں آرہا ہوں۔ میں نے اطمینان کی لمبی سانس لی کہ آج بھی اس زوال زدہ معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جن کو دوسروں کو درد محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ پوری انسانی تاریخ میں ایسے چند ہی لوگ نظر آتے ہیں جو صرف مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کے لیے دولت کماتے ہیں۔
خدمت خلق کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی اے اللہ مجھے وہ شخص بتلا جو تجھے مخلوق میں سب سے زیادہ پیارا ہے تو رب ِ بے نیاز نے فرمایا موسیٰ مجھے وہ شخص سب سے زیادہ پیارا ہے جو کسی مومن کو کانٹا لگنے کی خبر پا کر اِس طرح غمگین ہو کہ گویا خود اسی کو لگا ہے۔ ہم تیزی کے ساتھ ہسپتال پہنچے ہمارے جانے سے پہلے ہی وہ نیک آدمی آچکا تھا اور پیسے بھی جمع کرواچکا تھا۔ لہٰذا فوری طور پر مریض کو وینٹی لیٹر لگا دیا گیا مریض کی اکھڑی سانسیں نارمل ہو نا شروع ہو گئیں چہرہ اور جسم بھی آرام دہ حالت میں آتاگیا۔ مریض اور اس کے بیٹوں کے چہرے نا قابلِ بیاں خوشی اور طمانیت کے احساس سے تازہ اور روشن ہو چکے تھے۔محترم قارئین ایسے بے شمار مریض روزانہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔جناب وزیر اعلیٰ عثمان بزدارصاحب سے درخواست ہے کہ انسانی زندگی سب سے قیمتی ہے۔
خدارا ہمارے وسائل یا بجٹ کا بڑا حصہ محروم طبقات کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ کریں۔ آج ملک کے طول و عرض میں کرونا کی وجہ سے مفلس فاقہ کش بے وسیلہ لوگ انتہائی ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ انسانیت سوز عوام کش نظام کی تبدیلی اب بہت ضروری ہو گئی ہے یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں زندہ رہنے کے لیے کچھ با اثر لوگوں کو دوست یا خوشامد کرنا پڑتی ہے۔ آج وقت کی چند ساعتیں اگر آپ کے اختیار میں ہیں تو اللہ کا انعام سمجھ کر خود کو تاریخ میں امر کر لیں۔ کیونکہ اللہ بندوں کو مایوس کرنے والے لوگ تاریخ کی بجائے کوئز بکس میں زندہ رہتے ہیں۔آپ کی یہ مقبولیت پانی کے بلبلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خدا کے لیے اللہ کے دئیے ہوئے اِس موقع سے فائدہ اٹھالیں اور تمام ہسپتالوں کو کم از کم اتنے زیادہ وینٹی لیٹر ز دے دیں کہ کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر کے لیے سڑکوں پر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے درمیاں دوڑتے ہوئے اپنی جان نہ گنوا دے جس کے ذمہ دار روزِ محشر آپ ہونگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*