جسم میں پانی کی کمی سے بچیں

ڈی ہائیڈریشن۔(جسم میں سے پانی کا زیادہ مقدار میں اخراج ہونا جس سے جسم کے پانی کو زیادہ مقدار میں کمی واقع ہو جائے) ایک ایسا گھناو¿نا عمل ہے کہ جب بھی ہم سارے جسم کی مطلوبہ مقدار میں پانی کی طلب کو پورا کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں تو یہ ہم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ڈی ہائیڈریشن کی بدولت کاہلی، بے حسی اور تکان غالب ہو جاتے ہیں۔
ہائیڈریشن بذات خود زندگی کا ایک نازک جزو ہے اور ہمارے جسمانی وزن کا صرف ایک یا 2فیصد پانی ضائع ہونا بھی ہماری کارکردگی کو بگاڑ سکتا ہے۔دونوں قسم کی کارکردگی کو یعنی ذہنی بھی اور جسمانی بھی۔مختلف مطالعوں سے ظاہر ہوا ہے کہ پانی کی مقدار کا 7فیصد جزا گر کم ہو جائے تو وہ ہمارے نازک اندرونی توازن میں خلل پیدا کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں پورا جسم مضمحل ہو جاتا ہے اور ہاتھ پیر جواب دے جاتے ہیں۔
اوسطاً ایک بالغ مرد کو روزانہ 12کپ مائع کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایک عورت کو 9کپ کی ضرورت ہوتی ہے۔جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں یا نا سازگار گرم ماحول میں رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی پانی پینے کی مقدار میں اضافہ کرلیں۔آئڈیل کے طور پر 10گلاس پانی کی روزانہ مقدار جسم کو مناسب پانی فراہم کر دیتی ہے۔مکمل طور پر ہائیڈریٹڈ رہنے یعنی جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار کو پورا رکھنے سے جسم کا الیکٹرو ولائٹ توازن بھی بر قرار رہتا ہے۔
اس کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر زیادہ سے زیادہ مطالعے یہ تجویز کر رہے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے اپنی ذاتی ”ہائیڈریشن جہنم“ میں رہ رہے ہیں اور پس فوڈ کو ڈی ہائیڈریشن کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ڈی ہائیڈریشن سے بچاو¿ کے لئے ذیل میں چند گرکی باتیں بتائی جارہی ہیں۔آپ آسانی کے ساتھ جسم میں پانی کی موجودگی مقدار کے بارے میں خود تجزیہ کر سکتے ہیں۔
اس کے لئے آپ کو پیشاب کا جائزہ لینا ہو گا۔اگر پیشاب کی رنگ گہرے سنہرے رنگ کی ہے تو یہ اس بات کا یقینی اشارہ ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار کم ہے۔اس لئے خاصا پانی پئیں خاص طور پر جب ورزش کر رہے ہوں تاکہ تقریباً صاف اور بے رنگ پیشاب آئے۔
پانی کو اپنی زندگی کا ایک لازمی جزو بنانا ایک اچھی صحت مندانہ عادت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ہائیڈریشن ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔
اس لئے صرف پیاس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ جب بہت پیاس لے تو پانی پی لیا۔اس طرح سے اس بات کا امکان رہتا ہے کہ آپ اپنی ضرورت کا صرف 50تا 70فیصد پانی حاصل کر سکیں گے۔
جسم میں پانی کی مقدار کا انحصار جسمانی وزن پر بھی ہوتا ہے۔150پونڈ وزنی فرد جب ورزش سے خوب پسینہ بہاتا ہے اور اپنا وزن 3پونڈ کم کرا لیتا ہے تو وہ اپنے جسم کے وزن کا 2فیصد گنوا دیتا ہے اور یہ اس مقدار کے کافی سے زیادہ ہے کہ جو جسمانی اور شعور کے عمل پر الٹا اثر کرتی ہے۔
صحت کے محقق اکثریہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہم ورزش سے کم ازکم 1گھنٹہ سے 2کپ مائع ،ترجیحاً پانی پئیں اور 15 سے 20منٹ کی ورزش کے لئے 1/2کپ یا اس سے زیادہ مقدار پئیں۔ہمارے جسم میں پانی کی اہمیت کی جانچ اس حقیقت سے کی جا سکتی ہے کہ انسانی جسم خون کا 92فیصد، مغز کا 75فیصد، مسلز کا 75فیصد اور ہڈیوں کا 72فیصد تشکیل کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فطرت نے بھی پانی کو وافر مقدار میں مہیا کیا ہے۔
زمین کی70فیصد سے زیادہ سطح زیر آب ہے(اس میں سے بیشتر پینے کا ناقابل نمکین پانی ہے) جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پانی دنیا کے انتہائی عام مادوں میں سے ایک ہے۔اس کے باوجود بھی ہم میں سے کئی ایک اس کی اہمیت سے نا واقف ہیں۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر آبادی میں کثرت سے اضافہ لوگوں کو پینے کے محفوظ پانی کی طرف راغب کر رہا ہے۔لوگوں کی اکثریت میونسپلٹی کی جانب سے ملکوں میں فراہم کئے جانے والے پانی کے مقابلے میں بوتل کے پانی کی جانب مائل ہو رہی ہے۔
منرل واٹر کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔کئی بڑی کمپنیاں بھی اس کھینچا تانی میں کچھ نہ کچھ ہاتھ آنے کے چکر میں منرل واٹر بنانے کے لئے میدان میں کود پڑتی ہیں۔
لوگ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ بوتلوں میں بند دستیاب پانی میں 2.5فیصد تا 40فیصد پانی اسی ایک ذریعہ سے آتا ہے۔یعنی نلکے سے!
جو کچھ بوتل کے اندر ہوتا ہے وہ عام پبلک کے پینے کے پانی سے زیادہ محفوظ نہیں ہو سکتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ منرل واٹر مہنگا ہے اور عام آدمی اس کے باقاعدگی سے استعمال کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔
اس میں سب سے زیادہ اہمیت کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ ہم پانی کی مناسب مقدار پئیں تاکہ پھر تیلے ،چست اور مضبوط وتوانا رہیں۔
صحت مندانہ ہائیڈریشن کے لگے بندھے اصول نہیں ہیں۔عام روٹین میں پانی پینے اور مقررہ مقدار میں پانی پینے سے ڈی ہائیڈریشن کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
ورنہ بعض اوقات ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک میں پانی پینے کی عادت کو پختہ بنایا جائے تا کہ ہر ایک یہ ذہن نشین کرلے کہ اسے پانی ضرور پینا ہے چاہے پیاس لگ رہی ہویا نہ لگ رہی ہو۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ آپ پانی کی بوتل ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں۔اس طرح آپ کے پاس پانی پینے کا مستقل ذریعہ بھی رہے گا اور آپ کو ترغیب بھی ملے گی کہ آپ پانی پئیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*