تعلیمی ادا رے کھو لنے کا فیصلہ مشا ور ت سے ہو گا

گذشتہ رو ز صو بائی وزیر تعلیم بلوچستان سر دا ر یا ر محمد رند نے اپنے ایک انٹر و یو کے دور ان یہ وا ضح کیا کہ تعلیمی ادا رے کھو لنے کا فیصلہ چا رو ں صو بوں کی مشا ور ت سے ہو گا انہو ں نے بتا یا کہ کو رونا وا ئر س کے باعث ڈھا ئی تین ما ہ سے بند تعلیمی اداروں کی بند ش کا احسا س ہے مگر یہا ں یہ صو رتحال وا ضح کر نا چا ہتا ہو ں کہ یہ اقد ام بچو ں کی صحت کے پیش نظر کیا گیا کیو نکہ ہمیں اپنے بچو ں اور اسا تذ ہ کی زند گیا ں بہت ہی عز یز ہیں انہو ں نے دو ٹو ک الفا ظ میں بتا یا کہ نجی سکولز کو چند پیسو ں کی خاطر بچو ں کی زند گیو ں سے کھیلنے نہیں دیں گے اس لیے تعلیمی ادا روں کے کھو لنے سے متعلق فیصلہ با ہمی مشا ور ت سے کیا جا ئے گا۔
صو بائی وزیر تعلیم بلوچستا ن سر دا ر یا ر محمد رند کا مذکو رہ بیا ن قا بل تعر یف ہے کیو نکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے جو مستقبل کے معما ر ہیں کی زند گیو ں سے کھیلنے کی کوئی بھی کو شش قا بل مذمت ہے کیو نکہ ان ہی نو نہا لو ں نے ملک کی با گ دوڑ سنبھا لنی ہے اگر خد ا نخو استہ یہ ہی نہیں ہو ں گے تو ملک کے مستقبل کا کیابنے گا اس وقت پا کستا ن سمیت دنیا کے اکثر مما لک میں کو رونا وا ئر س جیسی مو ذ ی بیما ری نے اپنے پنجے گا ڑھے ہو ئے ہیں جو زیا دہ تر بچو ں اور بو ڑ ھو ں کو اپنا نشا نہ بنا تی ہے کو اس طرح اپنے بچو ں کو اس کے حوالے کرنا کوئی د انشمند ی نہیں ہے کیو نکہ ان بچو ں کی جا ن کی حفا ظت ضروری ہے اگر جا ن بچے گی تو تعلیم کا ہو نیو الا نقصا ن پو ر ا ہو جا ئے گا لیکن اگر خد ا نخو استہ جا ن چلی گئی تو اس کا ازا لہ نا ممکن ہے۔
جہا ں تک پر ائیو یٹ سکو لو ں کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عر ض یہ ہے کہ انہو ں نے تعلیم کو ایک منا فع بخش کا رو با ر اور اس کو ایک صنعت بنا لیا ہے اس کامقصد تعلیم کی رو شنی پھیلانا نہیں بلکہ اپنا کا رو با ر کر نا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ با ر با ر تعلیمی ادا رے کھو لنے کی ڈیڈ لائن دیتے رہتے ہیں جو کہ یقینا قا بل مذمت اقد ام ہے ا ن کو اپنے ما لی نقصا ن کی فکر ہے مستقبل کے معما رو ں کا کوئی خیا ل نہیں ہے گذشتہ دنو ں سند ھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے اپنے ایک بیا ن میں کہا تھا کہ اگر ہمیں تعلیمی ادا رے 5 سا ل تک بھی بندکر نے پڑ ے تو کر یں گے لیکن بچو ں کے مستقبل پر کوئی سمجھو تہ نہیں کر یں گے ا ن کا یہ بیا ن قا بل تعر یف ہے یہا ں کے پر ائیو یٹ سکو لز والو ں کی اس کی تقلید کر نی چا ہیئے۔
جہا ں تک پر ا ئیو یٹ تعلیمی ادا روں کی معا شی حا لت خر اب ہو نے اور دیگر مسائل کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ پو ز یشن وا ضح کر تے جا ئیں کہ چو نکہ انہو ں نے تعلیم کو ایک کا رو با ر کا در جہ دیا ہے اس لیے کا رو با ر میں تو نفع اور نقصا ن دو نو ں ہو تے ہیں اس لیے ان کو یہ بر دا شت کر نا چا ہیئے اس کے لیے بچو ں اور اسا تذ ہ کو قر بانی کا بکر ا نہیں بنا نا چا ہیئے اس کےسا تھ سا تھ ا ن کو اپنے سٹا ف کو تنخو اہیں بھی دینی چا ہئیں کیو نکہ وہ ان کے ملا زم ہیں اور انہو ں نے ان کو پیسے کما کر دیئے ہیں اس طرح ہم حکومت سے بھی اس سلسلے میں مطا لبہ کرتے ہیں کہ وہ چھو ٹے تعلیمی نجی ادا رو ں کی ما لی امد اد ضرور کر ے کیو نکہ ا ن کے وسا ئل کم ہو تے ہیں جبکہ اس کے مقا بلے میں بڑ ے ادا رے یہ نقصا ن بر دا شت کر سکتے ہیں ان کو صبر کا دامن ہا تھ سے نہیں چھو ڑنا چا ہیئے اور حا لا ت کا مقا بلہ جو ا نمر دی سے کر نا چا ہیئے کیو نکہ ایسا ہو تا رہتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*