ٹڈ ی دل کے تد ا رک کیلئے سپر ے جا ری اور کو رونا وا ئر س کی صو رتحال

گذشتہ رو ز ایک پر یس کا نفر نس سے خطا ب کے دوران تر جما ن حکومت بلوچستا ن لیا قت شا ہو انی کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کے تد ار ک کیلئے صو بے کے مختلف علا قو ں میں سپر ے جاری ہے اس طرح پا ک فو ج کے تعا ون سے فضا ئی سپر ے بھی کیا جا ئے گا انہو ں نے وا ضح کیا کہ اگر کو رونا وا ئر س سے متعلق ایس او پیز کا خیا ل نہ رکھا گیا تو سما رٹ لا ک ڈا ﺅ ن ختم کر نے پر غو ر کیا جا سکتا ہے کو رونا وا ئر س میں مبتلا افر اد کی شر ح دو ر و ز میں کم ہو ئی ہے وا ئر س کے پھیلا ﺅ کا 32 فیصد کم ہو کر 22 فیصد پر آنا خو ش آئند ہے پٹر ول کی قلت کے خا تمے کے لیے وفا ق کو لکھا ہے انہو ں نے وا ضح کیا کہ وفا قی پی ایس ڈی پی میں بلوچستا ن کا 16 فیصد ہے۔
ٹڈی دل کے تد ارک کیلئے صو بے کے مختلف علا قو ں میں سپر ے کا جا ری ہونا بلا شبہ حکومت کا ایک قا بل تعر یف اقد ام ہے کیو نکہ ٹڈ ی دل نے اب تک بڑے پیما نے پر فصلو ں کو تبا ہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے زمیند ا رو ںکو بہت ہی زیا دہ نقصا ن ہو ا ہے اور وہ شد ید معا شی صورتحال سے دو چا ر ہو گئے ہیں کیو نکہ کسی بھی فصل کی تیا ری میں ایک عر صہ لگتا ہے جس کے بعد اس پر محنت کر نے والا کا شتکا ر اس کا پھل پا تا ہے اور ا س طرح یہ ا س کا ذر یعہ معا ش ہے لیکن وہ اس طرح اچا نک چھین جانا اس کے لیے بہت ہی تکلیف دہ عمل ہے کیو نکہ وہ اس کے حصو ل کے لیے پو ر ا سا ل محنت کر تا ہے اور اگر اس کو محنت کا صلہ نہ ملے تو یہ یقینا دکھ والی با ت ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ صو بائی اور وفا قی حکومت کو مل کر ٹڈی دل کے خا تمے کیلئے اقد ا ما ت کر نے چاہئیں اگر وہ ایسا نہیں کر پا تے تو ملک کے کسا ن فا قے کرنے پر مجبو ر ہو جا ئیں گے اس سلسلے میں نہ صر ف فضا ئی سپر ے کو بھی جلد از جلد شر وع کیا جا ئے بلکہ اس کی رو ک تھا م کے لیے دیگر اقد اما ت بھی کئے جائیں۔
جہا ںتک کورونا وا ئر س کا تعلق ہے تو یہ صورتحال بھی گھمبیر ہو تی جا رہی ہے جس تیز ی سے مر یضو ں کی تعد اد بڑ ھ رہی ہے اور سا تھ سا تھ امو ات بھی بڑ ھ رہی ہیں بلاشبہ ایک بڑی تشو یشنا ک با ت ہے اس لیے اس پر بھی قا بو پانے کیلئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو جا نفشا نی سے اپنے فر ائض انجا م دینے چا ہئیں اس میں سب سے بڑ ا اور اہم کر دار عو ام کا ہے اس کو اس مو ذی بیما ری سے نجا ت پا نے کے لیے احتیا طی تد ابیر اختیا ر کر نی ہو ں گی کیو نکہ اس کے بغیر اس مو ذی مر ض سے بچا ﺅ ممکن نہیں ہے اس مو ذ ی مر ض نے اب ملک بھر میں اپنے پنجے پو ری طر ح گا ڑ ھ لیے ہیں اور رو ز بر وز ہلا کتو ں کی تعد اد بھی بڑھ رہی ہے اس لیے اگر عو ام نے احتیا طی تدا بیر کو نظر اند از کیا تو اس کی جانو ں کوشد ید خطرہ لا حق ہے۔
صو بے میں پٹر ول کی قلت کا ہونا افسو س اور دکھ کی با ت ہے اس سلسلے میں حکومت اور متعلقہ ادارو ں کو اپنے فرا ئض سے غفلت نہیں بر تنی چا ہیئے کیو نکہ یہ عوام کی بنیا د ی ضرورت ہے اس لیے ا س کی بلا تعطل فر اہمی بہت ہی ضروری ہے جس کے لیے انتظا ما ت کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے سا تھ سا تھ وفا قی پی ایس ڈی پی میں بلوچستا ن کا جو 16 فیصد حصہ بنتا ہے وفا ق کو اس پر کوئی کسی قسم کا اعتر ا ض نہیں کرنا چا ہیئے بلکہ صو بے کو اس کا حصہ دینا چا ہیئے تا کہ وہ اپنے معا ملا ت بخو بی احسن چلا سکے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*