”خبروں کا بازار اور دکانِ مک مکا!“

اثر چوہان
معزز قارئین! پنجابی زبان کی ترکیب (اصطلاح) ” مک مکا “ کے معنی ہیں۔ ” سودا بازی“۔ اردو میں ”کچھ دو کچھ لو“ اور انگریزی میں “Give and Take”۔ پنجاب کی ایک خاتون نے اپنے محبوب سے کیا کہا ؟۔ ا±سے ایک ”سیاسی ماہِیا “ کی شکل دے کر میرے دوست ” شاعرِ سیاست“ نے یوں کہا کہ
چل سانگلہ ہِلّ ماہِیا !
“Give and Take” کرئیے!
اِیویں س±کّے تے ،نہ مِل ماہِیا!
جب نظریاتی طور پر دو مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے ”م±ک م±کا “ کرتی ہیں تو، دراصل وہ “Give and Take”۔ کی سیاست ہوتی ہے۔ ا±سے ” وصولی سیاست“ بھی کہا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور صدر جنرل ضیاء ا±لحق کے مارشل لاء کی پیداوار دو بڑی سیاسی جماعتوں ” پاکستان پیپلز پارٹی “ اور ” پاکستان مسلم لیگ (ن)“ کے قائدین محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے تمام اختلافات د±ور کر کے 14 مئی 2006ء کو لندن میں ” میثاق جمہوریت “ (Charter of Democracy) پر دستخط کر دئیے تھے لیکن، ا±سے ” م±ک م±کا “ کا نام نہیں دِیا گیا۔پھر صدر جنرل پرویز مشرف ی طرف سے “N.R.O” ( National Reconciliation Ordinance) کا اعلان کِیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو تو 27 دسمبر 2007کو راولپنڈی میں قتل کردِیا گیا لیکن ، مقتولہ و مرحومہ کے ”مجازی خ±دا “ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہوگئے، حالانکہ اپنی زندگی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنابِ زرداری کو اپنی پارٹی میں کوئی بھی عہدہ نہیں دِیا تھا، پھر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کبھی ”سانجھ“ ہوتی رہی اور کبھی باقاعدہ دشمنی۔ 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں بھی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف تھیں اور ا±ن کے قائدین جب بھی چاہتے ہیں وزیراعظم عمران خان اور ا±ن کی ” پاکستان تحریک انصاف “ کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں۔معزز قارئین! مَیں کئی بار لکھ چکا ہ±وں کہ ” علاّمہ اقبال جب وکالت کرتے تھے تو اپنی ضرورت کے مطابق مقدمات اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور فاضل مقدمات اپنے دوست و±کلاء اور شاگردوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف ا±ٹھایا تو اپنی ساری جائیداد کا ایک ٹرسٹ بنا کر ا±سے قوم کے نام کردِیا تھا۔ قائداعظم نے تو، تحریک ِ پاکستان میں اپنے شانہ بشانہ جدوجہد کرنے والی اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح (جنہیں جنوری 1965ءکے صدارتی انتخاب میں ” مفسرِ نظریہ پاکستان“ جنابِ مجید نظامی نے ” مادرِ ملّت? “ کا خطاب دِیا تھا )کو حکومت اور مسلم لیگ میں کوئی عہدہ بھی نہیں دِیا تھا اور پھر 16 اکتوبر 1951ء کو ”قائدِ ملّت“ وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد تو فوجی آمریت اور ” م±ک م±کا“ کی جمہوریت ہی قائم ہوتی رہی۔جاپان، گھریلو اخراجات میں ریکارڈ کمی
معزز قارئین! 4 اور 5 جون کو خبروں کا بازار کچھ اِس طرح کا تھا۔ اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی صدارت میں حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کہا کہ ” شریف فیملی کی چوری اور ” منی لانڈرنگ“ پکڑی گئی“۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سیّد شبلی فراز نے ایک نجی نیوز چینل سے خطاب کرتے ہ±وئے کہا کہ”وزیراعظم عمران خان کی حکومت ایسا ماحول چاہتی ہے کہ سب کام ” میرٹ “ پر ہوںلیکن ہماری حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے ، ورنہ ہم ملک کی قسمت بدل دیتے “۔پیرزادہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے ملک کی قسمت بدلنے کے لئے بیان جاری کِیا ہے کہ”بھارتی عزائم اور کشمیر سمیت قومی مسائل پر ہم نے میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو وزارتِ خارجہ میں مدّعو کِیا ہے اور اگر وہ دونوں حضرات نہ آا چاہیں تو مَیں ا±ن کے پاس جانے کو تیار ہ±وں“۔ ا±دھر امیر جمعیت علمائ اسلام (فضل ا±لرحمن گروپ) نے پھر ٹیلی فون پر میاں شہباز شریف سے رابطہ قائم کر لِیا ہے۔ یاد رہے کہ ” 4 ستمبر 2018ء کے صدارتی انتخاب میں فضل ا±لرحمن صاحب پاکستان مسلم لیگ کے صدارتی امیدوار تھے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے جناب عارف ا±لرحمن علوی نے ا±نہیں ہرا دِیا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن کو بھی۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ” ہر مسلم لیگ کی ک±رسی پر بیٹھنے والا خ±ود کو قائداعظم کا جانشین سمجھتا ہے“۔ میاں نواز شریف کے بعد میاں شہباز شریف کو بھی یہی خوش فہمی ( غلط فہمی ) ہے۔ فضل ا±لرحمن صاحب کے والدِ مرحوم مفتی محمود صاحب اور ا±ن کے ساتھی ” کانگریسی مولوی “ کہلاتے تھے جنہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مفتی محمود صاحب کا یہ بیان “On Record” ہے کہ ” ہم پاکستان بنانے کے گ±ناہ میں شامل نہیں تھے“۔ سوال یہ ہے کہ اب بھارت کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پھر ” م±ک م±کاکی سیاست “ شروع ہونے والی ہے؟۔ خبروں کے بازار میں شاہ محمود قریشی کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ” ا±نہوں نے تو” م±ک م±کا“ کی سیاست کی دکان کھول لی ہے؟۔معزز قارئین ! یکم جنوری 2019ء کو بلاول بھٹو زرداری کے دادا جی حاکم علی زرداری کی طرف سے کسی غیر ملکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہ±وئے قائداعظم محمد علی جناح اور ا±ن کے والد محترم جناب جناح پونجا کے خلاف جو، زبان درازی ، ہزیان گوئی، دریدہ دہنی، الزام تراشی ، بہتان اور تہمت کا مظاہرہ کرتے ہ±وئے جو رسوائی حاصل کی گئی۔ا±سے بلاول بھٹو زرداری کِس طرح صاف کریں گے اور شاہ محمود قریشی صاحب اپنی دکان کیسے چلائیں گے ؟ “

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*