جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی منزل‘ کرپشن فری پاکستان

تحریر ۔عاصم علی
ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری پاکستانی قوم کی آواز ہے کیونکہ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ بدعنوانی ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے، بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی کے بعد قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور اسے انسداد بدعنوان کا ایک فعال ادارہ بنانے کے لئے قومی احتساب بیورو میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے زیرو ٹالرینس اور خود احتسابی کی پالیسی اپنائی بلکہ کسی بھی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا جو عزم کیا اس پر قانون کے مطابق سختی سے عمل کرنے یقین رکھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نہ صرف زیروٹالرینس کی پالیسی اپنائی بلکہ کسی بھی دباﺅکو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق قومی احتساب بیورو پاکستان کو ایک متحرک ادارہ بنانے کا عزم کیا ہے جس کے لئے وہ دن رات کوشاں ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی سے ابتک قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال انتہائی ایماندار، قابل، میرٹ، غیر جانبداری، شواہد اور شفافیت کی بنیاد پر کسی بھی بدعنوانی کی درخواست پر بلاخوف اور بلاتفریق قانون کے مطابق کارروائی پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو پرپلڈ اٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا اعتماد 42 فیصد ہے جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں جن میں پولیس شامل ہے پر 30 فیصد ہے۔ مزید براں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، ورلڈاکنامک فورم، پلڈ اٹ اور مشال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ نیب نے شکایات کو جلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچر اور کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اور احتساب عدالت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے تقریباً (10) دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کو مزید موثر بنانے کے لئے سی آئی ٹی (CIT) کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے۔ نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری کے علاوہ پاکستان انٹی کرپشن ٹریننگ اکیڈمی اسلام آباد میں قائم کی ہے جس میں نیب کے انوسٹی گیشن افسران کو جدید خطوط پروائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کرنے کے لئے ٹریننگ دی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ قومی احتساب بیورو کے اس وقت ملک کی معزز احتساب عدالتوں میں 1229 بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جس کی کل مالیت تقریبا 900 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے تقریباً 178 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلا واسطہ اور بالواسطہ برا?مد کر کہ قومی خزانہ میں جمع کروائے ہیں جو کہ ایک مثالی کامیابی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کے ادارے قومی احتساب بیورو کے ساتھ چین نے انسداد بدعنوانی کے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں جو کہ پاکستان سمیت نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی اور ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے انسداد بدعنوانی کی جو حکمت عملی ترتیب دی اس کو بدعنوانی کے خلاف مو?ثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ نیب نے گزشتہ 28 ماہ میں جو اقدامات اٹھائے ان کی وجہ سے ا?ج کا نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے معتبر اور موثر ادارہ بن چکا ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال محنتی، ایماندار، دیانت دار، میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق کام کرنے والے افسروں کو شاباش دیتے ہیں بلکہ نااہل، بدعنوان افسران، اہلکاروں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹنے پر یقین رکھتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے گزشتہ 28 ماہ
کے اندر جہاں نے مختلف شکایات کا نہ صرف نوٹس لیا بلکہ تحقیقات کے بھی احکامات صادر کئے۔ جن میں پنجاب میں پبلک لمیٹیڈ 56 کمپنیوں،435 آف شور کمپنیر، فیک کرنسی اکاو?نٹس شوگر، چینی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی نجی ہاﺅسنگ سوساٹیوں/کوآپریٹو سوسائٹیوں کی طرف سے عوام کی لوٹی گئی اربوں روپے کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی شامل ہے۔ اسکے علاوہ مضاربہ/مشارکہ سکینڈل میں 45 ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ اشتہاری اور مفرور افراد کی گرفتاری شامل ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین نیب ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نیب کے دروازے عوام کیلئے کھولتے اور کھلی کچہری لگاتے ہیں تا کہ وہ عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات خود سنیں اب تک 3500 شکایت کنندگان سے کھلی کچہری میں چیئرمین نیب نہ صرف مل چکے ہیں بلکہ اب نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے ڈی جی بھی عوم کی شکایت ہر ماہ کی آخری جمعرات کو سنتے ہیں اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز میں گزشتہ 28ماہ کے اندر 29 ایگزیکٹو بورڈ میٹنگز کا اجلاس بلایا۔ نیب سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے‘ پاکستان سارک انٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ”احتساب سب کیلئے“ کا جو عزم کیا تھا اس پر زیروٹالیرنس اور خود احتسابی کی پالیسی کے ذریعے نہ صرف سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے گزشتہ 28 ماہ کے اندر ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کا ایمان اور منزل، کرپش فری پاکستان ہے۔ قومی احتساب بیورو نے جو نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ قومی احتساب بیوری کے افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تعیناتی سے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کیئے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کسی بھی مقدمہ میں ضمانت مذکورہ مقدمہ کا منطقی انجام نہیں ہوتا۔ نیب نے جن مقدمات میں ملزمان کی ضمانت ہوئی ہے ان کی ضمانت کے فیصلوں کے مصدقہ نقول کے حصول کے بعد معزز عدالتوں میں اپیلز دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ زیر سماعت مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ قومی احتساب بیورو چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی شاندار قیادت میں پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک ہم سب مل کر بدعنوانی کے ناسور کے خاتمہ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*