قدس ہمارا ہے!!!!!

تحریر:محمد اکرم چودھری
قدس ہمارا ہے کچھ نہیں کہ اس وقت دشمنان اسلام وہاں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، یقیناً یہ مسلم امہ کی اندرونی لڑائیوں، اختلافات اور سازشوں کا نتیجہ ہے۔ برسوں سے وہاں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کو اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ اس بارے امن عالم کے نام نہاد دعویداروں کی آنکھیں بند ہیں، دماغ سو رہے ہیں اور انہیں مظلوموں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی۔ امن عالم کے ٹھیکیداروں کو کیا کہنا اصل میں تو امت مسلمہ سوئی ہوئی ہے۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو اپنی حکومت ان کے دم قدم سے چلتی نظر آتی ہے جنہیں قرآن نے ہمارا دشمن قرار دیا ہے۔ سو جو حکمران اپنے دشمنوں کے پیچھے چل رہے ہیں ان سے قدس میں ہونے والے مظالم پر ردعمل کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ البتہ انہیں یاد دہانی ضرور کروانی چاہیے کہ اگر قدس میں ظلم ہو رہا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں تو اس بارے یقیناً اللہ تعالیٰ آپ سے پوچھے گا وہاں کیا جواب دیں گے۔ یہ حکومت، یہ اعزازات و مراعات اور شان و شوکت کسی قابل نہیں جب آپ قدس میں خونریزی کرنے والوں کے خلاف زبان نہ کھول سکیں، ا?واز بلند نہ کر سکیں اور وہاں مظلوموں کی مدد نہ کر سکیں۔
دیکھیں کیا ظلم ہے کہ اسرائیلی حکومت نے خطیب مسجد اقصیٰ شیخ عکرمہ صابری پر چار ماہ کے لیے مسجد میں داخلے پر ہی پابندی لگا دی ہے۔شیخ عکرمہ کی مسجد اقصیٰ میں داخلے کی پابندی کا یہ ظالمانہ حکم نامہ بیس ستمبر تک نافذ رہے گا۔ اس فیصلے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں۔ خطیب مسجد اقصیٰ کہتے ہیں کہ قابض حکام کا فیصلہ جابرانہ ہے۔اسرائیل واحد ملک ہے جوشہریوں کو اپنے آبائی شہروں سے بے دخل کرتا ہے۔ قابض اسرائیلی حکومت کسی نہ کسی بہانے سے مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے اور نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے لیکن ہم بھی مسجد اقصیٰ میں رہیں گے اور اس کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔
کیا مہذب دنیا میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ ایک خطیب کو مسجد بدر کر دیا جائے، کیا کبھی کسی پادری کو، پنڈت کو عبادت گاہ یا مندر میں داخلے سے روکا گیا ہے اگر کوئی انہیں نہیں روکتا تو پھر خطیب اور وہ بھی مسجد اقصیٰ کے خطیب کو مسجد بدر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ترک میڈیا اس واقعے کو رپورٹ کر رہا ہے۔ مذہبی، اصولی اور اخلاقی طور پر امت مسلمہ کو اس مسئلے پر آواز بلند اور احتجاج کرنا چاہیے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ہم تو کسی ایک مسجد سے بھی ہدف بنا کر کسی خطیب یا امام کو مسجد بدر کرنے کو برداشت نہیں کر سکتے نہ ہماری ایمانی غیرت یہ گوارا کرتی ہے نہ ہی ہمارا دماغ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتا ہے پھر یہ تو مسجد اقصیٰ ہے اس کے خطیب کو نشانہ بنا کر مسجد بدر کر دیا جائے اور ہم خاموشی سے دیکھتے رہیں یہ ممکن نہیں ہے۔ امت مسلمہ کو جاگنا چاہیے۔ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے آواز ضرور بلند کرنی چاہیے۔
اسرائیل کے مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ اس میں شدت آتی ہے وہاں مسلم بچوں کے چہرے دیکھ کر مسلم امہ کے حکمرانوں کو خیال نہیں آتا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ بچے جنت کے پھول ہیں۔ ہماری آنکھوں کے ڈامنے ان پھولوں کو مسلا جا رہا ہے اور ہم خاموش ہیں کیا بحثیت مسلمان ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اپنے بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور معصوم بچوں کی مدد کے لیے متحد ہو جائیں۔ کیا مسلم حکمران بھول چکے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہی حدیث مبارکہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں کہ جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ ہم آج یہ سبق بھلائے بیٹھے ہیں وہاں مسلمانوں کے گلے کٹ رہے ہیں اور ہم گونگے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ ہماری زبانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں، کیا ہمارے بازوﺅں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ مظلوموں کی مدد کریں۔ ترکی والے ارطغرل غازی پر ڈرامے بنا رہے ہیں ہم اس ڈرامے کو پی ٹی وی پر دکھا رہے ہیں کیا ارطغرل غازی کی قدس سے محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم خاموش بیٹھے رہیں اور مسجد اقصیٰ میں اس کے خطیب کا داخلہ ہی بند کر دیا جائے۔ ہم کب تک یہ ظلم برداشت کریں گے۔ مسلمان حکمرانوں کے لیے اب بھی وقت ہے کہ ذاتی اختلافات، مال کی محبت اور اقتدار کی ہوس کو چھوڑ کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ورنہ یہ جتنا ظلم ان کے سامنے ہو رہا ہے اس کا حساب انہیں دینا پڑے گا۔ اپنی عوام کو جواب دیں یا نہ دیں لیکن یہ یاد رکھیں اللہ کے حضور انہیں اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ وہاں کوئی سرکاری عملہ، وکیل یا جج کام نہیں آئے گا وہاں اعمال نامہ کھول کر دکھا دیا جائے گا، وہاں جسمانی اعضاء گواہی دیں گے جو یہ کرتے رہے ہیں۔ اس وقت واپسی کا راستہ نہیں ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ آخرت کے لیے کچھ کر جائیں۔ جاگ جائیں، جاگ جائیں، جاگ جائیں۔ ہوش کے ناخن لیں، متحد ہوں۔ کمزور معیشت کی دلیل پیش نہ کریں۔ اللہ کا نام لے کر اللہ کے نبی کا جھنڈا اٹھا کر میدان میں نکلیں۔ نیتوں کو صاف کریں مسلمانوں اور دنیا میں ہر جگہ رنگ و نسل، مذہب اور زبان سے قطع نظر مظلوموں کی مدد کے لیے کھڑے ہوں کچھ شک نہیں کہ مدد آئے گی، مدد آئے گی بس خود کو سدھار لیں۔
اللہ ہمیں فلسطین اور کشمیر دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، اللہ ہمیں اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، اللہ ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
ہمارے آرٹ ایڈیٹر حفاظت اللہ کا انتقال ہوا ہے وہ بالخصوص نائٹ شفٹ میں بہت متحرک کارکن تھے۔ ان کے انتقال پر دل دکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند فرمائے اور اہلخانہ کو صبر جمیلٍ عطاء فرمائے۔ ا?مین
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*