کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنانے پر رجب طیب اردوان کو سلام پیش کرتاہے،سپیکر قومی اسمبلی

speaker national assembly asad qaisar

اسلام آباد(آئی این پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پرمردمجاہد رجب طیب اردوگان نے دلیری اور بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی،کشمیر پر دو ٹوک موقف پر یہ ایوان، اہل کشمیر اور اہل پاکستان آپ کو اور آپکی قوم کو سلام پیش کرتا ہے،بھارت نے اپنے ہی آئین کو پامال کر کے کشمیر کو اپنی نو آبادی میں تبدیل کیا ، مہذب دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی،مودی سرکار کے ان ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے مظلوم کشمیری ہر طرح کے انسانی حقوق سے محروم ہیں ، گزشتہ چھ ماہ سے اس خطہ میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جس سے نیا عالمی ریکارڈ ہوگیا،ترک صدر نا صرف اہل پاکستان کے سچے دوست، اور قابل اعتماد بھائی ہیں بلکہ اسلامی دنیا کے حقیقی رہنما اور دانشور ہیں، اہل پاکستان کے دل ترک قوم کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ہماری تاریخ مشترک ہے، ہمارا مذہب ایک ہے، اور ہمارے ثقافتی و تہذیبی رشتے ہیں،اپکادورہ پاکستان ایک ایسے موقعہ پر ہو رہا ہے جب دنیا میں جنگ اور بدامنی کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیںاور عالمی دہشت گردی کی ستائی مسلم آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیز مذہبی منافرت کا سامنا ہے۔ جمعہ کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ ایک انتہائی اعزاز کا مقام ہے کہ میں اس معزز ایوان کو ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت سے متعارف کرواں جو نا صرف اہل پاکستان کے سچے دوست، اور قابل اعتماد بھائی ہیں بلکہ جو موجودہ اسلامی دنیا کے حقیقی راہنما اور دانشور ہیں۔انہوں نے ترک صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب صدر! 22 کروڑ غیور اور پ±ر عزم اہل پاکستان کا یہ منتخب اور نمائندہ ایوان آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔ اِس ایوان کوماضی میں بھی آپ کے محترم خیالات سننے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ہم آج بھی منتظر ہیں کہ بدلتے ہوئے بین القوامی منظر نامے میں اہل اسلام کے بہادر اور باوقار فرزند کے افکار سے استفادہ کریں۔صدر اردوگان آپ ا±س عظیم ترک قوم کے نمائندہ ہیں جس سے مسلمانانِ برصغیر کی جذباتی وابستگی ہم دونوں کی مملکتوں کے قیام سے بھی پہلے کی داستان ہے،ہمارے اجداد پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی کے مفادات پر آنے والی زد کے خلاف تحریک خلافت کے پرچم تلے متحد ہوئے اور ترکوں کے دفاع کو اپنا نصب العین بنا لیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ درحقیقت یہی تحریک خلافت تحریک پاکستان کا نقطہ آغاز تھی کیونکہ قومی حمیت اور وقار کا درس برصغیر کے مسلمانوں کو اسی تحریک خلافت سے ملا جو بالاخر قیامِ پاکستان کی صورت میں دنیا کے سامنے آشکار ہوا، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اہل پاکستان کے دل ترک قوم کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ہماری تاریخ مشترک ہے، ہمارا مذہب ایک ہے، اور ہمارے ثقافتی و تہذیبی رشتے ہیں۔ جناب صدر آپ کا موجودہ دورہ پاکستان ایک ایسے موقعہ پر ہو رہا ہے جب دنیا میں جنگ اور بدامنی کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیںاور عالمی دہشت گردی کی ستائی مسلم آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیز مذہبی منافرت کا سامنا بھی ہے۔ اسد قیصر نے ترک صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ گذشتہ سال اگست میں بھارت نے جس انداز سے خود اپنے ہی آئین کو پامال کر کے کشمیر کو اپنی نو آبادی میں تبدیل کیا ، مہذب دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی،مودی سرکار کے اِن ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مظلوم کشمیری ہر طرح کے انسانی حقوق سے محروم کر دیئے گئے ہیں بلکہ کشمیر نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے اس خطہ میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔اِن حالات میں جس مردِ مجاہد نے انتہائی دلیری اور بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی ہے وہ آپ کی ذات گرامی ہے، جناب صدراس مسلے پر آپ کے دو ٹوک موقف پر یہ ایوان، اہل کشمیر اور اہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔فی زمانہ ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ کا موجودہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت عطا کرے گا اور ہمارے درمیان اقتصادی اور معاشی تعاون کی بھی نئی راہیں کھولے گا۔ یہ ایوان اِن تمام امور پر آپ کا اظہارِ خیال سننے کا مشتاق ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی فہم و فراست اور استدلال اِس ایوان کو نئی اور کامیاب حکمت عملی سے آشنا کروائے گا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*