پاکستان اور ترکی کا اسلامو فوبیا کے خلاف مل کر لڑنے کا اعلان

اسلام آباد(آئی این پی) ترک صدر رجب طیب اردگا ن نے مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے ، ہم مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل چاہتے ہیں ، پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے ، تعلیم ،مواصلات ،صحت ،ثقافت ، سیاحت کے شعبوں میں تعاون اور ان کے فروغ کےلئے13معاہدے ہوئے ہیں جو پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں ،پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا متنازعہ معاملہ ہے، ترک صدر رجب طیب اردوان کے اقتدار میں آ نے سے پاک ترک تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور ان کے دور میں ترکی نے بہت ترقی کی ، ہم ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرینگے ، سیاحت ، تعمیرات کی صنعت،کم قیمت پر گھر بنانے ، کچی آبادی کو ترقی دینے اور ،ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کے لئے ہم ترکی سے سیکھیں گے ۔ جمعہ کو پاکستان ،ترکی بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم اور دونوںممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کرنے کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہے ، پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے ، سٹریٹجک تعاون کونسل پاک ترک تعاون میں بہت اہم ہے ،پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال ہوا ہے ،تعلیم ،مواصلات ،صحت ،ثقافت ، سیاحت کے شعبوں میں تعاون اور ان کے فروغ کےلئے13معاہدے ہوئے ہیں جو پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں ،ترکی پاکستان کے ساتھ کل کی طرح آج بھی کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعزیت پر صدر پاکستان کے شکر گزار ہیں ،دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کا شکر گزار ہوں ، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ترکی کو مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر انتہائی تشویش ہے ، ہم مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل چاہتے ہیں ۔ جبکہ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخطوں کی تقریب کے بعد ترک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترک صدر اور وفد کا پاکستان آمد پر شکریہ ادا کرتے ہیں ،ترک صدر کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے پوری پاکستانی عوام نے سراہا ہے ، آج اگر ترک صدر الیکشن لڑیں تو کلین سویپ کر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو 9لاکھ بھارتی فوجیوں نے محصور کیا ہوا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بند ہے ،مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کا متنازعہ معاملہ ہے اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا تھا لیکن ہندوستان نے6ماہ سے کشمیریوں کے حقوق معطل کر کے انہیں محصور کیا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے تجارت کے نئے دور کا آغاز ہوگا،اس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہوگا،ہم ہمیشہ ترکی کی حمایت کرتے ہیں ، جس طرح ترکی نے مسئلہ کشمیر ،ایف اے ٹی ایف سمیت عالمی ایشوز پر پاکستان کی حمایت کی اس پر ترکی کے شکر گزار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان میڈیا اور فلم انڈسٹری میں معاونت بہت اہم ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ترکی کے ساتھ مل کر ایسا مواد تیار کریں جس سے اسلامو فوبیا کا تاثر ختم ہو ،دنیا کے سامنے دین اسلام کو بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مل کر اسلامو فوبیا کے خلاف لڑیں گے ، ہم دہشت گردی کے حوالے سے ترکی کے مو¿قف کی حمایت کرتے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی عوام کا ترکی کی عوام کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، ہندوستان میں ترک بادشاہوں نے 600سال سے زائد کے عرصے حکومت کی ہے جب سے ترک صدر رجب طیب اردوان اقتدار میں آئے ہیں پاک ترک تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں ، ان کے دور میں ترکی نے بہت ترقی کی ، ہم ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، ترکی کی سیاحت انڈسٹری سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ،ترکی صرف سیاحت سے 35ارب ڈالر ریونیو حاصل کرتا ہے ،ترکی میں تعمیرات کی صنعت بہت آگے ہے ،ترکی نے کم قیمت پر گھر بنائے ، کچی آبادی کو ترقی دی ،ملک کو بیرونی قرضوں سے آزاد کرایا ،ہم ان سے یہ سب سیکھنا چاہیں گے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*