جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر دھماکا، تین افراد زخمی

جلال آباد/اسلام آباد(آئی این پی)افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد میں قائم پاکستان کے قونصل خانے کے باہر دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ جلال آباد میں ہمارے قونصل جنرل کے باہر آئی ای ڈی دھماکا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا تمام عملہ محفوظ ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور دو درخوست گزار زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قونصل خانے کے اطراف اور عملے کی سیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔دوسری طرف افغان پولیس چیف نے تصدیق کی ہے کہ جلال آبادمیں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے دھماکہ ہوا ہے جس میں اےک پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں ،دھماکہ خیزموادقونصل خانے سے 200میٹر دور گل دان میں رکھا گیاتھا جس سے دھماکہ ہوا ، دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا ۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 30 اگست 2018 میں افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے نے سیکیورٹی انتظامات پر مداخلت پر جلال آباد کا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کردیا تھا۔پاکستانی سفارتخانے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ صوبہ ننگرہار کے گورنر حیات اللہ حیات کی جلال آباد کے قونصل خانے کے سیکیورٹی سمیت مختلف امور میں بے جا مداخلت افسوسناک اور 1963 کے ویانا کنونشن کی مکمل خلاف ورزی ہے۔سفارت خانے نے گورنر کی بے جا مداخلت کو روکنے کے لیے افغان وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تھا اور قونصل خانے کی سیکیورٹی بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔بعد ازاں 08 اکتوبر 2018 کو افغان حکام کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد پاکستان نے جلال آباد میں قائم اپنا سفارت خانہ کھول دیا تھا۔واضح رہے کہ رواں برس 27 جنوری کو افغانستان کے شہر مزار شریف قائم پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس کوشش کو ناکام بنادیا گیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*