کاروبار کی مندی اور پراسرار ”خوشحالی“ کا راز

تحریر:نصرت جاوید
وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ لکھا۔ اس کے ذریعے اطمینان کا اظہار کیا کہ ہماری معیشت مثبت سمت کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔فوری وجہ ان کے اطمینان کی تازہ ترین اعدادوشمار تھے جن کے ذریعے خبر ملی کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ درآمدات کے ضمن میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی۔تجارتی خسارہ اطمینان بخش سطح تک محدود ہونا شروع ہوگیا ہے۔ملکی معیشت میں روشن امکانات یقینا نمودار ہونا شروع ہوچکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کا ٹویٹ جاری ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد مگر میری بیوی ہمارے گھر آئے بجلی کا بل لے کر میرے کمرے میں آگئی۔ ان دنوں میں تقریباََ بے روزگار ہوں۔ ا±ردو اور انگریزی کے کالم لکھ کر گزارہ چلارہا ہوں۔بیوی اگر کام نہ کررہی ہوتی تو شاید اس کا جہیز میں ملا زیور بیچ کر چند دن بسر کرنے کے بعد اپنی گاڑی بیچنے کا اشتہار دینا پڑتا۔ بجلی کے بل کو سامنے رکھ کر ہم نے حساب لگایا کہ بہت مشقت سے ہم دونوں مل کر ہر ماہ جو کماتے ہیں اس کا 25فی صد بجلی کا بل ادا کرنے میں خرچ ہوجائے گا۔یہ طے کرنے کے بعد کافی فکرمندی سے غور اس امر پر بھی ہوا کہ سوائے ہماری بیٹیوں کے گھر میں کوئی اور فرد اب ایئرکنڈیشنر کا عادی نہیں رہا۔ پنکھوں سے کام چلایا جارہا ہے۔فرض کیا اگر ایک آدھ ایئرکنڈیشنر مزید چلایا جائے تو شا ید ہماری اجتماعی آمدنی کا 40فی صد بجلی کے بلوںکی نذر ہوجائے گا۔اپنی کہانی یہ سوچ کر لکھنے کو مجبور ہوں کہ میری دانست میں پاکستان کے تنخواہ داروں کی اکثریت کے گھروں میں بجلی کے بل آنے کے بعد ایسی ہی گفتگو ہوتی ہوگی۔ درآمدات کے کم ہونے سے ہماری معیشت میں جو ”روشن“ امکانات نمودار ہورہے ہوں گے انہیں تنخواہ دار دیکھنے سے یقینا محروم رہے ہوں گے۔پاکستان کا ہر شحض مگر تنخواہ دار نہیں۔ہمارے حکمرانوں کو بلکہ یقین ہے کہ ہمارے شہریوں کی بے پناہ تعداد کے پاس ان کی ضروریات سے کہیں وافر سرمایہ موجود ہے۔حکومتی ترجمان لاہور کے چند ریستورانوں کی تصویریں لگاکر ہمارے ہاں موجود ”خوش حالی“ کے ”ٹھوس“ ثبوت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ہماری ریاست کو گلہ یہ ہے کہ مہنگے ریستورانوں میں جانے والے برانڈڈ کپڑے پہنتے ہیں۔ مقامی طورپر تیار کردہ عطر کو استعمال کرنے کے بجائے غیر ملکوں سے درآمد ہوئی خوشبوئیں استعمال کرتے ہیں۔چہروں کو روشن بنانے کے لئے سو طرح کی کریمیں اور لوشن خریدتے ہیں۔ حکومت کو ٹیکس کی مد میں رقم دیتے ہوئے مگر ان کی جان جاتی ہے۔ ان لوگوں سے اب زبردستی ٹیکس وصول کرنا ہوگا۔ شبرزیدی صاحب اسی باعث ذاتی کاروبار چھوڑ کر وطن کی خاطر FBRکے چیئرمین بننے کو تیار ہوگئے۔ ساری زندگی کاروباری لوگوں کو Tax Evasionکے بجائے Tax Avoidanceکی ترکیبیں بتاتے رہے ہیں۔ان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس ملک میں قابل ٹیکس دولت کن افراد کے پاس ہے۔اسے چھپانے کے کیا طریقے ہیں۔گھر کے بھیدی ہیں۔اسی باعث حکومت کو یقین ہے کہ اس مالی سال کے اختتام پر قومی خزانے میں پانچ ہزار ارب روپے سے زیادہ سرمایہ محاصل کی صورت میں جمع ہوجائے گا۔ ربّ کریم سے فریاد ہے کہ شبرزیدی صاحب اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔علم معیشت کی باریکیوں کے بارے میں قطعی نابلد ہوں۔ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے لیکن زندگی کے ہر شعبے پر نگاہ رکھنے کو مجبور ہوں۔اخبارات میں چھپی خبروں سے کچھ اشارے ملتے ہیں۔ان کی بدولت Big Pictureدیکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔حال ہی میں عیدالاضحی کا تہوارمنایا گیا ہے۔ 1975سے اسلام آباد میں مقیم ہوں۔پہلی بار اس عید پر کسی دوست کی جانب سے گوشت نہیں ا?یا۔ یہ فرض کرلیا کہ لوگوں سے کٹ کر اپنے گھر تک محدود ہوجاﺅ گے تو ایسا ہی ہوگا۔ عید کی چھٹیوں کے بعد مگر اخبارات آئے تو ٹھوس اعدادوشمار کے ذریعے قربانی کی کھالوں کا کاروبار کرنے والی تنظیم کی وساطت سے خبرملی کہ 2019میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 20فی صد لوگوں نے قربانی کی رسم نبھانے سے گریز کیا۔ فرض کیا گزشتہ برس سو لوگوں نے قربانی کے جانور خریدے تو اس برس ایسے لوگوں کی تعداد 80تک محدود رہی۔معیشت کے بارے میں قطعی جاہل ذہن نے اس خبر سے یہ اخذ کیا کہ لوگوں کے پاس Disposableپیسہ یعنی وہ رقم جسے خرچ کرتے ہوئے آپ ذہنی کوفت محسوس نہ کریں کم ہورہا ہے۔آمدنی کے سکڑنے کی تصدیق ایک اور خبر کے ذریعے ہوگئی جس کے ذریعے علم ہوا کہ گاڑیوں کی فروخت میں 40سے 60فی صد تک کمی ہورہی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ 22کروڑ کی آبادی میں کارخریدنے کی سکت چند ہی لوگوں کو میسر ہے۔ د±نیا بھر میں یہ سکت آبادی کے ایک محدود طبقے ہی کو نصیب ہوتی ہے۔کاریں بیچنے کے لئے مگر شورومز ہوتے ہیں۔وہاں نچلے متوسط طبقے کے لوگ ماہانہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔شورومز میں دھندا نہیں ہوگا تو ان کی نوکریاں برقرار نہیں رہیں گی۔ پراپرٹی کے کاروبار کیساتھ مندی کا یہ عالم وطنِ عزیز پر دو برس سے پہلے ہی نازل ہے۔ اس میں افاقہ کے امکانات نظر نہیں آرہے۔بڑے نام والی غیر ملکی یونیورسٹیوں سے علم معیشت کے حوالے سے بھاری بھر کم ڈگریاں لینے والے کافی رعونت سے مجھ جیسے جاہلوں کو اکثر سمجھاتے رہتے ہیں کہ پراپرٹی کا دھندا معیشت کا پہیہ نہیں چلاتا۔ اس دھندے کو ”لینڈ مافیا“ ”منشیات فروش“ اور حرام کی کمائی“ کھانے والے سرکاری افسر اپنا سرمایہ ٹیکس سے بچانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ FATFنے یہ خبر بھی دی کہ پلاٹوں کی خریدوفروخت ”دہشت گردی“کے لئے سرمایہ جمع کرنے کو استعمال ہوتی ہے۔یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو پلاٹوں کی خریداری سے روک دیا گیا تو وہ اپنے پاس جمع رقوم کو سٹاک ایکس چینج میں رجسٹرکمپنیوں کے Sharesخریدنے کے لئے استعمال کرنا شروع ہوجائیں گے۔ پراپرٹی کا دھندا توٹھپ ہوگیا مگر نئی سرمایہ کاری بھی نہیں ہورہی۔”نوائے وقت“ میں بدھ کے روز ایک خبر چھپی ہے۔ اس کے ذریعے ایک کاروباری تنظیم کا یہ دعویٰ پڑھنے کو ملا کہ حال ہی میں پاکستانیوں نے بینکوں سے 700ارب کی رقوم نکلوالی ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ بینکوں میں جمع رقوم کی بابت FBRوالے ان سے سوالات کریں گے۔سوال اٹھتا ہے کہ مبینہ طورپر بینکوں کے کھاتوں سے جو رقوم نکلیں وہ کہاں خرچ ہوئیں۔ مذکورہ خبر کو دوبارہ پڑھا تو اندازہ ہوا کہ ٹیکس والوں کے خوف سے نکلوائی رقوم سونے کی خریداری میں لگائی جارہی ہیں۔اسی باعث ہمارے ہاں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے۔میرے بچپن میں لاہور کے کئی گھر تھے۔ ان کے مکینوں کو قیام پاکستان کے بعد ہندوﺅں اور سکھوں کے چھوڑے مکانات الاٹ ہوئے تھے۔ ان میں سے چند ”راتوں رات‘ ‘ امیر ہوتے نظر آئے۔ ان کے ہمسایوں اور عزیزوں کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ پراسرار”خوشحالی“ کا راز کیا ہے۔ ان دنوں مجھے ”دفینہ“ نامی لفظ کا پتہ چلا۔افواہیں تھیں کہ راتوں رات خوش حال ہوئے لوگوں کو اپنے گھروں میں وہ سونا مل گیا جو متروکہ گھروں کے اصل مالکان نے کہیں ”دفن“ کررکھا تھا۔اپنے بچپن میں سنی داستانوں کو یاد کرتے ہوئے خیال آیا کہ جن کے پاس وافر سرمایہ ہے وہ ان دنوں پلاٹ نہیں خرید رہے۔ڈالروں کا کاروبار بھی حکومتی نگاہ میں ہے۔کارخریدنے سے بھی اجتناب برتا جارہا ہے۔ ”سونے کی ڈلی“ پر لہذا توجہ ہے۔ اسے خرید کر چھپایا جارہا ہے۔امید ہے کہ آج کے سائنسی دور میں شبرزیدی صاحب کچھ ایسے آلات یقینا خرید سکتے ہیں جو مقامی طورپر تیار شدہ ڈرون طیاروں پر نصب ہوں۔ یہ طیارے لاہور،اسلام آباد اور کراچی کے پوش علاقوں کے چند بڑے گھروں پر فوکس کریں تو حکومت کی نگاہ سے چھپائی سونے کی ڈلیاں Digital Scanningکے ذریعے آشکار ہوجائیں گی۔پھکڑپن سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانیوں کو ٹیکس کی عادت ڈالنے کے لئے IMFنے ایک پروگرام مرتب کیا ہے۔ اس پروگرام پر عمل کے لئے 39مہینوں کا عرصہ طے ہوا ہے۔آغاز اس ٹائم لائن کا جولائی 2019سے ہوگیا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ اور باقررضا نے اس پروگرام کو اپنی ذاتی نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے ”استحکام“ کی ضرورت ہے۔ریاست کے تمام اداروں کو اس کی خاطر”One Page”پر رہنا ہوگا۔”تسلسل “ کو یقینی بنانا اس لئے لازمی تھا۔39مہینوں کا طویل اور صبر طلب سفر ہے۔سرجھکائے ہوئے اسے جاری رکھیں۔البتہ کبھی وقت ملے تو انٹرنیٹ پرجاکر ارجنٹائن نامی ملک کے تازہ ترین حالات بھی دیکھ لیں۔ اس ملک کو بھی مصر کی طرح ”معاشی استحکام“ کے لئے IMFنے ایک ”پیکیج“ دیا تھا۔اس کے عوض 6ارب ڈالر نہیں بلکہ 57ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص ہوئی تھی۔ نتائج کیا برآمد ہوئے خود دریافت کرلیجئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*