جشن آزادی یا ہلڑ بازی

گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری طور پر یوم جشن آزادی شایان شان طریقے سے منایا گیا اس سلسلے میں مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا کوئٹہ میں ہونےوالی تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور دیگر حکام نے خطاب کیا اس کے علاوہ دیگر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام بھی تقاریب منعقد کی گئیں جس میں یوم آزادی کے حوالے سے خطابات کئے گئے جبکہ دوسری جانب کچھ عناصر نے جشن آزادی کو ہلڑبازی میں تبدیل کرکے رکھ دیا انہوں نے اس دن کی اہمیت کو بالکل ختم کرکے رکھتے ہوئے انہوں نے شام ہوتے ہی اہم شاہراہوں اور مختلف چوراہوں پر ٹولیوں کی شکل میں جمع ہونا شروع کردیا اور وہاں سے گزرنے والوں پر سپرے اور پانی پھینکنا شروع کردیا اس میں انہوں نے کسی کا بھی خیال نہیں رکھا وہاں سے جو بھی گذر چاہے اس میں خواتین ہوں بوڑھے ہوں بچے ہوں یا دیگر معززین ہوں کسی کو بھی نہیں بخشا گیا ان سب پر سپرے اور پانی پھینکا گیا جس کی وجہ سے عوام کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا جوکہ ایک بہت ہی قابل مذمت اقدام ہے کیونکہ مہذب قومیں اپنا جشن آزادی اس طرح ہلڑ بازی کرکے نہیں منایا کرتیں جس میں لوگوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑے اس کے علاوہ موٹر سائیکلوں سے سلنسر نکال کر اس پر چار پانچ لوگ سوار ہوکر دندناتے ہوئے پھرتے رہے جس کے شور روغل سے کانوں پھری آواز سنائی نہیں دے دہی تھی ان لوگوں نے ہاتھوں میں بڑے بڑے پرچم اٹھائے رکھے ہیں جو یقینا قابل احترام اور ہماری عظمت کا نشان ہے لیکن یہ اس کی بھی توہین کے مترادف اقدام ہے ۔
جشن آزادی کا منانے کا مذکورہ طریقہ گزشتہ کچھ سالوں سے منا یا جارہا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ اور فورسز اس کو روکنے میں ناکام رہی ہے جب یہ جاہل لوگ شریف اور معزز لوگوں پر سپرے اور پانی پھینکنے ہیں اس موقع پر سکیورٹی فورسز بھی موجود ہوتی ہےں لیکن وہ ان کو روکنے کی بجائے خاموش تماشائی بن کر ان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جوکہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔
کئی سال پہلے جشن آزادی ایسے نہیں منایا جاتا تھا بلکہ اس موقع پر شہر کی اہم عمارتوں پرشاندار چراغان کیا جاتا تھا جسے شہری اپنی فیملیوں کے ساتھ گھروں سے نکل کر ان کا نظارہ کرکے لطف اندوز ہوتے تھے اور باقاعدہ وہ جشن آزادی کو انجوائے کرتے تھے لیکن اب موجودہ صورتحال میں انجوائے کرنا تو درکنار ایک ضرورت مند خاتون کا بھی گھر سے نکلنا محال ہوگیا ہے کیونکہ جب وہ کسی بھی سواری پر باہر نکلتی ہے تو اس ماحول میں اس کو بھی نہیں بخشا جاتا اس طرح وہ بھی جشن آزادی منانے کے اس غلط انداز کی نظر ہوجاتی ہے اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اس سلسلے کو روکنے کےلئے اقدامات کرنے چاہئیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*