ریاست مدینہ اور نیب

تحریر : روہیل اکبر
نیب نے اس بار پاکستان کی عوام پر کمال مہربانی کرتے ہوئے انکے لیڈروں کو بھی عید کی سعادت عام لوگوں میں منانے کا موقعہ عنایت فرما دیا ورنہ آج سے قبل ہمارے سبھی حکمران عید سے قبل پوری دنیا میں پھیل جاتے تھے اور سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والی عوام کا پیغام ملکوں ملکوں پہنچاتے تھے جنہوں نے اس بار عید جیل میں عام قیدیوں اور حوالاتیوں کے ساتھ گذاری تاکہ وہ جیل میں بند مجرموں اور ملزمان کے دکھ بھی سمجھ سکیں ویسے تو کہاجاتا ہے کہ ہماری جیلیں جرائم کی یونیورسٹیاں ہیں جہاں جا کر ایک معصوم،بے گنا اور لاڈلا شخص بھی جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن جاتا اور جن کے سروں پر پہلے سے ہی تاج ہوں انکا اندازہ آپ خود لگالیں کہ وہ کیا بن کر باہر آئیں گے میں اپنے پڑھنے والوں کو حضرت عمر فاروق ? کے دور خلافت کا ایک قصہ بھی سناو¿ں گا کہ جنہوں نے دنیا پر حکمرانی کی اور وہ کیسے زندگی بسر کرتے تھے مگر پہلے یہ پڑھ لیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم سمیت درجن بھر سیاست دان و سابق وزرا نے عید الاضحی کا تہوار جیل میں گزاراپاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگرچہ سابق وزرائے اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نواب محمد احمد خان قتل کیس جب کہ نواز شریف طیارہ سازش کیس میں گرفتاری کے باعث عید کے تہوار جیل میں گزار چکے ہیں تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی دور حکومت میں ایک سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم سمیت درجن بھر سیاست دانوں و سابق وزرا نے عید کا تہوار جیل میں گزارا ہو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ایک سابق صدر آصف زرداری اور دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے درجن بھر سیاست دان و سابق وزرا حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ،مفتاح اسماعیل، آغا سراج درانی اور خواجہ سلمان رفیق مختلف کیسوں میں گرفتاری کے بعد جیل میں ہیں۔سابق صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے گھر کو سب جیل قرار دیا جاچکا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی نیب کی حراست میں ہیں۔خود تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان بھی پابند سلاسل ہیں لہذا ملک کے درجن بھر اہم ترین سیاستدان و سابق وزرا پہلی مرتبہ عید الاضحی کا تہوار جیل میں گزارا جو کہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریکارڈبھی ہے اور اس کے لیے ہم اپنے تحقیقاتی اداروں سیمت نیب کے مشکور ہیں جنہوں نے عوام کے لیڈروں کو عید کا خصوصی دن بھی عوام کے اندر ہی گذارنے کا موقعہ فراہم کیا اب آتے ہیں اس ریاست مدینہ کے طرز حکومت کی طرف جسکا بار بار عمران خان ذکر کرتے ہیں جی ہاں انہی قوانین پر چل کر ملکوں نے ترقی کی اور قومیں ناقابل تسخیر بنی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینہ پہنچاتو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی بھی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا، جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاو¿ں، آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاو¿ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق ?سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاو¿ں گا، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹے اور کہاکہ ٹھہرو میں آتا ہوں۔آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے،وقت قریب ہے اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو، آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں سبحان اللہ یہ کوئی کونسلر، چیئرمین، ناظم، ایم پی اے، یاایم این اے نہیں تھے بلکہ یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو حضرت عمر فاروق ?ہیں جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ سے تسلی بخش جواب دیتے۔جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاو¿ں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنین ہیں؟ آپ عمر ہیں؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپنے لگتا ہے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟تو آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی عمر فاروق ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی،خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں تو کہاں آیا ہے؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی یہاں سر اٹھا کر چلتے ہیں!!اس لیے اگر ہم نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا ہے تو پھر چوروں اور ڈاکوو¿ں کا احتساب کرنا اور لوٹی ہوئی دولت واپس بھی لانا ہے باتوں سے تو ہم کشمیر بھی گنوا دینگے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*