کشمیریوں کے حق کی خاطر جنگ لڑنے کیلئے تیار ہیں،بلاول بھٹو

اسلام آباد(اے این این ) چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے لئے آخری حد تک جائیں گے، حق کیلئے جنگ بھی کرنا پڑی تو تیار ہیں، حکومت صرف ٹویٹ پر ٹویٹ کئے جا رہی ہے، ہر نالائقی برداشت کر لیں گے لیکن کشمیر پر سودا قبول نہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کشمیریوں کو حق دلوانے کیلئے لڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر قومی یکجہتی ختم کرنے کی کوشش کا الزام لگا دیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دعوت ملنے کے باوجود آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب نہیں کیا، ہر چیز برداشت کرسکتے ہیں مقبوضہ وادی پر سودا نہیں، بلاول بھٹو نے مسلم ممالک کے بھارت سے تعلقات کے بارے میں وزیرخارجہ کے بیان پر بھی اظہار تشویش کیا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں کشمیریوں کی حمایت کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے لیکن حکومت کی طرف سے صرف ٹویٹ پہ ٹویٹ کیے جا رہے ہیں۔چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کشمیری اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں، اس سے قبل ہمیں کشمیریوں کے جذبات اور دکھ درد میں شامل ہونا ہو گا، کشمیریوں کیلئے بھرپور سفارتی جنگ لڑنی ہو گی، کشمیریوں کیلئے آخری دم تک لڑیں گے، اگر حق کی خاطر جنگ لڑنا پڑی تو اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر مودی کو بے نقاب کرنا چاہئے، انتہا پسند مودی کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ کشمیریوں کیخلاف بھارتی کارروائیاں روکنے کیلئے دنیا کو واضح اور ٹھوس پیغام دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں رہنے والے کشمیریوں کو پیغام جائے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں کشمیری بھائیوں کے دکھ درد سے خود کو جوڑنا ہو گا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مشترکہ سیشن کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ میں عید آزاد کشمیر میں مناوں گا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی قومی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نماز عید آزاد کشمیر میں منائی ہو، حکومتی نمائندے کے آزاد کشمیر جانے سے اتحاد کی فضا قائم ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو وہ آپشن استعمال کرنا چاہئیں جو کشمیریوں کے مفاد میں ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کل کے بیان سے ہم سب بہت دل برداشتہ ہوئے ہیں، کوشش سے پہلے ہی بیان دینے والے وزیر خارجہ بتائیں ان کے ارادے کیا ہیں؟۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ سینیٹ میں پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والوں کی تلاش کا کام عید کی وجہ سے بند ہے، اپوزیشن کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی عید کے بعد کام پھر شروع کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ میں کشمیر میں تھا اور آصف زرداری جیل میں تھے جہاں انھیں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، فریال تالپور کو آدھی رات کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا گیا،شہادتیں دینے والا خاندان ایسے ہتھکنڈوں سے نہیں جھکے گا۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو، حکومت نے معیشیت کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر فریال تالپور کو حکومت نے جیل بھیجا، ظالمانہ حکومت نے فریال تالپور کو اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب فریال تالپور کو جیل منتقل کیا جا رہا تھا اس وقت میں مظفر آباد میں اور آصف زرداری جیل میں تھے، اس بزدل حکومت نے قانون کے خلاف فیصلہ کیا، نیچ حرکتوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سیاسی انتقام تو نہیں لیں گے لیکن قانونی احتساب کریں گے، عوامی رابطہ تحریک کے سلسلے میں اسکردو جا رہا ہوں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*