نہ نماز نہ قربانی،کشمیریوں نے عید گھروں میں بند ہو کر گزاری

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں عید کے روز بھی کرفیو نافذ رہا جس کے باعث کشمیری مسلمانوں کی اکثریت سنت ابراھیمی ادا کرنے سے بھی محروم رہی ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی جانب سے وادی میں عید کے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی اور مزید قابض بھارتی فوجیوں کو تعینات کردیا گیا،مساجد کے باہر بھی فوج کے پہرے رہے اور کسی کو نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کرفیو کے ساتھ ساتھ دفعہ 144بھی نافذ کیا گیا تھا جس کے باعث کشمیریوں نے نہ قربانی کی اور نہ عید کی نماز ادا کی اور عید جیسا اہم مذہبی تہوار گھروں میں بند ہو کر گزارا۔وادی میں عید کے موقع پر بھی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل رہی جب کہ مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے بینکس بھی بند رہے اور اے ٹی ایمز میں رقم ختم ہوگئی ہے۔ وادی میں 9روز سے نظام زندگی درہم برہم ہے ۔عید پر کرفیو اور بندشوں کے باوجود لوگوں نے گھروں سے نکل کر مساجد پہنچنے اور قربانی کی کوشش کی تاہم بھارتی فورسز نے ان کو روک دیا اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔سرینگر کی مرکزی جامع مسجد میں بھی نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔سری نگر کے شہری بشیر احمد کا کہنا ہے کہ وہ ہر خطرہ مول لے کر گھر سے نکلا تاکہ جانور کی خریداری کے لیے اے ٹی ایم سے رقم نکلوا سکے لیکن 20 کلو میٹر کا سفر کرنے کے باوجود کسی اے ٹی ایم میں رقم نہیں تھی۔ خریداروں کی طرح جانوروں کے بیوپاری بھی پریشان رہے ، ایک ہفتہ قبل جانوروں کا بیوپاری شمشیر خان اور اس کے دو بھائی 150 جانور لے کر 250 کلومیٹر کا سفر طے کرکے سری نگر آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ صورت حال میں تبدیلی اور لوگوں کے پاس رقم نہ ہونے کے باعث اس سال نہ ہونے کے برابر جانور فروخت ہوئے۔ دوسری جانب کشمیر چیمبر آف کامرس کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں سخت پابندیوں کی وجہ سے تاجروں کو روزانہ ایک سو 75 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے ایک ہفتے میں مجموعی نقصان کا تخمینہ ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے نریندر مودی کی حکومت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کرفیو نافذ ہے۔ دلی یونیورسٹی میں بھی کشمیری طلبا عید کے روز بھی اپنے گھروں سے دور رہے۔دہلی میں درجنوں کشمیری طلبا عید کے روز اپنے گھروں کو نہ جا سکے، کمیونی کیشن بلیک آٹ کی وجہ سے پیاروں سے رابطہ بھی ممکن نہ ہوا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے آن لائن اخبارات اپ ڈیٹ نہ کئے جا سکے، نو روز سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، سابق کٹھ پتلی رہنما فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت گزشتہ ہفتے میں نو سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مظلوم کشمیریوں پر ایک ایک لمحہ بھاری گزرنے لگا، گھروں میں بھوک اور پیاس، بچوں کی آہ وبکا، ادویات کی قلت ہو گئی۔ بھارتی فورسز کی جانب سے گرفتاریوں کے باعث تھانے ،جیلیں اور عارضی عقوبت خانے بھر گئے ہیں ،وادی میں گنجائش ختم ہونے کے بعد سینکڑوں حریت پسند کارکنان کو بھارت کے مختلف شہروں میں منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں ،دو روز قبل حریت قائدین کو آگرہ منتقل کیا گیا تھا۔وادی میں ان دنوں ایک ایسی بات بھی ہے جسے مثبت طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور وہ کنٹرول لائن پر خاموشی ہے ۔گزشتہ 9روز کے دوران کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔دونوں ملکوں نے ان دنوں میں سیز فائر کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔برطانوی نشریاتی ادارے نے مقبوضہ وادی میں اٹھنے والی آزادی کی نئی لہر دنیا کے سامنے پیش کردی، کشمیری کرفیو توڑ کر گھروں سے باہر نکل آئے ہیں اور مقبوضہ وادی آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی مودی سرکار کے غاصبانہ اقدام پر صدائے احتجاج دبانے میں ناکام ہے، جانباز کشمیری جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستانی پرچم تھامے مسلح قابض فوج کے سامنے ہندوستان مخالف نعرے لگاتے رہے۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی بھرمار نے کشمیریوں کی ہمت اور حوصلہ پست کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیا۔بی بی سی کی رپورٹ میں مقبوضہ وادی آزادی کے متوالوں کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی نظرآرہی ہے۔ کشمیریوں کی زبانی بھارتی آئین کی حیثیت جان کر بھی عالمی برادری کا آنکھیں بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اللہ اکبر اور آزادی کے نعرے لگاتے کشمیری چیخ چیخ کر بھارت کی بدنیتی دنیا کو بیان کر رہے ہیں۔جنت نظیر وادی میں ظلم کرنے والے بھارتی فورسز کے اہلکار سڑکوں پر دندناتے پھررہے ہیں لیکن آزادی کے متوالے اب کسی ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔دریں اثناء پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں عید الاضحی کے موقع پر ظالمانہ لاک ڈاو¿ن کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے اور ظالمانہ لاک ڈاو¿ن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاو¿ن کے باعث لاکھوں کشمیری عید الاضحی پر مذہبی فرائض ادا نہ کر سکے، اسلامی احکامات کے مد نظر پوری دنیا میں مسلمان عید کے موقع پر بڑے اجتماعات میں نماز ادا کرتے ہیں جب کہ لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی ادائیگی پر بھارتی پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ وادی کشمیر فوجی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، کشمیریوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا نہیں کرنے دی گئی یہاں تک کہ کشمیر میں ذرائع مواصلات کی مکمل بندش کے باعث کشمیری اہم مذیبی تہوار پر اپنے اہلخانہ سے رابطے سے بھی محروم رہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی اقدامات نہ صرف بڑے پیمانے پر اجتماعی سزا کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ بھارتی اقدمات تمام انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہیں جب کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری سے بھارت کی مذہبی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*