یہ تحریک کامیاب ہوگی؟

تحریر:جاوید صدیق
ایوب حکومت کے خلاف ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں میں جو تحریک چلی تھی اس کے پیچھے ایوب حکومت کی دس برس کی غلطیاں تھیں۔ اس دور کو اب پاکستان کے لیے ایک اچھا دور سمجھا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر کے ساتھ یہ مصرعہ بھی پڑھنے کو ملتا تھا
”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“
ایوب خان کے خلاف مشرقی اورمغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ اتحاد کمبائنڈ اپوزیشن نواب زادہ نصراللہ خان کی قیادت میں بنایا تھا۔ جس نے انٹی ایوب تحریک چلائی۔ ایوب خان کے دس سالہ دور حکومت میں جہاں اس حکومت کو بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے اور قومی پالیسیاں بنانے کا کریڈٹ دیا جاتا ے وہاں اس حکومت نے جو معاشی پالیسیاں اپنائیں ان سے امیر اور غریب کے درمیان فرق بہت بڑھ گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب انٹی ایوب تحریک کا حصہ بنے تو انہوں نے اپنے سابق باس پر یہ الزام لگایا کہ ایوب خان نے ملکی دولت صرف بائیس خاندانوں کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔ بھٹو نے جب 1967ء میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو انہوں نے معاشی مساوات کا نعرہ اپنایا جسے عوام میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ایوب حکومت کے خلاف تحریک کی کامیابی کی وجوہ سیاسی اور معاشی تھیں۔ صدر جنرل ایوب خان پر مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کرنے کا الزام بھی تھا اور 1964ء کے صدارتی انتخابات میں قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے شکست دینے کا بھی الزام تھا۔ ایوب خان کے بیٹوں پر حکومت سے ناجائز مراعات لینے کا الزام بھی لگایا گیا لیکن اس تحریک کی کامیابی کی بنیادی وجہ سیاسی اور معاشی بے چینی تھی۔ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اپوزیشن کی نو جماعتوں کے اتحاد نے 1977ء میں جو تحریک چلائی تھی اس کے محرکات بھی سیاسی تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت پر الزام تھا کہ اس نے مارچ 1977ء میں ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کی ہے اور اپوزیشن کو ہرانے کے لیے ریاستی مشینری استعمال ہوئی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک زور پکڑتی گئی جس نے ملک کو ایک طرح سے مفلوج کر دیا تھا۔ پانچ جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
جنرل ضیاء الحق کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے تحریک چلائی۔ اس تحریک کے پیچھے ضیاء الحق حکومت کی اپوزیشن خاص طور پر پیپلز پارٹی اور دوسری روشن خیال جماعتوں کو دبانے کے خلاف ردعمل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو بھی عوام نے قبول نہیں کیا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کم وبیش چار سال تک جاری رہی جو 17 اگست 1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی حادثاتی موت تک جاری رہی۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں فوج نے جو انتخابات کرائے ان میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی۔جنرل مشرف کے خلاف وکلا ء کی تحریک بھی قانون اور فریقین کی بالا دستی کے مقصد کے حصول کے لیے تھی۔ جس میں سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوگئیں۔ ماضی کی تحریکوںکی قیادت کرنے والے سیاسی لیڈروں پر ملکی خزانہ پر ہاتھ صاف کرنے اور اربوں روپے مالیت کے ملک کے اندر اور باہر اثاثے بنانے کا الزام نہیں تھا نہ ہی یہ لیڈر کرپشن کے الزامات میں عدالتوں سے سزا یافتہ تھے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی چوٹی کی قیادت پر بدعنوانی اور قومی خزانے سے لوٹ مار کے الزامات میں عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے سربراہ محمد نوازشریف کو تو احتساب عدالت نے قید کی سزا سنا دی ہے۔ اب تو سزا سنانے والے جج کے بارے میں ایک ویڈیو سامنے ا?گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ویڈیو سیکنڈل کا نوٹس لیا ہے اور اس معاملے پر سماعت بھی شروع کر دی ہے۔ دیکھیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ پی پی پی کے لیڈر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاﺅنٹس کھلوا کر ان کے ذریعہ اربوں روپے قومی خزانے سے باہر منتقل کرنے کے الزام میں ریفرنس دائر کئے جارہے ہیں۔ ان کیسوں میں کچھ وعدہ معاف گواہ سامنے آچکے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کے خلاف جس سیاسی تحریک کی تیاریاں کی جارہی ہیں اس کی لیڈر شپ پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات ہیں۔ اس لیڈر شپ کے خلاف مقدمات بھی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ کیا یہ لیڈر شپ حکومت مخالف سیاسی تحریک کو موثر طور پر منظم کرکے حکومت کو فارغ کرانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں نیا تجربہ ہوگا۔ ماضی کی سیاسی تحریکیں جن کے نتیجے میں حکومتیں تبدیل ہوئیں ان کی قیادت پر لوٹ مار کے الزامات نہیں تھے نہ عدالتوں نے انہیں سزائیں دی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) ‘ پی پی پی ‘ جمعیت علمائے اسلام اور کچھ دوسری جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو فارغ کرنے کے لیے تیاری کررہی ہیں۔ اس مقصد میں کامیابی کے لیے جن عوامل یا فیکٹررز کی ضرورت ہے وہ انہیںمیسر نہیں کرتے ماضی کی سیاسی تحریکوں کو کامیاب بنانے میں کچھ نادیدہ قوتیں بھی اپوزیشن کی معاون رہی ہیں یہ معاونت بھی فی الحال اپوزیشن کو میسر نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*