وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مال سال 2019-20کا اپنا وفاقی بجٹ پیش کردیا جس میں ٹیکسوں کی بھر مار کی گئی ہے اس طرح بجٹ میں روزہ مرہ استعمال کی عام اشیاءمہنگی کردی گئیں جن میں خوردونوش کی اشیاءکی تعدادزیادہ ہے اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا بجٹ میں کاغذ ،موبائل سستے کئے گئے جبکہ ریسٹورنٹ اور بیکر ی کی اشیاءپر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا گیا البتہ بجٹ میں ایک اچھی بات صرف یہ تھی کہ جس میں وزراءنے رضا کارانہ طور پر تنخواہوں میں 10فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے جو یقینا تاریخی ہے اس طرح دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنا اچھا اقدام ہے ۔
مال سال 2019-20کا وفاقی بجٹ بلاشبہ غریب عوام کے لئے بہت ہی سخت بجٹ ہے کیونکہ اس میں لگنے والے ٹیکسز کے باعث مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا جس سے عوام غریب آدمی زیادہ متاثرہوگی اس بجٹ میں خوردنی تیل گھی ،چکن ،مٹن اور بیف مہنگا ہوجائے گا جو عام استعمال کی اشیاءہےں اور یہ غریب آدمی بھی استعمال کرتا ہے کیونکہ زندہ رہنے کےلئے کھانا انتہائی ضروری ہے اس مذکورہ بجٹ کے پیش ہونے کے بعد خدشہ ہے کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کو ترس کررہ جائے گا کیونکہ اس سے مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا جبکہ حکومت نے اس کے مقابلے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اس کے ساتھ ساتھ کم سے کم اجرت 17500مقرر کی گئی ہے جس پر عوام حکمرانوں سے یہ سوال کررہی ہے کہ وہ آئیں اور ایک گھر کا بجٹ 17500روپے میں پورا کرکے دکھائیں اس طرح کرنا غریب عوام کے ساتھ بڑی زیادتی کے مترادف اقدام ہے با الفاظ دیگر یہ غریب عوام کو بھوکا مارنے کی کوشش ہے ۔
اگر موجودہ حکومت کی ٹیکسز میں اضافہ مجبوری ہے تو اس کی سز اغریب عوام کو کیوں دی جارہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پچھلے حکومتوں نے بہت زیادہ قرضہ لیا ہے جس کے منافع کی مد میں حکومت کو اربوں روپے دینے پڑرہے ہیں اور اس طرح ملک کے معاملات چلانے کےلئے خزانے میں کچھ نہیں اس تمام صورتحال کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سابقہ حکمرانوں کی مبینہ کرپشن یا دیگر اقدامات کی سزا غریب عوام کو موجودہ حکومت دے رہی ہے اس میں غریب عوام کا کیا قصور ہے موجودہ حکومت ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے اقدامات کرے مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتاریاں مسئلے کا حل نہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان رہنماﺅں سے ملک کا لوٹا ہوا پیشہ واپس لینے کے اقدامات کئے جائیں سابقہ اور موجودہ حکمرانون کے درمیان اس معاشی جنگ میں عوام کو سزا دینا بلاشبہ ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف اقدام ہے ۔
وفاقی بجٹ میں وزراءنے رضا طور پر تنخواہوں میں 10فیصد کمی کا جو اعلان کیا ہے اور اس طرح دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنا بلاشبہ قابل تعریف اقدام ہےں اگر حکومت اسی طرح کے باقی معاملات میں بھی اقدامات کرے تو عوام پر معاشی بوجھ کم ہوسکتا ہے کیونکہ عوام اس کو برداشت نہیں کرسکتی جبکہ دوسری جانب وزراء،اراکین پارلیمنٹ اور دیگر حکام صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں ان کو ملک کی خاطر قربانیاں دینی چاہئیں اور ملک کی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کیلئے تنخواہےں بھی نہیں لینی چاہئیں۔ اسی سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*