مسئلہ دفاعی بجٹ نہیں کچھ اور ہے!!!

محمد اکرم چودھری
وطن عزیز کے بجٹ میں دفاعی بجٹ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔ بالخصوص جن دنوں بیرونی دشمنوں کی کارروائیوں میں تیزی ہو ان دنوں دفاعی بجٹ پر بات چیت زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور ان کے حمایتی اپنی نالائقی، بد انتظامی اور کرپشن کو چھپانے، لوٹ مار پر پردہ ڈالنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے دفاعی بجٹ کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے ان دنوں بھی اس حوالے سے مختلف حلقے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ماضی میں اظہار خیال کے ذرائع محدود تھے، احتجاج اور تنقید کے زیادہ مواقع میسر نہیں تھے لیکن اس کے باوجود بیرونی طاقتوں کی ایما پر، غیر ملکی ا?قاو?ں کو خوش کرنے کے لیے قومی سیاسی جماعتیں دفاعی بجٹ کو متنازعہ بنا کر پاکستان کے دشمنوں سے وفاداری نبھاتے رہی ہیں۔ بد قسمتی سے علاقائی سیاسی جماعتوں کی سیاست بھی غیر ملکی فنڈنگ کی وجہ سے چلتی ہے یوں ایسی جماعتوں کے قائدین کو بھی دفاعی بجٹ کی وجہ سے پریشانی رہتی ہے اور بعض اوقات یہ پریشانی تکلیف میں بدل جاتی ہے۔ غیر ملکی دشمنوں کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اکثر و بیشتر سیاست دان چھوٹے چھوٹے فائدے اور محدود مفادات کی لالچ میں اس اہم ترین مسئلے کو بھی سیاسی رنگ دے کر متنازع بنانے کی کوششیں کرتے آئے ہیں۔ ان دنوں بھی یہ سلسلہ عروج پر ہے۔ تنقید کی حالیہ لہر کی اصل وجہ دفاعی بجٹ سے زیادہ کرپشن مقدمات سے عوام کی توجہ ہٹانا، دفاع کے شعبے کو متنازع بنانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عوامی ہمدردی کا حصول ہے۔ تنقید کی حالیہ لہر کا ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ہدف افواج پاکستان ہے۔ تنقید کا مقصد دفاعی اداروں کو ملک کے اندر ہی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے پیچھے کوئی روحانی مخلوق ہے۔ حالانکہ یہ تاثر غلط ہے۔ درحقیقت یہ سارے کیسز میرٹ پر ہیں اور سیاسی ادوار میں ہی دائر ہوئے ہیں،کرپشن، لوٹ مار، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ سمیت تمام کیسوں میں سیاست دان ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ ملوث ہیں۔ سرکاری خزانے کو بیرحمی سے لوٹا گیا، قرضوں کی رقم بھی لوٹی گئی، معیشت تباہ ہو گئی، ملک ہزاروں ارب ڈالر کا مقروض ہو گیا ان حالات میں ملک بچانے، عوام کو لٹیروں سے نجات دلانے، عوام کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مخلوق تو حرکت میں آئے گی، وہ ان دیکھی مخلوق ہو، وہ خلائی مخلوق ہو یا روحانی مخلوق ہو یا پھر خدائی مخلوق کسی نہ کسی نے تو وطن کی مٹی سے وفا نبھانی ہے، کوئی تو ہو گا جو آگے بڑھ کر ڈوبتی کشتی کو بچانے کی کوشش کرے گا، ان حالات میں کوئی نا کوئی مخلوق تو حرکت میں آئے گی جو لٹیروں کو چن چن کر ان کے گھروں سے نکالے گی اور تمام شعبوں میں موجود کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرے گی۔ جب سیاست دان سیاست کو گندا کر دیں، ملک کو دیوالیہ کر دیں، عوام کے جذبات سے کھیلتے رہیں انکی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے رہیں تو پھر کائنات کا نظام بھی چل رہا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو قدرت بھی انتقام لیتی ہے۔ اس انتقام سے کوئی نہیں بچ سکتا، وہ طاقتور ہو یا کمزور،پکڑ میں آتا ہے۔آج بڑے سیاست دان اپنے ظلم،کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ملک کو ہزاروں ارب ڈالر مقروض کرنے والے کس ڈھٹائی سے دفاعی بجٹ کو متنازع بناتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاست دانوں نے جمہوری دور میں لوٹ مار کا بازار گرم نہیں کیا، کیا سیاست دانوں نے کرپشن، لوٹ مار اور منی لانڈرنگ نہیں کی، کیا سیاست دانوں نے گذشتہ دس برس میں ملک پر چوبیس ہزار ارب ڈالر قرض کا بوجھ نہیں ڈالا، کیا انتظامی معاملات کو اتنا خراب نہیں کیا کہ نظام نیچے گر جائے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ خرابیاں اور غلط فیصلے حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے یہ سب خرابیاں بیرونی آقاﺅں کے اشارے پر پیدا کی ہیں تاکہ ملک کو نقصان پہنچانے کا کام آسان ہو سکے، وہ باہر بیٹھے دشمن جنہوں نے ہمیں آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا انہیں ہمارے خلاف کارروائی کا موقع مل سکے، ایسے تمام اقدامات ملک دشمنوں کا کام آسان کرنے کے لیے کیے گئے، ہمارے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے ہیں، ہمارے دفاعی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ملک کو قرضوں کے جال میں جکڑنے کے منصوبوں کے پیچھے ایٹمی اثاثوں کے دشمن ہیں اور ہمارے سیاستدان ان کے آلہ کار بنے رہے یہی وہ عناصر ہیں جن کے پیٹ میں دفاعی بجٹ کو دیکھ مروڑ اٹھتے ہیں۔قارئین کرام اصل مسئلہ ہی ملکی دفاع ہے، جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے، ملک ہے تو ہم ہیں، ملک کے وجود سے ہی تمام سہولیات میسر ہیں، ملکی وجود ہی آسائشوں کی وجہ ہے، ملک کی موجودگی سے ہی آسانیوں کا سامان ہے اور ملک کا دفاع دفاعی اداروں کی قوت سے مشروط ہے۔ جب ہزاروں قیمتی جانوں کا نذرانہ ملک کے دفاع کے لیے پیش کیا جا چکا ہو تو کیا پیسے انسانی جان سے زیادہ اہم ہیں، جس قوم کے جوان ملک کے دفاع کے لیے جان دینے سے گریز نہیں کرتے اس ملک کے حکمران اگر دفاع پر اٹھنے والے خرچ کو بوجھ سمجھیں تو کیا انہیں وطن دوست اور خیرخواہ سمجھا جا سکتا ہے، آج کے دور میں یہی سوال سب سے اہم ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ایسی منفی تحریکوں کی حمایت کرتے ہوئے بیرونی دشمنوں کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
حکمران تو ریاست کے محافظ ہوتے ہیں وہ ملک کے دفاع کے لیے سب سے پہلے جان دیتے ہیں، وہ تو ملک کی خاطر تم من دھن لٹانے سے بھی گریز نہیں کرتے یہ کیسے سیاست دان ہیں جو دفاع کی قوت کو کم کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔سیاست دانوں کو دفاعی بجٹ سے تکلیف پہنچتی ہے لیکن وہ اپنی شاہ خرچیوں کو کم کرنے پر تیار نہیں ہیں، وہ قوم کے پیسے کو امانت سمجھ کر خرچ کرنے کو تیار نہیں ہیں، وہ ملک کے سرمائے کو درست انداز میں استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اپنے اخراجات کو کم نہیں کرنا چاہتے لیکن ملک کے دفاع پر سمجھوتا کرنے پر تیار ہیں۔میرے پیارے پاکستانیو، موجودہ نظام حکومت کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ اسمیں اخرجات وسائل سے کہیں زیادہ ہیں، یہ نظام حکومت ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، یہ ایسا نظام ہے جس میں سرمایہ عوام کے بجائے اس کے منتخب نمائندوں کی فلاح و بہبود پر زیادہ خرچ ہوتا ہے، یہ نظام حکومت ملک دشمنوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ بیرونی دشمنوں کے اندرونی آلہ کار اس نظام حکومت کا ڈھنڈورا اس لیے پیٹتے ہیں کہ نظام حکومت بدلا تو انکی اپنی دوکانداری بند ہوتی ہے۔ لوٹ مار کا راستہ بند ہو جائے گا، بیرونی مداخلت کم ہو جائے گی، وسائل پر گرفت کمزور ہو جائے گی، عام آدمی ترقی کرے گا۔ موجودہ نظام کے حمایتی ذاتی مفادات کے پیش نظر اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ اصل مسئلہ دفاعی بجٹ نہیں کچھ اور ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم نے اس کمزور نظام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے یا پھر مضبوط نظام اور دفاع کے ساتھ آے بڑھنا ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ملک دشمنوں کی کارروائیوں میں شدت آتی جا رہی ہے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نظام حکومت کو بدلیں اور دشمنوں کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیں۔دوسری طرف دفاعی اداروں کے لیے بھی لازم ہے کہ دور جدید میں شفافیت کے تمام تقاضوں کو پورا کریں، عوام کو براہ راست اعتماد میں لیں، قومی سلامتی کے اہم معاملات پر بھی عوام کو اعتماد میں لیں اور انہیں حقائق سے آگاہ کریں تاکہ انہیں بہتر فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ ہمیں ہر صورت اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے کیونکہ ملکی دفاع انکی قوت اور طاقت سے مشروط ہے۔ ملکی دفاع کو کم کرنے کی ہر کوشش ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کی جاتی ہے ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایسی تمام سازشوں کا ڈٹ کر اور متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*