حکومت کی انتہائی پسے ہوئے طبقات پر خصوصی توجہ

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز مختلف فلاحی اداروں کے سربراہان اور مخیر حضرات کے ہونے والے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کے انتہائی پسے ہوئے طبقات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے انسانیت اور محروم طبقوں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور اس کار خیر میں کرنےوالے افراد اور اداروں کا کردار قابل تحسین ہے ۔
متحدہ عرب امارات پاکستان کی با اعتماد دوست ملک ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے اور فراحدلانہ مدد کی ہے ۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصڑ کا مذکورہ بیان بلاشبہ قابل تعریف ہے حکومت کا مذکورہ اقدام اچھا ہے لیکن انہوں نے یہاں پر واضح نہیں کیا کہ ان کی انتہائی پسے ہوئے طبقات سے کیا مراد ہے ان ضرورت معنوں میں سفید پوش لوگ بھی ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب پیشہ ور بھکاری جو بھی اپنے آ پ کو ضرورت مند قرار دیتے ہیں اب یہاں فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان میں انتہائی پسا ہوا طبقہ کونسا ہے ؟ اس طرح اس سلسلے میں حقدار طبقے کی بھر پور مدد کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں اس کےلئے معاملے کی اچھی طرح چھان بین انتہائی ضروری ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملک پسے ہوئے طبقات کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں بےروزگار نوجوان ،علاج کی سکت نہ رکھنے والے اور دو وقت کی روٹی میسر نہ ہونے والے پہننے کےلئے کپڑوں کا نہ ہونا اور سرچھپانے کےلئے چھت سے محروم لوگ شامل ہیں ان میں ایسے سفید پوش لوگ بھی ہیں جو کبھی کسی کے سامنے ہاتھوں نہیں پھیلاتے اصل میں یہ طبقات پسے ہوئے ہیں جن کی مدد کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہےے اس کےلئے ملک زکوة اور عشر کا بھی نظام قائم ہے اگر ہمارے ملک میں یہ نظام صحیح ہوجائے تو پھر کسی بھی فلاح ادارے اور مخیر مخیر حضرات کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ ہمارے ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اگر ایمانداری اور دیانت داری سے زکوة اور عشر دیں تو پھر ملک میں کوئی بھی طبقہ پسا ہوا ہوا نظر نہیں آئے گی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خصوصاً مخیر حضرات اس کا میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان سے پوچھنے والا کوئی ادارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے مال میں صحیح طریقے سے زکواة کیوں نہیں نکالتے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ملک کے انتہائی پسے ہوئے طبقات کی فوری مدد کےلئے زکواة اور عشر کے نظام کے پوری طرح فعال کرنا چاہےے ان محکموں کے نگراں ایماندار اور دینتدار لوگوں کو بنایا جائے جو اپنے اپنے علاقوں میں پسے ہوئے طبقات کی فوری مدد کریں اس طرح یہ طبقات اپنی ضروریات زندگی پورے کرسکتے ہیں اس پر حکومت کو چیک اینڈبیلنس کا ایک شفاف نظام بنانا چاہےے جوکہ انتہائی ناگزیر ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر پسے ہوئے طبقات اسی طرح موجود رہیں گے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*