ایک اور نئے پاکستان کے سفر میں رکاوٹیں!!!

محمد اکرم چوہدری
میرے عزیز پاکستانیو، میرے قارئین آج ہم اپنی بات کرتے ہیں یعنی عام پاکستانی کی، وہ پاکستانی جو آپ ہیں، جو ہم ہیں، وہ جو ایک اور نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ مافیا کے چنگل سے نکلنا چاہتے ہیں، وہ جو طاقت سے محروم ہیں، وہ جن کے نام پر اقتدار حاصل کر کے حکمران طبقہ ذاتی فائدے حاصل کرتا ہے، کیا اس نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، کیا آپ نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے؟؟
میرے پیارے پاکستانیو! کیا آج تک ملک کو پہنچنے والا نقصان عام آدمی کی وجہ سے پہنچا ہے۔ کیا ملک کو مقروض عام آدمی نے کیا ہے، کیا حالیہ تباہی و بربادی کا ذمہ دار عام پاکستانی ہے، کیا ملک کی بنیادیں کم وسائل کے حامل افراد نے کھوکھلی کی ہیں، کیا کبھی ملک پر حکمرانی کم قوت خرید رکھنے والے افراد نے کی ہے، کیا ملکی خزانہ عام آدمی نے لوٹا ہے، کیا ملک کو انتظامی طور پر تباہ عام آدمی نے کیا ہے، کیا ملک پر حکمرانی ایک سائیکل چلانے والے نے کی ہے، کیا طاقت اور اقتدار کا کھیل کریانہ سٹور والے کھیلتے رہے ہیں، کیا ملکی وسائل پر اتوار بازار میں سٹال لگانے والوں کا قبضہ رہا ہے، ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ ملک پر حکمرانی مخصوص طبقے نے کی ہے، ملکی وسائل کو بیدردی سے لوٹنے والا طبقہ بھی مخصوص ہے، ملک کو انتظامی طور پر تباہ ہم نے اور آپ نے نہیں کیا، ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے ہم اور آپ نہیں ہیں، ان ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث افراد کو مافیا کہا جاتا ہے، یہ مفاد پرست سرمایہ دار ہیں، یہ خود غرض مالداروں کا گروہ ہے،یہ بے رحم افراد کا ٹولہ ہے جو قیام پاکستان سے آج تک کسی نہ کسی صورت میں اقتدار، وسائل اور اختیار پر قابض رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا منشور نیا پاکستان تھا، عمران خان کا وڑن ایک پاکستان تھا، عمران خان کا نعرہ عام آدمی کا پاکستان تھا، عمران خان کا مقصد مافیا کو جڑ سے اکھاڑنا تھا، عمران خان کا ووٹ بینک روایتی اقتدار اور ذاتی مفادات کی سیاست کی نفی کرتا ہے، کیا حکومت میں آنے کے بعد عمران خان اپنے دعووں، وعدوں اور نعروں پر قائم ہیں، کیا آ ج ہم ایک اور نئے پاکستان کی تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیا ہم مافیا کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں، کیا ہماری سیاست کا مرکز عام آدمی ہے، کیا آ ج بھی منتخب نمائندے اپنے عہدے اور مرتبے کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، کیا آج بھی ناجائز منافع خوری کا بازار گرم ہے؟؟؟
کیا آج بھی محب وطن، بے لوث، مخلص اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والوں کے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں تو میرے پیارے پاکستانیو بدقسمتی سے آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ آج بھی آپکی خدمت کے نام پر ووٹ لینے والوں کے لیے اپنی تجوریاں زیادہ اہم ہیں، آج بھی ناجائز منافع خور، خود غرض اور لالچی سرمایہ داروں نے حکومت کو بے بس کر رکھا ہے۔ جو کوئی بھی ان کے مفادات کو ٹھیس پہنچاتا ہے، ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، عوام کے درمیان رہ کر حقیقی معنوں میں ان سے لڑتا ہے یہ متحد ہو کر اس پر حملہ آور ہوتے ہیں، ان کا مقصد اقتدار میں رہتے ہوئے صرف اور صرف مال و دولت جمع کرنا ہے۔ انہیں عوامی مسائل سے غرض نہیں، انہیں مہنگائی سے غرض نہیں، انہیں سسکتے پاکستانیوں کا کوئی درد نہیں، انہیں محروم پاکستانیوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔
بدقسمتی سے انتظامیہ جو کہ ریاست کی ملازم ہے وہ اس مافیا کی غلام ہے، ریاستی ادارے ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر ریاست کے اداروں نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا تو آج ملک کا یہ حال ہوتا، اگر ریاست کے ملازم ریاست کے وفادار رہتے تو آج عام پاکستانی کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی، اگر مقامی انتظامیہ ایمانداری اور دلجمعی سے کام کرتی تو اشیاءخوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتیں، یہ سب مافیا کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ عوام کو آزاد نہیں ہونے دینا۔ یہ سب مل جل کر عوام کی جیبوں پر حملہ آور ہیں، سفید کپڑوں میں ملبوس مفاد پرست کالے دھندے میں مصروف ہیں۔
ہم نے اس مافیا کو للکارا ہے، اس مافیا کے راستے کی دیوار بنے ہیں، نتیجتاً ہمارے خلاف منفی مہم جاری ہے، نام نہاد عوامی خدمت کے دعویدار اس مافیا کے ہمسفر نظر آتے ہیں۔ وہ جو عام زندگی میں حق اور سچ کا درس دیتے ہیں، ملکی مفادات کے تحفظ کا درس دیتے ہیں، وہ جو عوامی مسائل کا نام نہاد درد رکھنے کا درس دیتے ہیں وقت آنے پر وہ اس مافیا کی زبان بنتے ہیں، انکی آواز بنتے ہیں، ان ناجائز منافع خوروں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، اس مافیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے غلط بیانی کرتے ہیں، عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج بھی وہ عوام سے حقائق چھپا کر اور حقائق کو تروڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔کیا وہ نہیں جانتے ان کے یہ الفاظ کوئی لکھ رہا ہے، کیا وہ نہیں جانتے کہ کہیں انہیں ان الفاظ کا حساب دینا ہے، جوابدہ ہونا ہے، کیا وہ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ ایک روز ان کے جسمانی اعضائ گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے مالداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے وہ کسی بھول میں ہیں ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے سرمایہ داروں اور بڑے ناجائز منافع خوروں کو روکتے ہوئے اپنے فرائض ادا کیے ہیں، ہم نے کسی سے کوئی ذاتی فائدہ ہرگز حاصل نہیں کیا البتہ عوام کے فائدے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا،، آدھا سچ بولنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ ہمارا اپنے خاندانی فوڈ بزنس سے انیس سو چوراسی سے کوئی تعلق نہیں البتہ کاروبار کی سمجھ بوجھ کی وجہ اس نام نہاد عوامی خدمت گاروں کے ذاتی مفادات اور ناجائز منافع خوری کو ہماری وجہ سے نقصان پہنچا ہے اور ان اقدامات سے عوام کو فائدہ پہنچا ہے۔ ہمارا مقصد اورمرکز عوام تھے اور ان تک ہم پہنچے ہیں۔
میرے پاکستانیو ہم آپ کے ساتھ تھے، ہم آپ کے درمیان ہیں، ہم آپکے مفادات کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہمیں مافیا اس لیے نشانہ بنا رہا ہے کہ ہماری سیاست کا محور عام پاکستانی ہے، ہمیں اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کہ ہمارا مقصد عام پاکستانی کا معیار زندگی بلند کرنا ہے، ہماری کردار کشی اس لیے کی جا رہی ہے کہ ہم نے وسائل سے محروم، کم آمدنی والے طبقے کے حقوق کی جنگ لڑی ہے، ہم نے بڑے سٹور والے چھوٹے دل اور مل مالکان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، ہم نے عمران خان کے وڑن کے مطابق ایک اور نئے پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ہم نے اچھے کھانے سے محروم افراد کا پیٹ بھرنے کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یہ سفر جاری رہے گا۔
میرے عزیز پاکستانیو! آپ جان لیں کہ آ ج بھی وسائل سے محروم افراد کو دبائے رکھنے کے لیے مفاد پرستوں کا ٹولہ متحد ہے، وہ اسمبلیوں کے اندر بھی باہر بھی ہیں یہی وہ مافیا ہے جو ایک اور نئے پاکستان کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم کے وڑن کے عین مطابق یہ لٹیرے انجام کو پہنچیں گے۔ ایک اور نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایک فلاحی ریاست بنے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*