وزیراعظم صاحب آپ کب عوام کےساتھ کھڑے ہونگے؟

تحریر:محمد اکرم چودھری
ڈالر کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے، ڈالر کی بڑھتی قیمت کے ساتھ ہی عوام کا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے، ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عام آدمی ڈالر کی خرید و فروخت میں تو شامل نہیں ہوتا لیکن اس کی قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہی ہوتا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے زندگی گزارنے کی بنیادی اشیائ اس کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ بے چینی بڑھتی ہے، قوت خرید کم ہوتی ہے، بیروزگاری بڑھتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے، سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔اب حکومت ایمنسٹی سکیم کی طرف جا رہی ہے، یہ قوم کی کیسی خدمت ہے، کیا یہ سکیم حلال ہے، کیا یہ عمل جائز ہے، کیا اس میں عام پاکستانیوں کا فائدہ ہے، کیا اس سکیم سے خوانچہ فروش نے فائدہ اٹھانا ہے، کیا اس سکیم سے چنگ چی کا ڈرائیور مستفید ہو گا، کیا اس ایمنسٹی سکیم سے کریانہ سٹور والے کو فائدہ پہنچے گا، کیا یہ سکیم عام پاکستانیوں کے لیے لائی جا رہی ہے، کیا اس سکیم سے فائدہ کم تنخواہ والے اٹھائیں گے، کیا اس سکیم سے کم قوت خرید والے پاکستانیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ میرے وزیراعظم اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ ایک پاکستان کے نظریے، سوچ اور فکر کے خلاف ہے، اگر یہ سکیم خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے تو یہ نئے پاکستان کے نظریے سے متصادم ہے۔ اگر لٹیروں کے لئے ایمنسٹی سکیم لائی جا سکتی ہے تو عام آدمی کے لیے لگ بھگ چالیس اشیاء خوردونوش پر تین چار سو ارب کی سبسڈی کیوں نہیں دی جا سکتی، عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے لیے ان اشیا کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے لیے نیپرا، اوگرا کی طرز پر ایک آزاد اور خود مختار ادارہ کیوں قائم نہیں کیا جا سکتا۔ آج ہم اس اہم ترین مسئلہ پر اپنے پاکستانیوں سے بات کریں گے، انہیں بتائیں گے کہ ان کی زندگی میں، کچن میں اصل مسئلہ کیا ہے، اس مسئلے کی حل میں رکاوٹ کیا ہے اور حکومتیں ہمیشہ اس اہم ترین مسئلے کو نظرانداز کیوں کرتی آئی ہیں۔واپس ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر آئیں، آج ہم لگ بھگ صرف چھ ارب چالیس کروڑ ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے آگے بچھے بچھے جا رہے ہیں، ہم سات ماہ میں نو ارب ڈالر تین مختلف ممالک سے لے چکے ہیں اگر ہم نو ارب ڈالر لینے کے بعد بھی معیشت کو مضبوط نہیں کر سکے، بحران سے نہیں نکل سکے تو آئی ایم ایف کے چھ ارب چالیس کروڑ ڈالر سے کیسے بحران سے نکل جائیں گے؟ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی طرف آنا ہو گا۔ عوام کو مشکل حالات کے لیے تیار رہنے کے مشورے دینا کیا یہی حکومت ہے، کیا یہی گڈ گورننس ہے، عوام نے بیلٹ باکس کے ذریعے اپنا کام کر دیا تھا، کیا عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ اس لیے دیا تھا کہ زندگی اجیرن ہو جائے، عوام نے تو ووٹ دے کر اپنی ذمہ داری ادا کر دی تھی۔ اب ذمہ داری وزرا کی ہے، اب باری حکومت کی ہے۔ ووٹرز ڈیلیور کر چکے اب ڈیلیور کرنے کی باری حکومت کی ہے۔ اگر ہر گزرتا دن عام آدمی کے مسائل میں اضافہ کرے سرمایہ کاروں اور مافیا کو تحفظ دے تو پاکستان تحریک انصاف کا ووٹر کہاں جائے گا کس سے سوال کرے، کیسے دفاع کرے گا، کیسے وضاحت دے گا، کیسے گھر سے باہر نکلے گا، کیسے لوگوں کو قائل کرے گا کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے یہ کیسے فیصلے ہیں یہ کیسے اقدامات ہیں، کیا ہم ایک پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیا ہم نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ہم محسوس کرتے ہیں کہ آج بھی ملک طبقوں میں بٹا ہوا ہے، سرمایہ دار کا پاکستان اور ہے، ملازم کا پاکستان اور ہے، کم وسائل کے حامل افراد کا پاکستان اور ہے مالدار کا پاکستان اور ہے، کیا یہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور سے انحراف نہیں ہے، ہم کیوں طبقاتی تقسیم کا حصہ بن رہے، کیوں اس خلیج کو وسیع کرنے کے اسباب پیدا کر رہے ہیں، پاکستان کے نوجوان نے عمران خان کو ووٹ ڈالا ہے، پاکستان کا نوجوان آج بھی اپنے وزیراعظم کی طرف دیکھ رہا ہے، وہ پوچھ رہا ہے کہ مسٹر پرائم منسٹر آپ کب ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے، آپ کب ہمارے مسائل پر توجہ دیں گے، وہ پوچھ رہا ہے مسٹر پرائم منسٹر آپ کب ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے فیصلے کریں گے؟ہم ڈالرز لیتے جائیں تقاریر کرتے جائیں لیکن جب تک عام آدمی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا کوئی کامیابی نہیں مل سکتی، عام آدمی کے لیے سب سے اہم مسئلہ کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کی کم قیمتوں پر دستیابی ہے۔ یہی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے اور بدقسمتی سے اس کے حل کے لیے کہیں کوشش نظر نہیں آتی یہ بات طے ہے کہ اشیاء خوردونوش کی فراہمی اور قیمتوں کو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک منظم مافیا ہے، ان کا کام صرف اپنا کام چلانا ہے، یہ کبھی عوام کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے، یہ حکومت کو ناکام کرنے کے لیے ہر راستہ اختیار کریں گے ریاست کے یہ ملازم عوام کا خون چوسنے والی وہ خوش نما مشینیں ہیں کہ ہر حکومت ان کے بغیر چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن اب وقت آگیا ہے کہ حکومت معصوم و مجبور عوام کو ان کے چنگل سے نکالے۔ کھانے پینے کی کم از کم چالیس اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے لیے دور جدید کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے، آزاد اور خود مختار ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے، یہ ادارہ ہر قسم کی سرکاری و سیاسی مداخلت سے پاک ہو اور ہر حال میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کا پابند ہو۔ یہ مشکل نہیں اگر عوام کی فلاح کے ارادے کو سامنے رکھتے ہوئے ساتھ مضبوط قوت ارادی کے ساتھ کام کیا جائے۔ حقائق جاننے کے باوجود بھی ہم مصلحتوں کا شکار رہے تو پھر تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہم نے اب بھی یہ فیصلہ نہ کیا تو عوام سرمایہ داروں اور ضلعی انتظامیہ کے چنگل میں پھنسے رہیں گے، خوار ہوتے رہیں گے اور حکومت کو برا بھلا کہتے رہیں گے۔ضلعی انتظامیہ صرف اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، وہ کریانہ سٹور کے مالک، ایک ریڑھی لگانے والے کا مال بھی ضبط کرتی ہے، ایف آئی آر بھی کرواتی ہے، جرمانہ بھی کرتی ہے لیکن یہی ضلعی انتظامیہ کسی بڑے سٹور کا رخ نہیں کرتی، کسی بڑے ناجائز منافع خور پر ہاتھ نہیں ڈالتی، کسی سرمایہ دار کو نہیں پکڑتی، آج بھی ضلعی انتظامیہ پرانے پاکستان کے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے۔ کیا یہ محدود وسائل اور کم قوت خرید رکھنے والوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی نہیں ہے، کیا احتساب صرف منتخب افراد کا کیا جائے گا، کیا تحریک انصاف کی حکومت بھی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی، کیا عمران خان بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح چند خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف رہیں گے، کیا میرے وزیراعظم اپنے حقیقی ووٹرز کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائیں گے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجبور کو حوالات میں بند کر دیا جائے اور طاقتور کو عزت کے ساتھ رخصت کر دیا جائے، یہ ایک اور نئے پاکستان کے فلسفے سے متصادم ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے حقیقی معنوں میں عملی اقدامات کرنا ہونگے۔ ماہر وہ ہوتا ہے جو کام سے فرق ڈالے، نام کے ساتھ ماہر اور تجربہ کار لکھنے سے کوئی ماہر یا تجربہ کار نہیں ہو جاتا، کامیاب وہ ہے جو عوام کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرے۔ حکومت کو اپنی بنیاد پر واپس آنا پڑے گا، وعدے نبھانا ہوں گے، نئے اور ایک پاکستان کے دعوے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی میں بقا ہے، اسی میں عزت اور یہی ذمہ داری بھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*