افغان کمبل اور امریکہ

تحریر:محمد اسلم خان
کابل سے قطر تک پسپائی کے نقارے بج رہے ہیں۔ دوحا مذاکرات میں تاخیر سے امریکی طاقت کی تکون “ میکلین ” میں اک ہنگامہ برپا ہے۔ پہلے اشاروں کنایوں میں اور اب کھلم کھلا ”افغان کمبل“ سے جان چھڑانے کیلئے شور و غوغہ کیا جا رہا ہے۔افغانستان سے امریکہ کی پسپائی دیوار پر لکھی جاچکی ہے‘ راستہ کون سا ہوگا،ذلت آمیز شکست کے بعد رسوائی اور پسپائی یا پھر باوقارمعاہدے کے بعد منظم انخلا فیصلہ خود امریکیوں نے کرنا ہے۔طالبان کے چیف مذاکرات کارملا شیر محمد عباس ستانگزئی نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی شکست تسلیم کرچکا ہے اب صرف واپسی کے راستے اور طریقہ کار بارے فیصلہ کرنا ہے، آبرومندانہ واپسی یا پھرذلت آمیز پسپائی دونوں راستے موجود ہیں، فیصلہ ہم نے نہیں امریکیوں نے خود کرنا ہے ہم تو صرف انکے فیصلہ کا انتظارکررہے ہیں ملا ستانگزئی نے کہا ہے کہ افغان کوہساروں میں تاریخ اپنے آپکو دہرارہی ہے۔ برطانوی سامراج ہویا وحشت ناک آنجہانی سوویت یونین‘ شکست عالمی طاقتوں کا مقدر بنی۔اب امریکہ اور 28 ممالک کی افواج ناکام ونامراد واپس جارہی ہیں۔لوگر سے تعلق رکھنے والے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستانگزئی فوجی امور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔یہ دلچسپ حقیقت ہے شیر محمد عباس ستانگزئی اور موجودہ کٹھ پتلی صدر اشرف غنی مایہ ناز امریکی کولمبیا یونیورسٹی میں ہم سبق اور ہم جماعت رہے ہیں جسے اب چھپایا جاتا ہے اعتدال پسند عباس ستانگزئی سابق افغان صدر استاد برہان الدین ربانی اور سلفی عقائد کے حامل عبد الرب رسول سیاف کے ساتھ کام کر چکے ہیں جو آل سعود سے قربت رکھتے ہیں۔ طالبان حکومت میں نائب وزیر خارجہ رہے۔عباس ستانگزئی فوجی اور سیاسی امور کے ماہر ہفت زبان ہیں لیکن انگریزی زبان پر انہیں خصوصی مہارت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ افغان باقی کوہسار باقی۔ گذشتہ صدی میں برطانیہ اورسوویت یونین جیسی بڑی عالمی طاقتوں کو شکست فاش دی اورآج ہم امریکی اورنیٹو افواج کودیوارکے ساتھ لگاچکے ہیں اوروہ شکست کے کنارے پرکھڑی ہیں۔اس کالم نگار کو 80 کی دہائی میں ثمر خیل چھاﺅنی کی قرار گاہ میں نیم خواندہ افغان کمانڈر بہرام خان کی گفتگو یاد آرہی ہے جس نے کہا تھا کہ افغانوں کو قدامت اور کہنگی نے بچا لیا جو ہمارے لئے مضبوط دفاعی دیوار بن گئی اور سوویت یونین کی ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی سرخ فوج اس دیوار کہنہ سے سر ٹکرا ٹکرا کر واپس جارہی ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کماندار نے بتایا تھا کہ اس جہاد سے پہلے میری روزمرہ زندگی آدھا دن پانی کا مشکیزہ بھر کر لانا اور آدھا دن کھیتی باڑی کرنا تھا جہاد نے میری پرسکون زندگی پر صرف یہ اثر ڈالا کہ گھر گرہستی کی فکر سے آزاد کردیا، خاندان پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں چلا گیا، میں جہاد کیلئے اپنے علاقے میں بروئے کار ہوں جسکے چپے چپے سے میری شناسائی اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح ہے میں تو روکھی سوکھی کھا کر مادروطن کی آزادی کیلئے لڑتا رہوں گا۔ میرے بعد میرا بیٹا بندوق اٹھا لے گا اور یہ سلسلہ غاصب فوج کی پسپائی تک جاری رہے گا۔تاریخ ایک بار پھر اپنے آپکو دہرا رہی ہے اب سوویت یونین کی سرخ فوج کی جگہ امریکہ اور اس کی اتحادی نیٹو افواج لے چکی ہیں اور میدان جنگ میں ثمر خیل کے نواح میں بہرام خان کا جوان سال بیٹا اپنے عظیم باپ کی قدیم بندوق کی جگہ خودکار گن اٹھائے محاذ پر داد شجاعت دے رہا ہوگا کہ زمانے بیت جانے کے باوجود قدامت اور کہنگی آج بھی افغانوں کی محافظ ہے۔ سوویت یونین کے بعد امریکی بھی افغانستان سے فرار کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔سابق وزیردفاع اورنامورجرنیل رابرٹ گیٹس کہتے ہیں کہ کابل انتظامیہ کے اپنے قدموں پر کھڑاہونے سے پہلے امریکی اتحادی افواج کاانخلا مکمل بربادی ہوگا۔ طالبان سے جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی کم ہوتے ہوئے ختم ہوکررہ گئی ہے۔افغانستان کی تعمیرنومتعلقہ امریکی ادارے کے سربراہ جان سپکونے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ سے متعلقہ اعدادوشمارجاری کرنابند کردیئے ہیں۔اب اس بات کا تذکرہ نہیں ہوتاکہ طالبان کے زیرانتظام علاقے اورصوبے کتنے ہیں، ہلاکتوں کے اعداد وشمار کیا ہیں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے کہ فٹ بالر میچ کے درمیان میں سکور بورڈ بند کردیاجائے کہ میچ کے اتارچڑھاﺅسے شائقین کو کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی عوام کو 18 سال سے جاری اس بے مقصد جنگ سے متعلق مکمل اندھیرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔2008 سے افغان تعمیرنوکا محکمہ اور انسپکٹرجنرل کا دفترسہ ماہی رپورٹ شائع کرتارہا ہے جس میں تعمیرنواورجنگ سے متعلقہ معلومات اوراعدادوشمار دیئے جارے تھے امریکی ٹیکس دھندگان کوباخبررکھاجاتاتھااورمحاذ پر لڑنیوالوں کے اہل خانہ کوبھی باخبررکھا جاتاتھا لیکن اس رپورٹ میں اعداد وشماردینا بند کردیا گیا ہے اب ہلاکتوں کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں ہوتا نہ ہی افغان افواج کی کارکردگی کا جائزہ لیاجاتا ہے۔حقائق یہ ہیں کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال حملوں کی شدت میں 19فیصد اضافہ ہوا ہے افغان فوج کی ہلاکتوں میں 31فیصد اضافے دیکھنے میں آیا۔ دوحا مذاکرات کے دوران اپریل سے طالبان نے (انگلش آنی ہے) کاآغاز بڑے طمطراق سے کیا ہے۔طالبان کا ہدف واضح ہے کہ کسی بھی معاہدے کی صورت میں امریکی اوراتحادی افواج کا انخلا شرط اول ہوگا جبکہ طالبان صرف یہ یقین دہانی کرائیںگے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان افغان سرزمین کو غیرمطلبی طریقوں سے استعمال میں نہیں لائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ شام سے شروع ہونیوالی پسپائی کا سفر کابل تک آن پہنچا ہے امریکی شاطر شاہ دماغوں نے افغان جنگ جیتنے کا خیال دل ودماغ سے نکال دیا ہے اب وہ کابل سے بساط لپیٹنے کا فیصلہ کرچکے ہیں لیکن فیس سیونگ چاہتے ہیں جو طالبان خوش دلی سے دینے کو تیار ہیں اب صرف جزیات کامعاملہ ہے جو کسی بھی وقت طے ہوسکتی ہیں۔یہ معاملہ بھی طے ہوچکا کہ طاقت کے بل بوتے پرطالبان سے شرائط منوانا ناممکن ہوگا اس کیلئے سرجھکا کر پشتو میں نرم لہجے میں بات کرنا ہوگی زلمے خلیل زاد یہی کررہے ہیںاوراسلام آباد میں مخبچے پشتون دانشور تلملارہے ہیں جن کے دودھ کے دانت ابھی نہیں گرے۔ طالبان کے افغان منظرنامے پر فاتحانہ واپسی پر سر پیٹ رہے ہیں الٹی سیدھی کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔لیکن بھول رہے ہیں کہ دیوار پر لکھا ہے۔
“دل کا جانا ٹھہر گیا “ صبح گیا یاشام گیا”
کابل میں بساط لپٹ رہی دوحامیں کوچ کے نقارے گونج رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*