نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی مثبت سوچ کاش عالمی ٹرینڈ بن جائے

تحریر:نصرت جاوید
د±نیا کے بے شمار ممالک میں اقتدار کی ہوس میں جنونی ہوئے کئی سیاست دانوں نے اپنے لوگوں کے دلوں میں نسلوں سے موجود تعصبات کو ہوا دیتے ہوئے ”جمہوری عمل“ یعنی انتخابات کے ذریعے حکومت میں آنے کی روش اپنا لی ہے۔اسے Radical Populismکا نام دے کر کئی حوالوں سے ”معمول“ بتایا جارہا ہے۔کئی سیاسی مفکرین نے بلکہ اس رویے کو جائز ٹھہرانے کے لئے یہ جواز بھی گھڑلیا ہے کہ آج کا دور Rageیعنی بے پناہ غصے سے مغلوب ہوئے افراد کا زمانہ ہے۔ ووٹوں کے محتاج سیاست دان اس Rageپر انحصار کو مجبور ہیں۔ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے شاید ان کے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔قومی، مذہبی یا نسلی بنیادوں پر کھولتے غصے کو ترکی کے ”سلطان اردوان“ نے حیران کن حد تک کیش کروایا۔ ٹرمپ نے تارکینِ وطن کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔ ہمارے ہمسایے میں نریندرمودی کی اصل Baseبھی ہندوانتہا پسندی ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک نسل پرستی کی لہر کے سامنے مفلوج ہوئے نظر آرہے ہیں۔انتہا پسندی کے جنون کے سامنے بے بس دِکھتے عالمی منظر نامے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم Jacinda Ardernیقینا ہوا کے خوش گوار جھونکے کی طرح ا±بھر کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ خدا کرے کہ اس کے شخصی اوصاف فقط اس کے ملک تک محدود نہ رہیں۔ اس کا رویہ ایک عالمی Trendکی صورت اختیار کرلے۔ سیاست دانوں کو اعتبار آجائے کہ لوگوں میں موجود تعصبات کو بھڑکاتے ہوئے اقتدار کا حصول غیر ذمہ دارانہ ہی نہیں غیر انسانی بھی ہے۔ جانوروں والی جبلت کی غلامی ہے۔ جنگل کی رسم ہے۔ انسانوں پر مبنی معاشرے کو تعصبات سے بالاتر ہوکر ہی اطمینان وسکون نصیب ہوسکتا ہے۔گزشتہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں مساجد پر جو وحشیانہ حملہ ہوا وہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو وہاں کا صدر یا وزیر اعظم گھنٹوں تک میڈیا سے چھپارہتا۔ حادثے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات بیان کرتے ہوئے صحافی فقط ”ذرائع“ پر انحصار کرتے۔ حملہ ا?ور کی شناخت اگرہوبھی جاتی تو اس کا نام لینے سے گریز کیا جاتا۔ اسے وحشت کو ا±کسانے والے گروہ یا نظریات کو ”ذمہ دارانہ صحافت“ کے نام پر نظرانداز کرنے کی کوشش ہوتی۔ہنگامی صورت حال میں تھوڑا ٹھہراﺅ آنے کے بعد اس ملک کا صدر یا وزیر اعظم اپنے معاونین کا اجلاس طلب کرتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں بہت سوچ بچار کے بعد ایک مختصر بیان تیار ہوتا۔ اسے متعلقہ ملک کا صدر یا وزیر اعظم تھوڑی ریہرسل کے بعد کیمرے کے سامنے ریکارڈ کروادیتا۔ اس بیان کی ریکارڈنگ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا۔ جائزے کی وجہ سے ممکنہ تبدیلیوں کے بعد اس بیان کو میڈیا کے ذریعے نشر کروادیا جاتا۔Jacinda Ardernنے برسوں سے قائم ہوئی اس روایت کو انتہائی خلوص اور دیانت داری سے توڑ ڈالا ہے۔ مساجد پر حملے کی ہنگامی صورت حال کے ذرا سنبھلتے ہی وہ میڈیا کے روبرو آگئی۔ اس کے ہاتھ میں کوئی سکرپٹ نہیں تھا۔ جو بھی کہا بے ساختہ اور یقینا دل سے نکلا۔ اہم ترین فقرہ اس کا یہ تھا کہ حملے کا نشانہ مسلمان یا غیر ملکی تارکین وطن نہیں تھے۔”They are us”کہتے ہوئے اس نے مقامی اور تارکینِ وطن کے درمیان تخصیص کے پرخچے ا±ڑادئیے۔ اپنے ملک میں آباد ہر شخص کو نیوزی لینڈ کا شہری کہتے ہوئے اپنالیا۔مساجد پر حملے کرنے والا جنونی امریکی صدر ٹرمپ کے نظریات سے بھی بہت متاثر تھا۔ ایک صحافی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے امریکی صدر کے لئے ”پیغام“ کی درخواست کی۔سفارت کاری کا تقاضہ تھا کہ وہ اس سوال کو نظرانداز کردیتی۔ کمال جرآت اور ہمت سے مگر اس نے فریا دکی کہ د±نیا بھر میں موجود مختلف مذاہب اور روایت سے جڑے تمام (ALL)معاشرتی گروہوں۔ (Communities)کے لئے ”ہمدردی اور محبت“ کا رویہ اپنایا جائے۔ دل کی گہرائی سے ا±بھری اس فریا دکو ٹرمپ ابھی تک ہضم نہیں کرپایا ہے۔ اپنے ٹویٹس کے ذریعے “Fake News”کے پرچارک صحافیوں کے لتے لے رہا ہے۔ اصرار کررہا ہے کہ اس کے ”دشمن“ بددیانتی سے اسے نیوزی لینڈ کے سانحے کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔نیوزی لینڈ امریکہ جیسی سپرطاقت کے مقابلے میں انتہائی کمزور ملک ہے۔ America Firstکے جنون میں مبتلا امریکی صدر نے اس کے ملک سے بھیجی کئی اشیاء پر ڈیوٹی بھی لگارکھی ہے۔ امریکہ کی لگائی ڈیوٹی نے نیوزی لینڈ کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔ Jacindaسفارت کارانہ منافقت سے کام لیتے ہوئے ٹرمپ کے بارے میں چند ”دفاعی“ کلمات ادا کرتے ہوئے اس نقصان کے ازالے کی توقع رکھ سکتی تھی۔ انسانی جذبات سے مغلوب ہوئی وزیر اعظم نے دو جمع دو والی ”مہارت“ استعمال کرنے سے مگر اجتناب برتا۔ وہی کہا جو اس کے دل میں تھا۔یاد رہے کہ نیوزی لینڈ آسٹریلیا کا ہمسایہ ہے۔ اس ملک میں پھیلے نسلی تعصب کے اثرات نیوزی لینڈ میں بھی پھیل رہے ہیں۔ حال ہی میں وہاں جو انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں جو پارٹی واحد اکثریتی پارٹی بن کر ابھری تھی وہ آسٹریلیا میں تارکینِ وطن کے خلاف پھیلی نفرت کو اپنا چکی ہے۔Jacindaکو ان انتخابات کے بعد ایک مخلوط حکومت بنانا پڑی۔یہ حکومت قائم کرنے کے لئے اسے ایک ایسی جماعت سے حمایت کی ضرورت بھی تھی جس نے ٹرمپ کی نقل میں ”نیوزی لینڈ فرسٹ“ کا نعرہ اپنارکھا ہے۔مخلوط حکومتوں کے وزرائے اعظم اقتدار میں رہنے کے لئے محتاط رویہ اختیار کرنے کو مجبور ہوتے ہیں۔Jacindaاس مجبوری کو خاطر میں نہیں لائی۔اس کے خلوص نے صرف نیوزی لینڈ کے تمام شہریوں کو تعصبات سے بالاتر ہوکر یکجا نہیں کیا۔ یورپ کے تمام ممالک میں بھی اس کے انسان دوست رویے نے بے تحاشہ افراد کو چونکا دیا ہے۔ وہ دورحاضر کے ایک مثبت Iconکی صورت ابھرکر ہمارے سامنے ا?رہی ہے۔کئی مبصرین کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ دورِ حاضر کی سب سے کم عم وزیر اعظم ہوتے ہوئے Jacindaغالباََ ایک عورت ہونے کے ناطے اپنے ملک میں فطری طورپر موجود ”مادرانہ شفقت“ کی بدولت دنیا کو ایک مثبت اور انسان دوست رویہ دکھاپائی۔Jacindaاپنی جنس کو یقیناتفخر کے ساتھ اپناتی ہے۔ فقط عورت ہونا ہی مگر اس کا اصل وصف نہیں۔اس میں جبلی طورپر موجود”مادرانہ شفقت“ کو نمایاں کرتے ہوئے میری ناقص رائے میں اس کے بہادری سے مالا مال ”سیاسی رویے“ کو اجاگرکرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں انسان دوستی کے پیغام کے فروغ کے ذریعے امن واطمینان کو یقینی بنانے کے لئے اس کے رویے کو مثبت سیاست کی عملی مثال بناکر دکھانا ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*