شیخ بہاﺅالدین زکریا سہروردی

تحریر:طیبہ ضیائ
بزرگان دین کی درگاہوں پر حاضری در حقیقت ان کی خدمات دین کا اعتراف ہوتا ہے۔پروردگار برصغیر پاک و ہند کے ان محسنوں کے درجات بلند فرمائے کہ ہم آج ان کی وجہ سے مسلمان ہیں۔باقی خرافات بدعات و شرک ہمارے جہلا نے ہندوکلچر سے مستعار لے رکھی ہیں۔ حضرت علامہ اقبال نے بجافرمایا کہ بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو،درگاہوں پر دنیا لینے والے ہی حاضری نہیں دیتے بلکہ یہ بزرگ اپنے طالب علموں کی حاضری سے بھی آگاہ ہیں جو ان کے لئے علمی صدقہ جاریہ ہیں اور وہ طالب علموں کے لئے دعا گو ہیں۔ملتان میں مشائخ سہروردی کی درگاہوں پر حاضری کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔شیخ بہاﺅالدین الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمت اللہ سلسلہ سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گزرے ہیں۔سلسلہ سہروردیہ کے صاحبِ کمال بزرگ حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی سب کچھ تھے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ تھے۔ ساتویں صدی ہجری کے مجدد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اسلام کے عظیم مبلغ تھے۔ آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ یہیں 578ھ میں پیدا ہوئے،نسباً سادات ہاشمی ہیں۔آپ چھوٹی ہی عمر میں یتیم ہو گئے۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا پھر بخارا میں تحصیلِ علم کی۔ بعد ازاں حرمین شریفین پہنچے، حج و زیارت سے فارغ ہو کر بیت المقدس میں بھی علم حاصل کیا اور علم حدیث کی خاطر یمن بھی گئے۔ والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ نے محض حصول علم و فن کے لیے پیادہ پا خراسان کا سفر کیا۔ اس کے بعد بلخ، بخارا ،بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال تک مدینہ منورہ میں رہے جہاں حدیث پڑھی بھی اور پڑھائی بھی۔ جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا تو آپ مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور یہاں سے بیت المقدس پہنچ کر انبیاء کرام علیہم السلام کے مزارات کی زیارات کیں۔ اس عرصہ میں آپ نہ صرف علوم ظاہر کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم باطنی کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ بڑے بڑے مشائخ سے ملے۔ 15 سال کی عمر میں حفظِ قرآن، حسنِ قرآت، علومِ عقلیہ و نقلیہ اور ظاہری و باطنی علوم سے مرصع ہو گئے تھے۔ آپ نے حصول علم کے لیے خراسان، بخارا، یمن، مدینہ، مکہ ، حلب، دمشق، بغداد، بصرہ، فلسطین اور موصل کے سفر کئے۔ شیخ طریقت کی تلاش میں آپ، اپنے معاصرین حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت جلال الدین سرخ بخاری اورحضرت لعل شہباز قلندر کے ساتھ سفر کرتے رہے۔یمن سے آپ بغداد تشریف لائے اور شیخ شہاب الدین سہروردی کی خانقاہ پہنچے۔ آپ نے بیعت و خلافت عطا فرما دی۔ملتان میں ہی آپ کا وصال ہوا اور اسی شہر میں آپ کا مزار پر انوار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ مزار بہاﺅالدین زکریا ملتانی فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی وفات ِحسرت آیات 7 صفر 661 ھ کو ہوئی۔ آپ کا مزار شریف قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں مرجع خلائق ہے، مزار کی عمارت پرنقاشی کا کام قابل دید ہے۔اندرون سندھ سے مریدین و معتقدین کے قافلے پا پیادہ حاضر ہوتے ہیں۔آپ کو سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندﺅوں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوااور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔الغرض حضرت شیخ الاسلام کے تبلیغی کے کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرورمتاثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔ حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: “ہر آدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کرلو۔اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو۔اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو”۔بہاﺅالدین زکریا ملتانی کے سات بیٹے تھے لیکن بطور صوفی اور سلسلہ سب سے زیادہ شہرت آپ کے فرزند مخدوم صدرالدین عارف کے بیٹے شیخ رکن الدین عالم نے پائی۔حضرت شیخ رکن الدین عالم کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی راستی تھا جو کہ فرغانہ کی شہزادی تھیں اور زہد و تقویٰ کی وجہ سے رابعہ عصر کہلاتی تھیں۔آپ کے اَدب آداب سے متاثر ہو کر حضرت خواجہ شمس الدین سبزواری نے آپ کو ”رکن الدین والعالم“ کا لقب عطا فرمایا۔حضرت بی بی راستی جب شیخ رکن الدین عالم کو دودھ پلانے لگتیں تو پہلے وضو کر لیتی تھیں۔ حضرت بی بی راستی چونکہ حافظ قرآن تھیں اِس لئے د?ودھ پلانے کے دوران قرآنِ مجید کی تلاوت شروع کر دیتیں۔ قطب الاقطاب حضرت شیخ رکن الدین عالم کی عمر مبارک جب چار سال کی ہوئی تو شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاﺅالدین زکریا ملتانی نے بسم اللہ شروع کی اور شیخ صدر الدین عارف نے قرآن مجید حفظ کرانا شروع کیا۔ حضرت شیخ غوث بہاﺅالدین زکریا ملتانی ، حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر ‘ حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت جلال الدین سرخ بخاری نے کئی تبلیغی دَورے اکٹھے کئے اور پھر ایک وقت اَیسا بھی آیا کہ کم سن شیخ رکن الدین والعالم بھی اِن کے ہمراہ ہوتے تھے۔ پاک و ہند صاحب علم و شعور حضرات بزرگان دین سے عقیدت رکھتے ہیں مگر الا ما شا اللہ موجودہ گدی نشینوں کے کردار سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جو خود مریدوں کے چندوں پر پلتے ہوں انہیں اولیا کرام کا جانشین یا گدی نشین کہنا اولیا کرام کی توہین ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*