عوام پر قیمتوں کا مزید بوجھ ڈالنے کا عندیہ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام پر قیمتوں کا مزید بوجھ ڈالنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اس کے نتیجے میں عوام کے چیخیں نکلیں گی جب معیشت بحال ہورہی تو مہنگائی بڑھتی ہے آئی ایم ایف کےساتھ اختلافات کم ہوچکے ہیں اور قرض کےلئے مذاکرات جاری ہیں ن لیگ کی حکومت نے بجلی کی قیمت کو انتخابی مہم کےلئے استعمال کیا تھا اس نے ایک سال میں توانائی شعبہ میں 450ارب روپے کا خسارہ کیا اور گیس کمپنیوں میں 150ارب روپے کا اعلان کیا آئی ایم ایف نے اخراجات کی کمی اور ڈالر کو بھی مارکیٹ ریٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
وفاقی وزیر خزانہ کا مذکورہ بیان عوام پر ایک ایٹم بم سے کم نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی مہنگائی کی دلدل میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے ملک میں پہلے سے مہنگائی عروج پر تھی لیکن اس کی رہی سہی کسر موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی پوری کردی اس نے اقتدار حاصل کرتے ہی سب سے پہلے عوام کی بنیادی استعمال کی اشیاءبجلی ،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ کیا جس کی وجہ سے ایک غریب آدمی کاماہانہ بجٹ بہت بری طرح متاثر ہوا موجودہ حکومت نے ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ بتاتے ہوئے مہنگائی میں ہوشرباءاضافہ کیا اور یہ تاثر ہوا موجودہ حکومت نے ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ بتاتے ہوئے مہنگائی میں ہوشرباءاضافہ کیا اور یہ تاثر دیا کہ ملک کا خزانہ خالی ہے سابقہ حکومت کے اقدامات بہت خراب تھے ۔ اس نے ملک پر بہت زیادہ قرضہ چھوڑا ہے جس پر اربوں روپے کی مد میں سود اداکیا جارہا ہے جوکہ ملک پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہمسایہ ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر ،چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ہنگامی دورے کئے اور ان سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی بات کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے اور پاکستان کو مذکورہ ممالک نے اربوں ڈالرزکی امداد بھی دینے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا اور بقول موجودہ حکومت کے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو بری طرح لوٹا ہے اور انکے سارے پیسے بیرون ملک میں ہیں جس سے انہوں نے وہاں سرمایہ کاری اور جائیداد یںبنائی ہیں ۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سابقہ حکمرانوں نے ملک کا پیسہ لوٹا اور ملک سے باہر منتقل کیا تو اس پیسے کو واپس لینے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے اس کی سزا مہنگائی میں ہو شرباءاضافہ کرکے غریب عوام کو کیوں دی جارہی ہے اس میں غریب عوام کا کیا قصور ہے ؟
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ملک میں مہنگائی کرنے کی بجائے ملک سے لوٹا گیا پیسہ واپس لانے کے اقدامات کرنے چاہئیں پیسہ لوٹنے والے جن سیاستدانوں کی جائیدادیں پاکستان میں ہیں ان کو فوری طورپر ضبط کرکے ریکوری کی جائے اور ہمارے ملک میں جو ایک روایت برسر اقتدار آنےوالی ہر حکومت واقعات کی ذمہ داری حکومتوں پر ڈالتی ہے اور اپنے آپ کو صاف و شفاف بنا کر عوام کے سامنے پیش کرتی ہے اور پھر سابقہ حکمرانوں کے کارناموں کی سزا غریب عوام کو دیتی ہے یہ روایت ختم ہونی چاہےے کیونکہ اس سے غریب عوام پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جن کا ازالہ کرنا حکومت کا فرض ہے اور اسے اس فرض کو ہر صورت پورا کرنا چاہےے کیونکہ عوام نے ان ووٹ کر اسمبلیوں میں اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ ان کےلئے مشکلات پیدا کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*