امریکی کانگرس میں قرارداد، نئے خطرات

تحریر:اسد اللہ غالب
امیرالعظیم سے ایک ہفتہ قبل ملاقات ہوئی تھی۔میں نے ان کے نکات اور خدشات تفصیل سے بیان کر دیئے۔اس وقت جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میں نیوزی لینڈ کی مساجد میں نماز جمعہ کے شرکاء کے سفاکانہ قتل عام کامنظر دیکھ رہا ہوں۔ قاتل اس قدر وحشی ہے کہ اسنے اس قاتلانہ حملے کی وڈیوبھی ساتھ ساتھ خودبنائی ہے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا ہے۔ کمزور دل والے اس خونیںمنظر کی تاب نہیں لا سکتے ورنہ میں یہاں اس ویڈیو کا لنک شیئر کر دیتا۔امیرا لعظیم سے ایک ہفتہ قبل ملاقات ہوئی تھی، میں نے ایک ہفتے تک ان کی الف لیلی بیان کی۔ اسوقت میرے سامنے نیوزی لینڈ کاسانحہ ہے۔ایک صلیبی جنگ صدر بش نے شروع کی تھی جس میں امریکہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناکامی یہ ہے کہ وہ اندھی طاقت کے استعمال کے باوجود عالم اسلام کو ملیا میٹ نہیں کرسکا، پاکستان میں ایک لاکھ افراد شہید ہوئے مگر پاکستان اللہ کے فضل سے قائم و دائم ہے اور ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی سکت رکھتا ہے مگر اب اگلی صلیبی جنگ کا انداز تبدیل ہونے کے اشارے مل رہے ہیں،یہ جنگ پروپیگنڈے کے محاذ پر لڑی جا ئے گی ، اس کے آثار پہلے سے نظر آ رہے تھے کہ امریکہ جو کچھ میدان جنگ میں نہیں جیت سکا، اب بلیم گیم کے ذریعے حاصل کر سکے۔ اس کے لئے اسی امریکہ نے عالم ا سلام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سرپرستی کے لئے مطعون کرنا شروع کر دیا۔امریکی کانگرس میں مسٹر بینکس نے جو قراردادپیش کی ہے اور جسے خارجہ امور کی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے، اس پر ایک نظر ڈالتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسے نئی دہلی میں را کے ہیڈ کوارٹر میں ٹائپ کیا گیا اور مسٹر بیکس کو محض آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا ورنہ اس قرارداد میں جن جماعتوں اور تنظیموں کا ذکر ہے اور ان کے بارے میں جن الزامات کی بارش کی گئی ہے، مسٹر بینکس کے ذہن میں ان کا کوئی تصور بھی نہیں آسکتا تھا۔ امریکی کانگرس کے ارکان اپنے چہرے پر برائے فروخت کا پلے کارڈ لگائے پھرتے ہیں،میں سن دوہزار ر میں امریکی وزارت خارجہ کی دعوت پر امریکہ گیا۔ اس وفد میں چار پاکستانی اور چار بھارتی ایڈیٹر شامل تھے۔ ہماری ملاقات کانگرس کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئر مین سے رکھی گئی مگر انہوںنے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کردیا کہ وہ امریکی کانگرس میں بھارتی کاکس کے سربراہ ہیں ا س لئے ایسے وفد سے نہیںمل سکتے جس میں پاکستانی ارکان بھی شامل ہوں،اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان صاحب نے اپنے ضمیر کا سودا کتنے میں کیا ہو گا ، بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے منہ مانگے دام دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ا س کی لابی کرنے والی فرمیں ا نتہائی فعال ہیں اور نئی دہلی کو مطلوبہ نتائج دلوا کر سرخرو ہوتی ہیں۔میں صرف صحافیانہ دیانت کے ا صولوں کے تحت مسٹڑ بینکس کی یہ قرارداد یہاں پیش کر رہا ہوں ورنہ میرا ضمیر نہیں مانتا کہ جس قرارداد میں انتہائی سوقیانہ اور گھٹیا الزامات کی بھر مار ہے،ا سے اپنے قارئین کے سامنے رکھوں مگر میں چاہتا ہوں کہ ہمیں اچھی طرح علم ہونا چاہئئے کہ۔۔تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔۔کی تفصیل کیا ہے۔28فروری‘ 2019 کو امریکی ایوان نمائندگان میںمسٹر بینکس کی درج ذیل قرارداد پیش کی گئی جسے کمیٹی برائے خارجہ امور کو بھجوا دیا گیا۔قرار دادکا متن
بنگلہ دیش 1971میں آزاد ہو کر ایک سیکولر جمہوری ریاست کے طور پر سامنے آیا۔بنگلہ دیش کی سوا سولہ کروڑ آبادی میںمسلمان‘ ہندو‘ بدھ‘ سکھ اور ملحد کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں۔بنگلہ دیش کو یہ آزادی تیس لاکھ افراد کی جانوں کے بدلے حاصل ہوئی جبکہ ایک کروڑ افراد بے گھر ہوئے اور دو لاکھ خواتین کو اجتماعی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔متعدد واقعات میں ایسے مذہبی عسکریت پسندوں کا ہاتھ تھا جن کی نمائندگی جماعت اسلامی کر رہی تھی۔مذہبی اقلیتیں بشمول ہندو‘بدھ‘مسیحی اور قادیانیوں پر جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم اسلامی چھاتروشنگھو کے حملوں میںسینکڑوں گھرتباہ ہوئے‘ دکانیں لوٹی گئیں اور کئی مندرمسمار کئے گئے۔جماعت اسلامی نے پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمے کی ملزمہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو درست اقدام قرار دیا تھا۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے شخص کی نماز جنازہ جماعت اسلامی کے زیرانتظام پڑھائی گئی اور اس موقع پر پوری دنیا میں شریعت نافذ کرنے کے لئے طاقت کے حصول کی دعائیں بھی مانگی گئیں۔جماعت اسلامی نے توہین رسالت کے مقدمے کی ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور آسیہ بی بی کے پاکستان سے انخلا کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی کوشش کی۔جماعت اسلامی کے ارکان کے القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔جماعت اسلامی اور دیگر منسلک مذہبی انتہا پسند گروپوں نے جنوبی ایشیا کی سیکولر جمہوریت اور خطے کے استحکام کے لئے فوری اور دیرینہ خطرات پیدا کر دئیے ہیں اور اس بدامنی کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی کو واضح انداز میں جماعت اسلامی سے فاصلہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی قانون دان اور اپوزیشن لیڈر کمال حسین نے بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی کو جماعت اسلامی کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کی کھلے عام تاکید کی ہے۔امریکہ میں اسلامک سرکل آف نارتھ جیسی بیشتر تنظیمیں جنہیں امریکی وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈ بھی دئیے جاتے ہیں‘ کے لیڈروں کا جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے ساتھ ملنا جلنا عام ہے۔امریکہ میں رجسٹرڈ ایک خیراتی تنظیم ہیلپنگ ہینڈ آف ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ 2017ء میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں کھلے عام شریک ہوئی جسے 2016میں امریکہ کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی سمیت دیگر انتہاپسند گروپوں کے مذہبی اقلیتوں پر بار بار حملوں‘بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور عدم استحکام کی وجہ سے امریکہ کے بنگلہ دیش میں تزویراتی اور معاشی مفادات کو ٹھیس پہنچی ہے اور جنوبی ایشیا میں مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے تانے بانے عراق اور شام میں جاری کشمکش سے جڑے ہیں اور حالیہ برسوں میں متعدد اسلامی انتہاپسندوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔چنانچہ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایوان نمائندگان اس حق میں ہے کہ امریکہ کو بنگلہ دیش میں جمہوریت کے فروغ‘مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بنگلہ دیش حکومت کے ساتھ پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ روابط بڑھانے چاہئیں تاکہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔امریکہ کو بنگلہ دیش اور پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر انہیں جماعت اسلامی اوراس سے منسلک ایسی تنظیموں سے مکمل طور پر علیحد گی اور انقطاع پر قائل کرنا چاہیے جو خطے کے استحکام اور مذہبی آزادی کے لئے فوری اور دیرینہ خطرے کا باعث ہیں۔امریکہ کو بنگلہ دیش کی نیشنلسٹ پارٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کو جماعت اسلامی اور منسلک تنظیموں سے خود کو فاصلہ رکھنے کے لئے زور دینا چاہیے۔امریکی حکومت کو چاہیے کہ امریکی ایجنسی برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ‘ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ہوم لینڈ سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA)‘ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ اور شمالی امریکی کی مسلم ا±مہ جیسی تنظیموں کو جماعت اسلامی اور اس سے منسلک ذیلی تنظیموں کے ساتھ روابط اور فنڈنگ پر فوری پابندی عائد کر دینی چاہیے۔
امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پاکستان اور کشمیر میں ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ تنظیم کی سرگرمیوں بشمول پاکستانی جہادی گروپ لشکر طیبہ کے ساتھ اس کے مبینہ اشتراک کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔یہ ہے وہ قرارداد جو اصل میں اسلامی تحریکوں اور فلاحی تنظیموں کے خلاف ایک لحاظ سے طبل جنگ کے مترادف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالم اسلام کی ریاستیں بھارت اور امریکہ کی باجگزار ثابت ہوتی ہیں اور اس کی ڈکٹیشن قبول کرتی ہیں یا اپنے ذہن کو بھی استعمال میں لاتے ہوئے اصل سازش کو سمجھنے کی کوشش کریں گی کہ اصل میں یہ اسلامی ریاستوں کو مسمار کرنے کاا یک نیا اعلامیہ ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اپنی حالیہ تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ بھارت یاکسی سپر پاور نے بھی کوئی جسارت کی تو ہم آخری گیند تک لڑیں گے۔ مگر انہیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ نہ بھارت اور نہ کوئی سپر پاورہمارے ساتھ ٹکر لینے کی ہمت رکھتی ہے بلکہ وہ ہمیں ایک دوسرے کا گریبان تار تار کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ وہ ہمیں داخلی کشمکش میں مبتلا کر کے ہمارا حشر قرطبہ اور غرناطہ جیساکرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اگر بھارت لشکر طیبہ جماعت الدعوہ ، فلاح انسانیت اور جماعت اسلامی کو دہشت گرد کہتا ہے ا ور امریکہ ا سکی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور ہماری مسلم ریاستیں بھی وہی کرتی ہیں جو بھارت اور امریکہ چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنا انجام صاف صاف نظر آجانا چاہئے۔مسلم امہ میں اگر کوئی رمق باقی ہے تو امریکہ میں اپنی لابی کو متحرک کریں اور امریکی حکومت، امریکی کانگرس اور اور امریکی عوام کے ذہنوں کو بھارتی پروپیگنڈے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی تدابیر کرنے کے لئے کوششیں تیز تر کر دینی چاہیئں۔امریکہ سے یہ بھی سوال کیا جائے کہ اگر صدقہ۔ خیرات اور چیریٹی کرنا جرم ہے تو دنیا میں سب سے بڑا چیریٹی کرنے والا مائیکرو سافٹ کا مالک ہے۔وہ کہیں پولیو کی مد میں پیسے بھیجتا ہے۔ اس کی فنڈنگ کی بھی تحقیقات ہو جائیں تو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔اور ایک سوال نیوزی لینڈ سے بھی پوچھا جائے کہ آپ کے ملک میں دو مسجد وں میں نمازجمعہ کے دوران پچاس سے زائد مسلمان شہید کر دیئے گئے ہیں تو کیوں نہ آپ کے ملک کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے۔بھارت کشمیریوں کا قتل عام کرتا ہے ،دلت کو قتل کرتا ہے ، مسیحی گرجے جلاتا ہے تو اسے بھی کیوںنہ دہشت گرد قرار دیا جائے۔یہ تمام حقائق امریکی کانگرس کے سامنے ہماری لابیز کے ذریعے رکھنے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*