اب ڈو مور کامطالبہ کیوں

تحریر:جمیل اطہر قاضی
امریکی مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن نے سماجی رابطے کی سائیٹ ٹوئٹر پرکہا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات ہوئی جس میں کالعدم جیش محمد سمیت دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے اقدامات کو سراہا۔جان بولٹن کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جب کہ بھارت سے کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی مزید اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی قومی سلامتی کے مشیر اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں پلوامہ واقعے کے بعد خطے میں امن و امان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس گفتگو کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن کو برسبیل تذکرہ پاکستان میں جیش محمد سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بتایا جس پر جان بولٹن نے پاکستان میں دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموںکے خلاف حکومتی کارروائیوں کوسراہا، واضح رہے کہ امریکہ کا پاکستان سے ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ ہم اندرون ملک دہشت گرد تنظیموںکے خلاف بھرپور انداز میں کارروائی کریں، حقیقت یہ ہے کہ کچھ تو بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان میں موجود فرضی دہشت گردوں کے مفروضہ قصے اتنے بڑھا چڑھاکر پیش کئے کہ دنیا کو یقین آہ پاکستان میں ملکی آبادی سے کہیں زیادہ دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے بعد امریکہ سے جب بھی بات ہوئی تو وہاں سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ اتنی مرتبہ سامنے آیا کہ یہ ایک لطیفہ ہی بن کررہ گیا اور پاکستان کے کسی بھی وزیر یا حکومتی فرد کی امریکہ کے کسی وزارتی عہدیدا ±سے کوئی بھی بات ہوتی تو اخبارات میں پہلی سرخی ”ڈو مور“ کے مطالبے سے متعلق ہی ہوتی۔ حالانکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں حصہ لے کر جب سے ہم فرنٹ لائن سٹیٹ بنے تھے، دہشت گردوں نے افغانستان اور امریکہ کو چھوڑ کر ہمیں ہی نشانہ بنانا شروع کردیا تھا پھر دہشت گردی میں بڑھاوا ہمارے خلاف عالمی سطح پر دہشت گردی کا واویلا کرنے والے بھارت نے دیا۔ بھارت نے پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو خرید لیا اور انہیں اپنے مفاد میں استعمال کرنا شروع کردیا جس کے بعد یہاں دفاعی تنصیات پر دہشت گرد حملوں کا آغاز ہوا حالانکہ اگر عقل کو استعمال کیاجائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ دہشت گردوں کا جی ایچ کیو، ہوائی اڈوں، بحریہ یا دیگر دفاعی تنصیبات پر حملوں سے کیا مقصد حاصل ہوتا ظاہر ہے کہ یہ بھارتی سازش تھی جو ہمارے دفاع میں دراڑیں ڈال کر ہمیں دفاعی لحاظ سے اس حد تک کمزور کرنا چاہتا تھا کہ ہم اس کے مقابلے کے قابل نہ رہیں اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کی بالادستی تسلیم کرلیں اس طرح بھارت جنوبی ایشیا کا چوہدری بن جاتا۔ اب اس کو بھارت کی کامیاب مکاری ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی دہشت گردی عالمی برادری کی نگاہوں سے اوجھل رکھتے ہوئے ہمیں دہشت گرد بنا کر پیش کردیا جبکہ ہم دہشت گردی کے خلاف مقابلے کرتے ہوئے ستر ہزار شہریوں اور دس ہزار سے زائد فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانی کے علاوہ کھربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی کر بیٹھے تھے۔بہرحال بھارت سے ہمیں اس لئے شکایت نہیں ہے کہ وہ تو ہے ہی ہمارا دشمن اور دشمن سے کسی بھی وقت بدترین سازش یا حملے کی توقع رہنی چاہئے، ہمیں اصل شکایت ا±س امریکہ سے ہے جو ہمیں دوست قرار دیتا ہے اور جس نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف شروع کردہ اپنی جنگ میں فرنٹ لائن کی ریاست بنایا، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا چشم دید گواہ ہے، جو اچھی طرح دہشت گردوں کے خلاف ہماری کارروائیوں کے بارے میں جانتا تھا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمارے خلاف بھارت افغانستان میں جو دہشت گردی کررہا تھا اس سے بھی اچھی طرح آگاہ تھا، امریکہ کو اگر یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے کس علاقے کے کس مکان میں رہائش پذیر ہے تو اس کو یہ علم نہیں ہوگا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس مل کر ہمارے خلاف کیسی دہشت گردی کررہی ہیں، کیا وہ نہیں جانتا کہ ہمارے سابق وزیر اعظم کے بیٹے کو کس نے اغوا کیا تھا اور کہاں لے جایا گیا تھا، ہمارے مختلف اہم افراد اور سرکاری افسروں کو کس نے اغوا کیا، کہاں لے کر گیا اور کہاں قتل کیا پھر افغان حکومت نے اس کا بے جان جسم کس کے حوالے کیا؟ کیا امریکہ کا تمام عالمی سازشوں اور خبروں سے باخبر پینٹا گان اس سے بے خبر رہا، اب بھی جان بولٹن دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں کے بارے میں جان کر خوش اور مطمئن ہوئے انہیں افغاٰنستان میں ریاستی دہشت گردی کا شکار ہونے والے وہ مقتولین نظر نہیں آرہے جنہیں چند روز قبل ہی گھروں سے نکال کر قتل کیا گیا کیا جان بولٹن کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و معصوم اور نہتے شہریوں پر ڈھائی جانے والی ریاستی دہشت گردی نظر نہیں آرہی اگر وہ اس دہشت گردی کے بارے میں جانتا ہے اور دیکھ رہا ہے تو اس کو اس کے خلاف بھی نہ صرف صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے اور متعلقہ حکومتوں کو ”ڈو مور“ کا حکم اسی اندار میں دینا چاہئے جیسے پاکستان کو دیا جاتا تھا۔امریکہ کی یہ چالیں اب دنیا سمجھنے لگی ہے اور اب دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ کے مزید دھوکوں میں نہیں آئے گا لہذا امریکہ کو بھی چاہئے کہ حقائق کو سمجھے اور جان لے کہ اب پوری عالمی برادری پر اس کی مکاریوں اور دہشت گردی سے بھرپور چالوں کا راز کھل گیا ہے، اور وہ عالمی برادری کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتا، لہذا اب امریکہ کو صرف پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان طاقتوں سے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہئے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں جس وحشیانہ انداز کی دہشت گردی سے کام لیا جارہا ہے اس پر امریکہ کو خاص نظر رکھتے ہوئے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے خلاف دہشت گردی پرمبنی کارروائیاں ختم کرکے وہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق شہریوں کو حق خود ارادیت دینے کا مطالبہ کرنا چاہئے اور یہ صرف مطالبہ ہی نہیں ہوناچاہئے بلکہ اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانا چاہئے تبھی دنیا میں حقیقی امن و استحکام قائم ہوگا اور پوری دنیا کا ماحول پ±ر سکون نظر آئے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*