بلوچستان کے 50ہزار متاثرہ خاندانوں کےلئے بحالی کا اقدام

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی بیت المال عون عباس سے ملاقات کے دوران ہدایت کی کہ بلوچستان کے 50ہزار سیلاب اور قحط سے متاثرہ خاندانوں کےلئے فوری طور بحالی کا اقدام کیا جائے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کو ادارے کی کارکردگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کےلئے کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کا بلوچستان کے 50ہزار سیلاب اور قحط سے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی کےلئے اقدامات کرنے کی ہدایت بلاشبہ ایک قابل تعریف اقدام اور بلوچستان کے عوام کےساتھ ہمدردی کا اظہار ہے کیونکہ بلوچستان میںحالیہ ہونےوالی بارشوں اور برفباری سے جہاں ایک عرصے سے جاری خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے وہاں اس سے نقصانات بھی بڑے پیمانے پر ہوئے ہےں جس پر حکومت بلوچستان نے بھی متعدد اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کی بات کی ہے اب وزیراعظم عمران خان نے مذکورہ اعلان کرکے بلوچستان کے عوام کےساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جوکہ یقینا بلوچستان کے عوام کےلئے ایک اچھی خبر ہے ۔
وفاقی حکومت نے جہاں مذکورہ اعلان کیا ہے تو اس پر فوری طور پر اقدامات کر نے چاہئیں کیونکہ اس وقت متاثرہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس نظام کو صاف و شفاف بنانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس سے قبل بھی جب بھی کوئی حکومتی امداد کا اعلان کیا گیا لیکن اس کی تقسیم مبینہ طور پر صحیح نہیں کی جاسکی جس کی بنا ءپر اکثر متاثرین اس سے محروم رہے اور اس طرح ایک عرصے تک وہ اس کے حصول کےلئے پریشان رہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 50ہزار سیلاب اورقحط سے متاثرہ خاندانوں کےلئے فور ی بحالی کے اقدامات میں شفافیت لائی جائے اور حق دار خاندانوں کی امداد کی جائے تاکہ وہ اس سے مشکل سے نجات پاسکےں ہیں ۔
یہا اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بلوچستان کے دیگر مسائل کو بھی حل کرنے کےلئے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس سلسلے میں بلوچستان کے عوام سے وعدے کئے تھے اس طرح برسراقتدار آنے کے بعد بھی نہ صرف انہوں نے بلکہ ان کے متعدد وزراءنے بھی بلوچستان کے مسائل حل کرتے ہوئے اس کو پسماندگی سے نکالنے کے دعوے کئے ہیں اس لئے ان کو اپنی ان وعدوں اور دعوﺅں کو عملی جامہ پہنانا چاہےے جن کی وجہ سے صوبہ پسماندگی کا شکار ہے اور اس کے عوام اپنے حقوق سے محروم رہے جس کی وجہ سے ان میں احساس محرومی پیدا ہوا جس کا خاتمہ کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے کیونکہ وفاق ایک اکائی جبکہ صوبے اس کی اکائیاں ہوتی ہےں اس لئے وفاق کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنا چاہےے اور تمام اکائیوں کو برابر کے حقوق دینے چاہئیں کسی ایک اکائی کےساتھ سوتیلی جیسی ماں کا سلوک کرنا اس کو زیب نہیں دیتا پاکستان تحریک انصاف کو موجودہ حکومت سے عوام نے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں جس کی وجہ سے ان کو بھاری مینڈیٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے اس لئے ان کو اس کا خیال کرنا چاہےے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*