آل راونڈر کے طور پر پہچانا جانا چاہتا ہوں، فہیم اشرف

کراچی(سپورٹس ڈیسک)قومی ٹیم کے آل راﺅنڈر فہیم اشرف نے کہا ہے کہمیری پہلی ترجیح بولنگ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری توجہ بیٹنگ پر نہیں، میں جتنا کام اپنی بولنگ پر کر رہا ہوں اتنا ہی بیٹنگ پر بھی کرتا ہوں۔ ایک انٹرویو میں فہیم اشرف نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی قابل ذکر کارکردگی دکھاتے ہوئے ایک مکمل آل راونڈر کی حیثیت سے اپنی پہچان کرائیں۔چونکہ میں بولنگ آل رانڈر کی حیثیت سے ٹیم میں ہوں لہذا میری پہلی ترجیح بولنگ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری توجہ بیٹنگ پر نہیں، میں جتنا کام اپنی بولنگ پر کر رہا ہوں اتنا ہی بیٹنگ پر بھی کرتا ہوں۔ ٹی ٹوئنٹی میں میری بیٹنگ اس وقت آتی ہے جب برائے نام اوورز باقی رہ جاتے ہیں لیکن میری کوشش ہوگی کہ جو بھی موقع ملے اس سے فائدہ اٹھاں۔فہیم اشرف کی پاکستانی ٹیم میں سب سے اچھی دوستی شاداب خان کے ساتھ ہے اور وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہیں جب ان دونوں نے آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں ذمہ داری سے بیٹنگ کی تھی۔شروع میں صورتحال بہت مشکل لگ رہی تھی لیکن بعد میں ہم دونوں نے نہ صرف ایک دوسرے کو اعتماد دینا شروع کیا بلکہ ایک دوسرے سے مذاق بھی کرنے لگے تھے۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ خود پر دبا ﺅنہ لیا جائے۔ اس اننگز میں ہم دونوں کے درمیان117رنز کی شراکت ہوئی تھی۔فہیم اشرف کو اس اننگز میں سنچری نہ ہونے کا بہت افسوس ہے۔اولین ٹیسٹ میں سنچری سے آپ کا نام تاریخ میں لکھا جاتا ہے اور دنیا ساری زندگی آپ کو یاد رکھتی ہے۔ مجھے صرف سترہ رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ ہونے کا بہت افسوس ہے لیکن مجھے خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری نصف سنچری اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے کسی بھی بیٹسمین کی تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ بنی تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*