زرداری اور نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی،فوادچوہدری

لاہور(نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد احمد چوہدری نے کہا ہے کہ ایک جےل جا چکا دوسرا بھی جیل جانے والا ہے پھر خوب گزرے گی‘آصف زرداری اور نوازشر یف کی سےاست ختم ہوچکی ہے دونوں نے پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی دبا ڈالا لیکن وزیراعظم عمران خان این آر او پر یقین نہیں رکھتے ‘حکومت خوفزدہ ہے اور نہ بلیک میل ہو گی کسی کو اےن آر او نہےں ملے گا ‘ مستحکم سیاست کی بنیاد رکھ دی، عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے‘ ہم پاکستان کے میگا ایونٹ کا کیلنڈر لا رہے ہیں جبکہ دنیا کے 66 ملک کے لئے ویزے کو ختم کر رہے ہیں تا کہ سیاحت کو فروغ مل سکے‘ 23 جنوری کو نیا بجٹ سامنے لائیں گے، اب اصل بجٹ آ رہا ہے‘نئے منی بجٹ میں معاشی استحکام لائیں گے۔ عوام صبر کریں اور پاکستان کی لیڈرشپ پر بھروسہ کریں حالات بہتر ہوں گے‘وزیراعظم عمران خان عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے‘ میں سندھ اپنے وزارت کے معاملے کے سلسلے میں جا رہا ہوں، صوبہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے وہاں جانے پر کیسے پابندی لگائی جا سکتی ہے؟صحافیوں سے درخواست کی کہ وہ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن سے دوستی کر لیں، وہ آپ کا دوست اور اچھا انسان ہے۔ اتوار کو الحمر اہال میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں وزارات اطلاعات پورے پاکستان میں میگا ایونٹس کا کیلنڈر جاری کرے گا ، 66 ممالک کا ویزا پاکستان کےلئے ختم کر رہے ہیں،ہم نے میلوں کے لئے اقدامات کرنے ہیں ان میں سے حادثات کو ختم کرنا ہے،ہم نے اپنی فلم انڈسٹری کو آگے لے کر جانا ہے۔ایسی حکومت آئی ہے جس کےلئے عوام کا دل دھڑکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ کوئی میڈیا بھی مادر پدر آزاد نہیں ہونا چاہیے ، جہاں دوسروں کی حد شروع ہوتی ہے وہاں میڈیا کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے ، کچھ آئین کی حدود بھی ہیں۔ جہاں دوسروں کی آزادی شروع ہوتی ہے وہاں حکومت ضرور ریگولیٹ کرے گی ، پاکستانی میڈیا کو اپنا ماڈل تبدیل کر نا ہو گا،دنیا میں کہیں بھی مادر پدر آزادی نہیں ہوتی۔نیوز میڈیا بڑا ووکل ہے۔میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی بات کرتا ہوں۔ہم روز فوجیوں کے جنازے پڑھتے ہیں ہم ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔مےڈےا سے گفتگو مےں وزیر اعظم عمران خان کا وژن سماجی ہے اور جب وہ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں تو اس کا مقصد برداشت ، ایک دوسرے کے خیالات کو سننے اور سمجھنا ہے ، ایسا معاشرہ جہاں پر انصاف اور رحم ہوگا ،ہم اس طرف بڑھنا چاہتے ہیں اور ہم اس ایجنڈے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کو اس وقت کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف دو جماعتیں چلا رہے تھے لیکن ان کا سیاسی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے ،اپنے طرز سیاست سے خود ہی اپنی سیاسی قبر کھودی ہےں اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ۔ سابقہ سیاسی حکومتوںکے ادوار میں اٹک جیل او ربند جیلوں میں ٹرائل ہوتے رہے لیکن آج ان کے عجیب و غریب ٹرائل ہو رہے ہیں ۔ نواز شریف دوران ٹرائل لندن چلے گئے ، ان کے وکیل نے 22روز کراس ایگزیمن کیا ، ان تک ہر کسی کی رہائی ہے او رجو ان سے ملنا چاہتا ہے مل سکتا ہے ، ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کاغذوں میں قید ہیں لیکن وہ رہتے اپنے گھر میں ہیں اور پھر پارٹی کی میٹنگ بھی بلا لیتے ہیں ، ان کا دل چاہے تو نیب کے پراسیکیوٹر کو بھی بلا لیتے ہیں، ہم نے تو ایسا ٹرائل کبھی نہیں دیکھا ۔ لیکن اب یہ اپنے سیاسی اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے مستحکم سیاسی حکومت کی بنیاد رکھی انشا اللہ 23جنوری کو مستحکم معاشی پاکستان کی بنیاد رکھیں گے،اس وقت سب کی نظریں عمران خان کی طرف ہیں او رپی ٹی آئی کی حکومت عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی ۔ انہوںنے فیاض الحسن چوہان کی وزارت کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اب صلح کر لیں ، فیاض الحسن چوہان اتنا برا آدمی نہیںہے ،وہ صرف بات سیدھی کر دیتا ہے ۔انہوںنے اپنے دورہ کراچی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میری وزارت نے یہ دورہ رکھا ہے ، یہ دورہ اچانک نہیں رکھا گیا ۔ کراچی میرا ملک ہے او رمجھے وہاں جانے سے کون روک سکتا ہے ، جہاں تک آپ سعید غنی کی بات کر رہے ہیں تو وہ کسی دن جلدی اٹھ گئے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے بیرون ملک جانے پابندی جے آئی ٹی نے لگائی ہے ۔انہوںنے سابق امریکی عہدیدار کیمرون منٹرکے بیان پر کہا کہ وہ تو کافی عرصے سے ریٹائرہو گئے ہیں او رانہیں معاملات کا علم نہیں، امریکہ تو ہمیں کولیشن سپورٹ فنڈ دے ہی نہیں رہا ۔ امریکہ پاکستان کا معاملہ اچھا چل رہا ہے اور تعلقا ت بہتر ہو رہے ہیں ۔ پومپیو آئے تھے اور شاہ محمودقریشی بھی گئے تھے ،واشنگٹن اور اسلام آباد میں تعلقات کافی بہتر ہو رہے ہیں ۔ انہوںنے آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کہا کہ ابھی تو بہت لمباعرصہ پڑا ہے ۔ انہوںنے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے معاملات طے کرنے کے دباﺅ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ نے پارلیمان کے اندر اورباہر پورا سیاسی دباﺅ ڈالا لیکن عمران خان تو این آر او دینے پر یقین ہی نہیں رکھتے ، ایک چلا گیا ہے اوردوسرا بھی چلا جائے گا اور اانشا اللہ ان کا اچھا وقت گزرے گا ۔ انہوںنے 23جنوری کو جشن منانے کے حوالے سے کہا کہ جشن منائیں گے ،پچھلے سارے بجٹ جعلی تھے لیکن اب اصلی بجٹ آرہے ہیں ۔ انہوںنے گورننس کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری گورننس سے کسی کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا اور انشا اللہ دو تین سال گزاریں آپ شکریہ ادا کریں گے کہ آپ نے تو کمال ہی کر دیا ، ملک کی لیڈر شپ پر بھروسہ کریں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*