میثاق معیشت کی طرف پیش قدمی

جمیل اطہر قاضی
حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)کا چیئرمین بنانے کا اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کرلیا جس کے بعد مجالس قائمہ کی تشکیل پر جاری ڈیڈلاک بھی ختم ہوگیا ‘وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اعلان کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے کہ پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کو بنادیاجائے‘ہمیں اس معاملے کو ضداوراناکا مسئلہ بنانے کی بجائے آگے بڑھنا چاہئے ‘ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز دی گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) دور کے آڈٹ پیراز نمٹانے کے لئے ذیلی کمیٹی بنائی جائے‘سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے اسے عمران خان کے مثبت اوراچھے یو ٹرن سے تعبیر کیا۔
یہ تیسری دنیا کے سیاست دانوں کا اصول ہے کہ اسمبلی میں شکست خوردہ جماعتوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کامیاب ہونے والی جماعت کے امور میں رکاوٹ ڈالتے رہیں تاکہ آئندہ انتخابات تک وہ ایسی کارگزاری نہ کرسکے جس کی بنیاد پر عوام سے ایک بار پھر ووٹ لے کر اقتدار میں آ سکے۔ اب وطن عزیز میں انتخابات کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکو مت بنائی تو اپوزیشن نے پی اے سی کے چئیر مین کے لئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام دے دیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اس نام کو رد کردیا تھا ان کا مو قف تھا کہ جو شخص کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنارہا ہو اس کو پارلیمانی کمیٹی کا چیئرمین بنانا دنیا میں مذاق اڑوانے کا باعث ہوگا اس پر ن لیگ نے موقف اختیار کیا کہ یہ اصول طے کرلیا گیا تھا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ اپوزیشن لیڈر کو مقرر کیا جائے گا۔
یہی وجہ ہے مسلم لیگ ن کے دور میں خورشید شاہ پی اے سی کے سربراہ تھے، حالانکہ ان کا یہ موقف حقیقت پر مبنی نہیں تھا کیونکہ قومی اسمبلی میں خورشید شاہ پی اے سی کے سربراہ ضرور تھے لیکن سندھ اسمبلی میں پی اے سی کی سربراہی پیپلزپارٹی کے پاس ہی تھی، بہرحال یہ فیصلہ اس لحاظ سے انتہائی مثبت ہے کہ صرف اس فیصلے کے موخر ہونے کی بنا پر قومی اسمبلی کی دیگر کمیٹیاں بھی نہیں بن رہی تھیں اور قانون سازی کا کام رکا ہوا تھا، اس تاخیر سے اپوزیشن کا کچھ نہ بگڑتا البتہ حکومت پر اعتراضات اٹھ جاتے کہ اتنی مدت گزرنے کے باوجود حکومت نے کچھ نہیں کیا اور ایک بار حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ اگر پی اے سی نہ بن سکی تو پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن کے بغیر اپنی کمیٹیاں تشکیل دے کر کام شروع کردے گی یا آرڈیننس کے ذریعے کام چلالے گی لیکن یہ بھی ممکن نہ تھا ایوان کو چلانے کے لئے مقتدر اور اپوزیشن جماعت کی موجودگی ضروری ہوتی ہے اس کے بغیر جمہوریت کا پہیہ حرکت میں نہیں آتا۔
اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر، وزیرخارجہ ، وزیرخزانہ اور چند دیگر اصحاب نے وزیراعظم عمران خان سے اس ضمن میں بات کی تو عمران خان نے کسی اعتراض کے بغیر اپنے ساتھیوں کو اس کی اجازت دے دی، اس طرح وزیراعظم کی یہ صفت بھی عوام کے سامنے آگئی کہ وہ کسی بھی معاملے پر اڑ نہیں جاتے بلکہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو وہ اپنے ساتھیوں کا مشورہ بھی تسلیم کرلیتے ہیں۔
بہرحال بعد ازاں شہباز شریف نے کہاکہ حکومت ایک قدم بڑھے ہم دوبڑھائیں گے ‘مجھ پر کرپشن ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا‘وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہمیں افہام وتفہیم سے چلنا چاہئے ‘جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا‘اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا مگر خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر نہ جاری کئے جانے پر اجلاس سے واک آﺅٹ کیا۔ اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا پروڈکشن آرڈرجاری کیاجائے‘اس سے اسپیکر اور ایوان کی عزت میں اضافہ ہو گا‘نیب گرمائش دے رہا ہے مگر صرف اپوزیشن بنچوں کو حکومتی بنچوں کو نہیں‘نیب کے ہیٹراپوزیشن کے لئے اور ہیں اور حکومت کے لئے اور۔ یہ کھلا تضاد ہے‘اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اس معاملے پروزارت قانون اوراٹارنی جنرل سے رائے لوں گا‘ یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان پر داغ نہیں آنے دوں گا‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اصولی طور پر اتفاق کرتے ہیں کے چیئرمین پی اے سی اپوزیشن سے ہونا چاہیے لیکن اپوزیشن لیڈر کو نیب کیسز کا سامنا ہے‘یہ بحث الگ ہے کہ وہ غلط ہیں یا ٹھیک۔ وہ اپنا دفاع خود کریں گے ہم نے تجویز یہ دی کہ قائدحزب اختلاف جسے مناسب سمجھیں چیئرمین پی اے سے کے لئے نامزد کردیں‘ میں نے آج وزیردفاع پرویز خٹک کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم کا یہ خیال تھا کہ چیئرمین پی اے سی سے عالمی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو گاجن کو خود مقدمات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے دور کے آڈٹ پیراز بھی سامنے آئیں گے۔ اس کے لئے مناسب ہوگا کہ ایسی سب کمیٹی تشکیل دی جائے جس کا سربراہ غیرجانب دار ہو۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایوان کو چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔میں نے تو اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کیا جائے لیکن پی ٹی آئی نے حقارت سے میری تجویز نظرانداز کر دی‘اب حکومت خود میثاق معیشت کی بات کررہی ہے‘میں ایک مرتبہ یہ پیشکش کرتا ہوں کہ حکومت ایک قدم آگے بڑھے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے‘ یہ بہرحال ایک مثبت فیصلہ ہے کیونکہ اس وقت وطن عزیز کو سب سے زیادہ معاشی مسائل کا سامنا ہے جن کو حل کرنا کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لئے یہی بہتر عمل تھا کہ ایک میثاق معیشت قائم کیا جاتا جس میں تمام جماعتوں سے اقتصادیات کے ماہرین کو منتخب کیا جاتا پھر یہ سب مل کر اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتے اور اب مقتدر اور اپوزیشن دونوں جماعتیں اس پر متفق ہیں لہذا امید کی جاسکتی ہے کہ وطن عزیز کو جلد معاشی مسائل سے نجات دلادی جائے گی۔ اس وقت وزیرخزانہ انتہائی ذہانت اور محنت شاقہ سے وطن عزیز کو مالی بحران سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ ہمارے دوستوں خاص طور پر سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور ملائشیا کی مہربانی اور محبت سے ہمیں سنبھلنے کا موقع مل گیا ہے اور اب ہم اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض دینے کی شرائط پر سودے بازی کرسکیں اور ان مقرر کردہ شرائط کو قبول کرکے عوام پر گرانی کا مزید بوجھ نہ ڈالیں۔ اس ضمن میں اپوزیشن کو جذبہ حب الوطنی سے کام لیتے ہوئے حکومت کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ اول تو موجودہ حکومت میں بہت سے وزیر پہلی بار اقتدار میں آئے ہیں اور ناتجربہ کار ہیں۔
جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایک سے زائد بار اقتدار کے مزے لوٹ چکے ہیں اور عالمی مسائل سے محفوظ رہنے کے بے شمار طریقوں سے آشنا ہیں، لہذا اگر وہ سیاسی اختلاف کو وطن عزیز کی ترقی و پیش رفت میں بھی اختلاف نہ بنائیں بلکہ اس میں حکومت کاساتھ دیں تو یہ نہ صرف وطن عزیز کی ترقی میں مثبت پیش رفت کا باعث ہوگا بلکہ خود ان کی سیاسی پختگی اور سیاسی بلوغت کا سبب بنے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*