شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانےکا فیصلہ

حکومت نے بالآخر اپوزیشن لیڈر میاں شہبا ز شریف کو چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بنانے کا مطالبہ تسلیم کرلیا ۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اس کا باقاعدہ اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے بغیر پارلیمنٹ فنکشنل کیسے ہوسکتی ہے ۔کمیٹیوں کا بننا جمہوریت کے حق میں ہے ہمیں گنجائش پیدا کرنی چاہےے اگر قائد ایوان کو بات کرنے نہیں دی جائے گی تو اپوزیشن لیڈ ر کو بھی بات کرنے میں دقت ہوگی ۔اس طرح قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف دونوں کا احترام سب پر لازم ہے اگر ایسا نہیںکرینگے تو جمہوریت کی گاڑی نہیں چل سکے گی کیونکہ یہاں جمہوریت کو بار بار نقصان پہنچا ہم سب اس کے ذمہ دار اور متاثرین بھی ہےں ۔
حکومت اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو چیئر مین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بنانے کا فیصلہ بلاشبہ ایک احسن اقدام ہے کیونکہ اس سے قومی اسمبلی کی کاروائی نہیں چل پارہی ہے اپوزیشن جماعتیں اس کو جواز بنا کر آئے روز اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر تی تھیں جبکہ دوسری جانب حکومت کاموقف یہ تھا کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین اس لئے نہیں بنایا جاسکتا کہ وہ ایک جانب خود نیب کی حراست میں ہیں دوسری جانب وہ سابق وزیر اعظم اور اپنے بھائی میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت کے اقدامات کی چھان بین کیسے کرینگے۔ آیا وہ اس سلسلے میں شفافیت کرسکیں گے یا پھر اقرباءپروری کی زد میں آکر اپنے اس منصب سے انصاف کر پائیں گے ۔
انہی خدشات کی بنا ءپر پی اے سی کی چیئرمین شپ کا معاملہ اب تک اٹکا ہوا تھا اپوزیشن جماعتیں اس بات پر بضد تھیں کہ چیئرمین پی اے سی قائد حزب اختلاف ہی ہوتا ہے اس لئے حکومت کو اس روایت کو برقرار رکھنا چاہےے ۔
اب حکومت نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بنانے کا اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے تو یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اب میاں شہباز شریف کو اپنے اس منصب سے انصاف کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی غیر جانبدارانہ طریقے سے انجام دینے چاہئیں۔ اگر وہ ایسا کردیتے ہیں تو یہ بلاشبہ ایک احسن اقدام ہوگا۔ اس سے حکومت کو اس سلسلے میں شکایت کا ازالہ بھی ہوسکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جمہوریت کو بھی نقصان نہیں ہوگا اور اس طرح حکومت قومی اسمبلی میں اپنی کارروائی جاری رکھ سکے گی اور قومی اسمبلی کا ماحول بھی ٹھیک ہوجائے گا۔ جوکہ قومی اسمبلی اور ملک کی بہترین مفاد میں اقدام ہے ۔حکومت نے مذکورہ بالا اہم فیصلہ کرکے یہ بات بھی ثابت کردی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کسی بھی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتی ہے اس لئے اپوزیشن کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہےے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*