سپریم کورٹ کاایف آئی اے کو22نجی سکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا حکم

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں میں 20 فیصد فیس کم کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے ایف آئی اے کو اسکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا حکم د یدیا، نجی اسکولز آئندہ تعلیمی سال کے لیے پانچ فیصد فیسوں میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں میں 20 فیصد فیس کم کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہت ،سپریم کورٹ کی جانب سے نجی اسکولوں میں بھاری فیسوں کے معاملے پر سنائے گئے فیصلے کے تحریری حکم نامے کے مطابق 22 نجی اسکولوں کو اپنی فیسیں کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ نجی اسکولز آئندہ تعلیمی سال کے لیے پانچ فیصد فیسوں میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔تحریری فیصلے کے مطابق فیسوں میں چھ سے آٹھ فیصد اضافہ ریگولیٹری باڈی کی اجازت سے مشروط کیا گیا ہے جب کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وصول کی گئی فیس کو ایڈجسٹ کرنے کا دو ماہ میں والدین کو واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ کوئی بھی نجی اسکول بند نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی طالب علم کو اسکول سے نکالا جائے گا اور اگر اسکول بند کیا گیا یا کسی بھی طالب علم کو اسکول سے نکالا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 22 تعلیمی اداروں کے ٹیکس کی جانچ پڑتال کرنے جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اسکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لینے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم پہلے کے تمام احکامات پر تقویت رکھے گا دریں اثناء سپریم کورٹ آف پاکستان نے نےشنل ہسپتال،ڈی ایچ اے سمیت دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں کا آڈٹ کر اکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ ہفتہ کے روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔عدالتی حکم پر پرائیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز عدالت پیش ہوئے ۔ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے ڈاکٹر اجمل نے پرائیویٹ ہسپتالوں سے متعلق رپورٹ پیش کی۔عدالت عظمیٰ نے ڈاکٹر اجمل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وینٹی لیٹر سے متعلق معلومات ویب سائٹس پر ڈال دی ہیں؟۔جس پر ڈاکٹر اجمل نے بتایا کہ ہم نے تمام ہسپتالوں کے ڈاکٹرز سے مل کر رپورٹ تیار کر لی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ پرائیویٹ ہسپتال مریضوں سے ایک دن کا کتنا چارج کرتے ہیں؟ ۔ڈاکٹر اجمل نے بتایا کہ اے کلاس میں پرائیویٹ ہسپتا ل 32سو سے 11ہزار تک چارج کرتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں نے پبلک سیکٹر کا برا حال کیا ہوا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ بدنام زمانہ نیشنل ہسپتال سے کون ہیں؟ ۔ عدالتی حکم پر نیشنل ہسپتال کا ڈاکٹر عدالت پیش ہوئے تو عدالت نے کہاکہ نیشنل ہسپتال کا ایک ڈاکٹر بہت شور کرتا ہے کہ میں نے اس کی بے عزتی کی ہے، میں نیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز کے انکم ٹیکس کی معلومات بھی نکلواﺅں گا۔عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے سے استفسار کیا کہ سنا ہے کچھ ہسپتالوں نے جنریٹر باہر سٹرک پر رکھے ہوئے ہیں؟ ۔ڈی جی ایل ڈی اے نے بتایا کہ عمر ہسپتال نے جنریٹر باہر رکھے ہوئے ہیں،عمر ہسپتال نے مسجد بھی نیچے بیسمنٹ میں بنائی ہے جہاں ہوا کا کوئی انتظام نہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرز ہسپتال کی بلڈنگ کا کیا بنا؟ ۔ڈی جی ایل ڈی اے نے بتایا کہ ڈاکٹرز ہسپتال نے بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی کر رکھی ہے۔عدالت نے ایف آئی اے کو نیشنل ہسپتال کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیتے ہوئے فرنزک آڈٹ کا حکم دے دیا ۔عدالت نے ڈی ایچ اے سمیت دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں کا بھی آڈٹ کرا کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا دریں اثناء سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کا کیا کام ہے،یہ کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں ؟ رشوت کا سب سے بڑا ناسور یہ پٹواری ہی ہیں، نویں اسکیل کے ایک پٹواری کے لیے اوپر سے سفارشیں آتی ہیں،ان کے تقرر اور تبادلوں کے لیے بڑی بری رشوتیں دی جاتی ہیں،شہری علاقے میں رجسٹری کے بعد انتقال کرانے کا کیا مقصد ہے ؟ یہ سب پٹواریوں کے کھانے کا طریقہ غیر قانونی ہے، پٹواری اپنے طور پر انتقال کرتے ہیں اور کسی کی زمین کسی کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ میں شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کی تعیناتیوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ شہری علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کا کیا کام ہے اور یہ کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں ؟ رشوت کا سب سے بڑا ناسور یہ پٹواری ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نویں اسکیل کے ایک پٹواری کے لیے اوپر سے سفارشیں آتی ہیں اور ان کے تقرر اور تبادلوں کے لیے بڑی بری رشوتیں دی جاتی ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ شہری علاقے میں رجسٹری کے بعد انتقال کرانے کا کیا مقصد ہے ؟ یہ سب پٹواریوں کے کھانے کا طریقہ ہے جو غیر قانونی ہے۔ پٹواری اپنے طور پر انتقال کرتے ہیں اور کسی کی زمین کسی کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ سی پیک میں بھی پٹواریوں کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اسی وجہ سے اتنا اہم اور بڑا منصوبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں اپنے لیے نہیں نئی آنے والی نسلوں کے لیے سوچنا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ کے پی میں شہری علاقوں میں پٹواری کام نہیں کر رہے ہیں جب کہ سندھ اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز نے مقف اختیار کیا کہ نوٹس دو روز پہلے موصول ہوا ہے جواب کے لیے کچھ مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت اسلام آباد میں کرنے کی ہدایت کر دی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*