کپتان کے چھکے

سکندر خان بلوچ
پاکستان اسوقت اپنی تاریخ کے بہت ہی دلچسپ دور سے گزررہا ہے۔ جب سے خانصاحب کی حکومت اقتدارمیں آئی ہے اپوزیشن بہت مضطرب اور پریشان ہے۔وہ عمران خان کو وزیر اعظم ماننے کو تیار ہی نہیں۔اس سلسلے میں انکا اپنا لاجک ہے۔ان کی نظر میں اقتدار کی حقدار صرف پاکستان کی دو فیملیز ہی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی کا اقتدار میں آنا نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے لئے بھی بہت نقصان دہ ہے۔گو حکومت نے اپنے پہلے سو دن پورے کر لئے ہیں لیکن اب تک تباہ حال معیشت سنبھالنے میں اس حد تک مصروف رہی ہے کہ اسے کسی اور چیز کے لئے ہوش ہی نہیں رہا۔یہاں داد دینی پڑتی ہے سابقہ حکومت کی جس نے اتنی اچھی سیاسی چال چلی کہ اقتدار چھوڑنے سے پہلے خزانہ با لکل خالی کردیا تا کہ آئندہ اقتدار میں آنے والی حکومت چل ہی نہ سکے اور ملک کو اس حد تک قرض میں ڈبو دیا جسے اتارنا نا ممکن ہو جائے۔نتیجتاً ڈالر بے لگام ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلا گیا اور عوام کو مہنگائی کے عذاب نے جکڑ لیا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت کو ناکام بنانے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت فری مارکیٹ سے ڈالر اپوزیشن پارٹیوں نے خرید کر جمع کر لیا ہے۔لہٰذااب اپوزیشن شیر ہو کر حکومت کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے اور حکومت خصوصاً عمران خان پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ ”سو دن سو جھوٹ،سو دن سو یو ٹرن۔ناکام اور جھوٹی حکومت“۔بقول بلاول ”دس روپے کی روٹی پندرہ روپے کا نان۔یہ ہے نیا پاکستان۔واہ رے عمران خان “۔وغیرہ وغیرہ۔
اب اپوزیشن اس طرح تنقید کررہی ہے اور اپنے منصوبے پیش کررہی ہے جیسے ان کے دور حکومت میں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔اپنا ماضی تو وہ دیکھتے ہی نہیں۔سب اپوزیشن والے اپنے آپ کو عظیم سیاستدان اور اپنے دورِ حکومت کو پاکستانی تاریخ کے بہترین دور کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر طرح طرح کی الزام تراشیاں سامنے آرہی ہیں۔ عمران خان کو(معذرت سے) یہودی ،بد کردار ،جھوٹا اور پاکستان کا دشمن ثابت کرنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔پی ٹی آئی کی طرف سے بھی دونوں بڑی پارٹیوں کے خلاف کچھ کمنٹس سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔سب سے پہلا سوال تویہ کیا گیا ہے کہ جناب میاں صاحب نے ” قرض اتارو ملک سنوارو “ کے نام پر جو پیسہ اکٹھا کیا تھا اسکا حساب دیں۔میاں صاحب کے اقتدار کے پہلے سو دن کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہے۔ میاں صاحب نے خود پہلے سو دنوں میں بجلی ، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھائیں۔ باہر سے قرض لیا ٹیکس بڑھایا ،عوام کو مہنگائی میں ڈبویا۔ آج جس عذاب سے پاکستان اور پاکستانی عوام گزررہے ہیں یہ سب کچھ میاں صاحب کا ہی تو مسلط کردہ ہے۔میاں صاحب کی حکمرانی کے عطا کردہ قرض کی سزا غریب عوام کئی سال بھگتیں گے تو پھر اعتراض کس بات کا؟جناب بلاول صاحب پاکستان کو بھٹو اور شہید محترمہ کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ ایک دل جلے نے پوچھا ہے کہ :”جناب بھٹو صاحب اور محترمہ نے کونسا لال قلعہ فتح کیا تھا یا پاکستان کو معاشی ٹائیگر بنایا تھا جس کی آپ بار بار تعریف کرتے ہیں “۔ایک اور صاحب نے بھٹو اور محترمہ کی حکومتوں کی کارکردگی ان الفاظ میں بیان کی ہے۔(معذرت سے) ”یہ بھٹو ہی تھا جس نے بغیر کفن دفن اور بغیر جنازہ مشرقی پاکستان دفنایا اور عوام کو آج تک نہیں پتہ کہ اس سانحہ کا ذمہ دار کون تھا ؟یہ بھٹو ہی تھا جس نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے والی فلم بار بار ٹی وی پر چلواکر فوج کی تذلیل کی۔ آرمی اور ائیر فورس چیفس جو بھٹو کو امریکہ سے بلا کر اقتدار میں لائے تھے کے ساتھ چپڑاسیوں سے بھی بد تر سلوک کیا اور ان سے زبردستی استعفے لئے۔اپوزیشن لیڈروں کی بری طرح تذلیل کی اور انکے لئے اذیت ناک دلائی کیمپ کھولا۔ فوج کے مقابلے میں گسٹا پو قسم کی اپنی فورس تیار کی۔معاہدہ تاشقند کا راز بتانے پر عوام کو بیوقوف بنایا جو آخری دم تک نہ بتایا۔ معذرت سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی نظر میں محترم کی حکومت کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ جہاں تک محترمہ کی حکومت کا سوال ہے۔منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک جائیدادیں بنانے کا رواج اسی دور میں آیا۔سرے محل اور فرانس میں جائیدادیں اسی دور میں بنیں۔ کرپشن کا رواج اسی دور میں شروع ہوا اور مسٹر ٹین پر سنٹ بھی اسی دور میں ہی معرض وجود میں آیا۔پبلک منی سے لاکھوں ڈالر کا ہار بھی اسی دور میں خریداگیا “۔ بہتر ہوگا کہ بلاول صاحب اپنے والد محترم کی بھی تعریف کریں جن کے دور میں امریکہ نے ایبٹ آباد اپریشن کے ذریعے پاکستان کی تذلیل کی جس کی سزا پاکستان اب تک بھگت رہا ہے۔اسی دور میں مسٹر ٹین پر سنٹ ترقی پا کر مسٹر سو پرسنٹ بنے۔
یہ تنقید اپنی جگہ۔ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ تنقید ضرور کرے لیکن سوچ سمجھ کر۔ہمیں نئی حکومت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی دکھائے۔ ان سو دنوں میں تحریک انصاف نے کئی سیاسی چھکے مارے ہیں۔ ان میں تین بہت اہم ہیں اور یہ تینوں مستقبل کی عالمی پالیسیوں پر اثر انداز ہوں گے۔پہلا چھکا تو چین کے ساتھ تعلقات اور تجارت ہے اور یہ تجارت مقامی کرنسی میں ہو گی۔ اس نکتے پر دونوں حکومتوں کا متفق ہونا عالمی پالیسی میں ایک اہم قدم ہے۔ اسوقت تک دنیا کی تمام بین الاقوامی تجارت ڈالروں میں ہوتی ہے اس لئے دنیا کے تمام ممالک کو اپنے ریزرو ڈالروں میں رکھنے پڑتے ہیں۔ ڈالرز امریکی کرنسی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ کی پوری دنیا میں تھانیداری قائم ہے۔ امریکہ ڈالروں کے زور پر ہی دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اب جب پاکستان اور چین اپنی تجارت مقامی کرنسی میں کریں گے تو انکی دیکھا دیکھی اور بھی بہت سے ممالک ہماری تقلید کرینگے۔ اب روس ، بھارت، ایران ،ترکی اور یورپ بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں۔ اس سے امریکن کرنسی اور امریکی پالیسیوں کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اور غریب ممالک بہت حد تک اپنے قومی مفاد کے مطابق پالیسیاں بنا سکیں گے۔
عمران خان کا دوسرا چھکا کرتار پور راہداری ہے جس کے کھلنے سے سکھ بغیرویزہ اپنے گرو کے درشن کے لئے آسکیں گے۔اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔لہٰذا مزید ضرورت نہیں۔ایک اچھا نتیجہ یہ ہے کہ سکھوں اور ہندووں میں چپقلش شروع ہو چکی ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے لگ چکی ہے۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے بھارتی حکومت پر پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کےلئے بھی تنقید شروع ہو چکی ہے۔بھارت اس راہداری کے کھلنے پر خاصا پریشان ہے کیونکہ کرتار پور راہداری کھلنے سے 12کروڑ سکھوں کی ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ ہو گئی ہیں اور یہ ہمدردیاں یقیناً پاکستان مخالف بھارتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہونگے۔خان کا تیسرا چھکا امریکہ کیخلاف ہے جو کئی سالوں سے ہمیں غلاموں کی طرح استعمال کررہا تھا۔ عمران خان ہماری تاریخ کا وہ پہلا لیڈر ثابت ہوا ہے جس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے۔ عمران خان نے بطور ” کرائے کے قاتل“ استعمال ہونے سے انکار کردیا ہے۔ خوشی ہے کہ عمران خان کی نئی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ ”ڈومور“ سے ”تعاون “کی درخواست پر آگیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے آزادانہ رویہ سے مایوس ہو کر امریکہ نے اب مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے نام پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔یہ پاکستان پر پریشر بڑھانے کا نیا طریقہ ہے جس سے دنیا کے بہت سے ممالک کو نبٹنا پڑیگا۔ کپتان نے داخلی محاذ پر بھی ”احتساب “ کے نام پر چھکا ضرور مارا ہے لیکن اس سے کچھ حاصل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*