اب پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے ، شہریار آفریدی

minister of state for interior

اسلام آباد (یوپی آئی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار فریدی نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو ماڈل پولیس بنائیں گے، پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے، نئے پاکستان میں قانون سے سب کے لئے برابر ہے ، کوئی بھی بڑا شخص قانون سے بالا تر نہیں ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ ہم فائلوں کو ٹائر لگاتے ہیں ، ان کی نفی کا نام نیا پاکستان اور اسلام آباد پولیس ہے، ہر قانو ن شکن پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت نے جمعہ کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میںڈی ایس پیز، انسپکٹر، سب انسپکٹر سمیت 183افسران و جوانوں کی ترقی کے ضمن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ میری جتنی بھی آئی جی پولیس سے ملاقاتیں ہوئیں ہیں اس میں سب سے ضروری بات یہ تھی کہ اسلام آباد پولیس کو ذہنی سکون دیا جائے تا کہ پولیس افسران کو پتہ ہو کہ ان کو اللہ اور اللہ کے محبوب کے بعد کوئی پوچھنے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے جو بھی مسائل ہیں جس ازمائش سے گزرتے ہیں، شہدائ کے لواحقین اس کے علاوہ افسران جو دن رات محنت کرتے ہیں، وہ سپاہی جو ہماری حفاظت کے لئے ڈیوٹی دیتا ہے اور رات کو ٹارچ سے گاڑیاں چیک کر رہا ہوتا ہے، ملازمین کے رہائشوں کے کرائے اور دیگر مسائل کا مدوا نہ کیا جائے اس وقت تک میری پولیس صیح طریقے سے خدمات سرانجام نہیں دے سکے گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جو جو آپ نے مجھے کہا اور جو کچھ بھی میں نے اپنے وزیراعظم کو کہا، تمام باتیں مان لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی عزت ہماری پہلی ترجیح ہے، اسلام آباد پولیس دنیا کی بہترین پولیس ثابت ہو گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جب ہمارے پاس کچھ نہیں تھا ہم ہر میدان میں چمپیئن تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری نیت صاف ہوتی ہے تو پھر ہر میدان میں مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب یہ تمام چیزیں اسلام آباد پولیس کو ملیں گی وہ ایک باعزت اور بااختیارہو گی اور ریاست پولیس کے پیچھے کھٹری ہے چاہے اینکروچمینٹ ہو، قبضہ مافیا ہو، ڈرگ مافیا ہو یا بڑے مافیا کے خلاف کاروائی ہو، وزیر داخلہ آپ کے ساتھ کھٹرا ہو گا۔ افسران دفاتر میں بیٹھ کر احکامات جاری نہ کریں بلکہ وہ میدان میں موجود ہوں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ وہ آپ کے ساتھ کھٹرے ہیں، یہ ہے نیا پاکستان جو آپ کو احساس دلا رہا ہے کہ کوئی بھی کھٹرپینچ ہو اس پر قانون کے مطابقہاتھ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسفر کے خوف کے بغیر انکوائری کی جائے، یہی نئے پاکستان میں پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہم فائلوں کو ٹائر لگاتے ہیں اور تمام نظام ہمارے ہاتھ میں ہے ان کی نفی کا نام نیا پاکستان اور اسلام آباد پولیس ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جس طرح آپ پر ریاست اعتماد کر رہی ہے، اب آپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ آپ بھی اپنا کام ایمانداری سے کریں۔ انہوں نے کہا کہ 13کے قریب اسلام آباد پولیس کے لوگ جو پیسے سے اپنے ضمیر کو بیچتے تھے ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی اولادوں کو حلال کا لقمہ کھلائیں تو ہمارے ذیادہ تر مسائل تو خود بخود حل ہو جائیں گے لیکن جب حرام کا لقمہ کھائیں گے تو آپ کی عزت نہیں ہو گی اپنا مول نہ لگوائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے سمیت کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ تین دن پہلے وزیر اعظم کی ہدایت پر میں ایک ایسے سپوت کو ملا ہو جن کی عظمت کو سلام ہے ، کرنل ایوب خود کش بمبار کو جب پکٹرنے لگے تو دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں اور زخموں سے چور تھا جب آئی سی یو میں میں ان سے ملنے گیا تو ان کے بھائیوں نے بتایا کہ وزیر مملکت ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو قوتیں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں ان کے لئے پیغام ہے کہ ان کو دیکھنے جب میں آئی سی یو میں گیا تو اس لیول کے مریض نے مجھے اور وزیر اعظم کو پیغام دیا کہ یہ بہت چھوٹی قربانی ہے، کپتان سے کہو کہ پاکسان کے جوان ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیارہں۔ انہوںنے کہاکہ ایسی قوم میں ایسے جوان ہوں جو اپنی دھرتی ماں کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے ایک ایسی قوم بننا ہے جس پرکوئی انگلی تک نہ اٹھا سکے۔ ہم نے ان کے آگے سر نہیں جھکانا۔ میرے اور آپ کے فیصلے باہر نہیں کئے جائیں گے۔ اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے۔ تمام فیصلے پاکستانیوں کی سوچ کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے، پاکستان کے اندر چاہے بلوچستان ہیں ، فاٹا ہیں، کے پی کے میں ہیں یا کہیں بھی ہیں جن کو جان بوجھ کر ذلیل و رسوا کیا گیا جس طرح بلوچستان میں سرنڈر کرکے ہم ان کو گلے لگاتے ہیں۔ سدرن کمانڈ لازوال قربانیاں دے رہی ہیں وہ لوگ جو پہاڑوں پر تھے وہ نیچے آرہے ہیں۔ اسی طرح چاہے وہ منظور پشتین ہے، چاہے وہ پی ٹی ایم سے جتنے جڑے ہوئے لوگ ہیں، ریاست ان کو عزت دے گی اور گلے لگائے گی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ لوگ کسی اور ایجنڈے میں ملکی مفادات کے خلاف استمعال ہوکر میرے ملک کے اندر انتشار کا سبب بنیں گے یا قانون کو چیلنج کر یں گے تو پھر وہ یاد رکھیں یہ ملک سب کچھ کر سکتا ہے لیکن دھرتی ماں پر کمپرومائز نہیں کرسکتے لیکن ان کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس ریفارمز ، ماڈل پولیس بنانا، پولیس کی تعلیم اور صحت ، پولیس کا رویہ چاہے وہ سگنل پر ہو ، ناکے پر ہو ، تھانے پر ہو تمام پولیس والوں کو اپنا رویہ درست کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام ہے کہ پاکستانیوں کو پولیس عزت دے ، تھانوں میں ایسی مائیں آتی ہیں جن کے جگہوں پر قبضے ہوجاتے ہیں اور ان کے بچے منشیات کی لعنت میں پھنس جاتے توپتہ چلتا ہے کہ اداروں کے اندر موجود لوگ ان کی مدد کررہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ، میری درخواست ہے کہ ملکی سکیورٹی کی خاطر ایسی فوٹیج ویڈیو یاخبر شیئر نہ کی جائے جس سے ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ صحافت ضرور ہو لیکن ملکی مفادات کو ضرور مد نظر رکھیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*