سی پیک میں بلوچستان کا کوئی منصوبہ شامل نہیں

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک میں بلوچستان کا کوئی عوامی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ۔ماضی کی حکومتوں سے اس کا حساب لیا جانا چاہےے بلوچستان میں قحط سالی کی صورتحال سنگین ہے اس سلسلے میں وفاق سے بھی مدد طلب کرلی ہے پانچ سالوں سے سی پیک میںڈیم اور روڈ بننے چاہےے تھے سی پیک میں پانی کے منصوبوں کو شامل کرنے کےلئے اقدامات کررہے ہیں ۔مشترکہ مفادات کونسل میں بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا مذکورہ بیان میں سی پیک میں بلوچستان کے کسی عوامی منصوبے کو شامل نہ کرنے کا انکشاف حیران کن ہے کیونکہ ماضی کی حکومت نے نہ صرف سی پیک میں بلوچستان کے منصوبوں کا اعلان کیا بلکہ ایک منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا جس کی تقریب میں حکومت اور اس کے اتحادی رہنما بھی شامل تھے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ سی پیک کا منصوبہ نہیں ہے ۔اب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بھی اس کا انکشاف کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سابق حکومت نے بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح بلوچستان کے ساتھ دھوکہ کیا جوکہ قابل مذمت اقدام ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ سی پیک جو بلوچستان میں شروع کیا گیا منصوبوں میں اس کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس سلسلے میں ڈھونگ اور ڈرامہ ر چایا گیا حالانکہ گزشتہ حکومت بھی بلوچستان کو ترقی دینے اور اس کی پسماندگی کے خاتمے کے دعوے کرتے تھکتی نہیں تھی وہ بھی ہمیشہ بلوچستان کو دلاسے اور عوام سے جھوٹے وعدے کرتی رہی لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔
اب موجودہ صوبائی حکومت نے جس کی قیادت جام کمال خان کررہے ہیں نے نہ صرف یہ اہم انکشاف کیا ہے بلکہ سی پیک میں پانی کے منصوبوں کو شامل کرنے کےلئے اقدامات کرنے کی بات کی ہے وہ قابل تعریف اقدام ہے اس سلسلے میں مشترکہ مفادات کونسل میں بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کا اقدام بھی بلاشبہ صوبہ کو ترقی دینے کی جانب اہم قدم ہے ۔
امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان جو ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور وہ بلوچستان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں ان مسائل کا حل کرنے کےلئے احسن اقدامات اٹھائیں گے اور سی پیک منصوبے میں جو بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا ازالہ کرینگے کیونکہ عوام کو بھی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اس لئے ان کو عوام کی امیدوں پر پورا اتر نا چاہےے تاکہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان مرکز سے بھی اس سلسلے میں تعاون حاصل کرلینگے ،وہ نہ صرف وفاق میں بلکہ صوبے میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حمایتی جماعت ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*