حکومت کا شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئر مین بنانے کا مطالبہ تسلیم

اسلام آباد(آئی این پی )حکومت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پی اے سی کو چیئرمین بنانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے بغیر پارلیمنٹ فنکشنل کیسے ہو سکتی ہے کمیٹیوں کا بننا جمہوریت کے حق میں ہے ، ہمیں گنجائش پیدا کرنی چاہیئے، اگر قائد ایوان کو بات کرنے نہیں دی جائے گی تو اپوزیشن لیڈر کو بھی بات کرنے میں دقت ہو گی ، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا احترام ہم سب پر لازم ہے اگر ان کا احترام نہیں کریں گے تو جمہوریت کی گاڑی نہیں چل سکتی ، بار بار یہاں جمہوریت کو نقصان پہنچا، ہم سب اس کے ذمہ دار بھی ہیں اور متاثرین بھی ہیں ، اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور بات آھے بڑھائیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے گنجائش پیدا کریں ۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر حوالات میں تھے تو ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے گئے ، یہ ایک روایت ہے ، یہ ایوان ہم سب کا ہے ،ایوان کا احترام ہم سب پر لازم ہے ، حالات بدلتے رہتے ہیں ، ہم نے اتار چڑھا دیکھا ہے ، اس ایوان کو فنکشنل رکھنا اور اس کے تقدس کا خیال کر نا سب کی ذمہ دری ہے ، حکومتی بینچز کی ذمہ داری زیادہ ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، فلور پر کی گئی بات کی اپنی اہمیت ہو تی ہے ، انہوں نے کہا کہ دونوں طر سے میچور رویئے کی ضرورت ہے ، نظام نہیں چلے گا تو ذمہ داری سب کی ہے ۔ آئیں کوئی روستہ نکالیں جس سے نظام چل سکے ، ایوان کو نہ چلنے دینے سے اپوزیشن کو فائدہ نہیں ہو گا ، اگر قائد ایوان کو بات کرنے نہیں دی جائے گی تو اپوزیشن لیڈر کو بھی بات کرنے میں دقت ہو گی ، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا احترام ہم سب پر لازم ہے اگر ان کا احترام نہیں کریں گے تو جمہوریت کی گاڑی نہیں چل سکتی ، بار بار یہاں جمہوریت کو نقصان پہنچا، ہم سب اس کے ذمہ دار بھی ہیں اور متاثرین بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور بات آھے بڑھائیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے گنجائش پیدا کریں ، گزشتہ حکومت میں بجٹ تو پاس ہو گیا لیکن بجٹ کی روایات پامال کی گئیں ، قائمہ کمیٹیوں کے بغیر پارلیمنٹ فنکشنل کسیے ہو سکتی ہے کمیٹیوں کا بننا جمہوریت کے حق میں ہے ، ہمیں گنجائش پیدا کرنی چاہیئے ، پبلک اکانٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے حوالے روایت نے جنم لیا اور اپوزیشن لیڈر کو چیئرمین لگایا گیا ، رویات اس کے بر عکس بھی ہیں ، انہوں نے کہا موجودہ اپوزیشن لیڈر نیب کے کیس میں درکار ہیں ، نیب کا اس ایوان سے کوئی تعلق نہیں ، نہ نیب کے فیصلے ایوان کرتا ہے نہ یہ کیس اس حکومت کے بنائے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر مناسب سمھجیں تو کسی کو بھی چیئرمین کے لئے نامزد کر لیں ہم اس کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے ، ہماری وزیر اعظم سے بات ہو ئی ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے تو ہم تسلیم کر لیتے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا موقف وہی ہے جس کا اظہار کر چکے ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فراخدلی کا ثبوت دینا چایئے ، انہوں نے کہا کہ پی اسے سی میں (ن) لیگ کے دور حکومت کے آڈٹ پیرا آئیں گے تو یہ مناسب نہیں ہوگا کہ شہباز شریف اس کی سربراہی کریں ، (ن) لیگ کے آڈٹ پیرا کے لئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دیتے ہیں اس کی سربراہی شہباز شریف نہیں کریں گے ، آئیں راستہ نکالیں جس سے یہ ایوان مذاق نہ بن جائے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*