ہر پانچ سال بعد جو الیکشن کا مرحلہ آتا ہے ،وہ احتساب ہے ،سردار اختر مینگل

اسلام آباد ( آئی این پی ) بلوچستان نیشنل پار ٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ کیا سیاسی پارٹیوں کو توڑنے اور منتخب حکومتوں کو ختم کرنے والوں کا بھی احتساب ہو گا، عوام بے چارے قطاروں میں کھڑے ہو کر ٹھپے مارتے ہیں لیکن نتیجہ سپریم اتھارٹیاں نکالتی ہیں، ان کا بھی تو کوئی احتساب کرے جنہوں نے ڈبے بھرے ہیں ، ڈبے چرائے ہیں اور مہریں لگائی ہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہم کارپٹ کے نیچے مٹی کو چھپانا چاہتے ہیں ، کرپشن ہوئی ہو گی لیکن کیا معاشی کرپشن ہی ملک کی تباہی کا باعث بنی ہے،کیا کبھی سیاسی کرپشن کے بارے میں بھی سوچا ہے، سیاسی جماعتیں بدلتے ہوئے لوگوں کو منٹ بھی نہیں لگتے، سیاسی پارٹیوں میں مداخلت ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنا اور منتخب حکومتوں کو ختم کرنا کیا ان کا بھی احتساب ہو گا۔ عوام کو اختیار ہے کہ وہ احتساب کریں ، ہر پانچ سال بعد جو الیکشن کا مرحلہ آتا ہے وہ احتساب ہے ، جو کوئی کرپشن میں ملوث ہے یا کوئی نااہل ہے ، وہ عوام کو اختیار ہے کہ اس کا احتساب کریں ، لیکن کیا وہ الیکشن کے مراحل کو جس کو فری اینڈ فیئر الیکشن کہا جاتا ہے کیا اس عوام کے پاس اس احتساب کا وہ اختیار ہے اپنے ہاتھ میں ؟ وہ تو بے چارے قطاروں میں کھڑے ہو کر ٹھپے مارتے ہیں لیکن نتیجہ سپریم اتھارٹیاں نکالتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہاں پر ایک دوسرے کو چور چور کہتے ہو ئے اس ایوان کو جنگل بنا دیں پھر وہی حسب روایت وہ مور جو آنکھیں تاڑے ہوئے بیٹھا ہے کسی بھی وقت وہ مور اس ایوان میں ناچنا نہ شروع کر دے، انہوں نے کہا کہ حلقہ پی بی 47میں انتخابات ہوئے وہ ایک حساس علاقہ ہے وہاں نہ امیدوار وہاں جا سکتے ہیں نہ عملہ جا سکتا ہے، میں خود اپنے ایم این اےز اور ایم پی ایز کے ساتھ وہاں پہنچا تھا ساڑھے 4بجے تک وہاں صرف 2ووٹ ڈالے گئے لیکن جب نتیجہ نکلا تو باکس سے ساڑھے 500ووٹ نکلے وہ بھی ایک امیدوار کے حق میں ، ان کا بھی تو کوئی احتساب کرے جنہوں نے ڈبے بھرے ہیں ، ان کا بھی تو احتساب کریں جنہوں نے ڈبے چرائے ہیں ، ان کا بھی تو احتساب کریں جنہوں نے مہریں لگائی ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*