صحت اور تعلیم کے شعبے میں تھرمیں مزید کام کرنےکی ضرورت ہے ،چیف جسٹس

تھرپارکر(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی کوشش لگ رہی ہے کہ تھر کے حالات بہتر بنائے جائیں، ڈیپلو اسپتال میں ایکسرے کی بڑی مشین 10 سال سے خراب تھی،اسپتال میں آپریشن تھیٹرہے، لیکن کوئی سرجن نظر نہیں آیا،صحت ،تعلیم کے شعبے میں تھر میں مزید کام کرنےکی ضرورت ہے، ڈیپلو کے قریب اسکول کی حالت ٹھیک نہیں تھی، وزیراعلیٰ اقدامات کریں،وزیراعلیٰ سندھ ساتھ ساتھ تھے انہوں نے بھی نوٹس کیا ہے۔بدھ کو یہاں میڈیا سے گفتگوسے کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ منصوبہ ملکی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،آن پیپر اور پریزنٹیشن کے مطابق تھر کول پروجیکٹ زبردست ہے، ڈیپلو کے قریب اسکول کی حالت ٹھیک نہیں تھی، وزیراعلیٰ اقدامات کریں،وزیراعلیٰ سندھ ساتھ ساتھ تھے انہوں نے بھی نوٹس کیا ہے،صحت ،تعلیم کے شعبے میں تھر میں مزید کام کرنےکی ضرورت ہے، اسپتال میں آپریشن تھیٹرہے، لیکن کوئی سرجن نظر نہیں آیا،ڈیپلو اسپتال میں ایکسرے کی بڑی مشین 10 سال سے خراب تھی۔انہوں نے کہا کہ صحت کے جو حالات ہیں وہ مجھے اتنے متاثرکن نہیں لگے، یہ بھی پتا چلا کہ مفت علاج مہیا کیا جارہا ہے، پتا چلا قحط سے خوراک کی جوکمی ہے اس میں حکومت سندھ تعاون کررہی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت سندھ کی کوشش لگ رہی ہے کہ تھر کے حالات بہتر بنائے جائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*