زندگی کی دوڑ میں بہتری مغرب کا تحفہ

تحریر:ڈاکٹر اے آرخالد
زندگی کی بھاگ دوڑ میں تیزی مغربی تہذیب کا وہ تحفہ ہے جسے قبول کرتے ہوئے ہم نے اس سے پہنچنے والے نقصانات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ اگرچہ مشرقی دانش کو اہمیت دینے والے ہر شخص نے بے مقصدبھاگ دوڑ اور بے سمت سفر یا منزل پر نظر رکھے بغیر یا اس کا شعور حاصل کئے بغیر بھاگنے کو سفر رائیگاں اور بے نتیجہ قرار دیا ہے اور مثالوں سے سمجھایا کہ شعور حاصل کر کے اور منزل کو ہدف بنا کر ٹرین کی برتھ پر لیٹا ہوا سست الوجود شخص لیٹے لیٹے منزل پر پہنچ جاتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں بیس گھنٹے دوڑ دھوپ کرنے والا اپنی ساری توانائیاں ضائع کر دینے کے باوجود منزل تک نہیں پہنچتا کیونکہ و ہ منزل کا شعور حاصل کئے بغیر بے سمت سفر کر کے خود کو تھکا تو لیتا ہے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ مغرب میں ہر شخص ہر وقت تیزی میں گزرتے وقت کو پکڑنے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر کے کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے کیونکہ و ہ کسی ہدف یا مقصد کو سامنے رکھ کر اس تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تیزی کو جب ہم نے اختیار کیا تو اپنی ساری پہچان کو غتربود کر بیٹھے ’سب کی خیر سب کا بھلا‘ کی بلند آواز سے دعائیں ہر سڑک اور ہر راستے پر صبح صبح کانوں سے بار بار ٹکراتی تھیں۔ راستہ لینے کیلئے اللہ بھلا کرے۔ ”جیوندے روو (جیتے رہو) اور اسی طرح کے پیار کے بول کانوں میں رس گھول دیتے پھر یہ خوبصورت لفظ غصہ میں بدلے تمہارے باپ کی سڑک نہیں ہے، ایک طرف ہو کر چلو اور اسکے بعد اندھے ہو نظرنہیں آتا اور پھر مرنا ہے تو کسی اور کی گاڑی کے نیچے آ کر مرو اور پھر گالی دیکر راستہ لینے کا انداز ہماری معاشرتی زندگی میں ایسا زہر گھول چکا ہے کہ ہر شخص ہر وقت بلاوجہ لڑنے اور مرنے مارنے پر تیار ہوتا ہے۔ رشتوں کے تقدس کو مجروح کرنے کیلئے بعض ٹی وی چینلز پالیسی کے تحت ڈرامے دکھا رہے ہیں۔ اعصاب شکن جملے خود ساختہ واقعات اور انکی ڈرامائی تشکیل نے رشتوں کی پاکیزگی ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ایجنڈا سیٹنگ کیلئے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے والے بظاہر کامیاب ہیں مگر فی الحقیقت اپنی دنیا و عاقبت خراب کر کے بہت ہی خسارے کا سودا کر رہے ہیں جس کے اثرات سے وہ اور ان کی اولاد ہرگز محفوظ نہیں رہیگی۔ ہر کسی کا ہر جگہ اور ہر وقت غصہ لوگوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو عملاً ختم کر سکتا ہے اور ہم بطور قوم ان منفی رویوں کے نشانے پر اس طرح آئے ہوئے ہیں کہ اس میں بے بسی اور مایوسی نے اپنا بھرپور حصہ ڈال کر زندگی کو گزارنے کے چلن اور ڈھنگ سے اجنبی اور بیگانہ کر دیا ہے۔ تربیت کرنے کے سارے ادارے ایک ا یک کر کے مصلحت بینی کا شکار ہو چکے ہیں اور کسی شعبہ میں وہ ا±منگ اور وہ جھلک نظر نہیں آ رہی جو اسے مایوسی و قنوطیت کو ختم کرنے کے عزم و ارادہ کو ظاہر کرے۔ لغویات کا حصہ ہر شعبے میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت ہر آنیوالے دن کو منفی رویوں کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کر چکے ہیں اور اس کو نہ اپنانے والے محض اس پر کڑھ جل کر اپنا خون توجلا لیتے ہیں کسی مثبت تبدیلی میں ہرگز ہرگز اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔
سلطان محمود غزنوی کے وزیر باتدبیر ایاز کا وہ قصہ تو سنا تھا کہ جب اسکی عقل و دانش اور وفا داری کے سبب بادشاہ نے اسے غیر معمولی اہمیت دینا شروع کر دی تو باقی وزرائ میں حسد اور مخالفت بہت نمایاں ہو گئی۔ بادشاہ نے انہیں اس آگ سے بچانے کیلئے اور ایاز کو زیادہ اہمیت دینے کی وجہ بتانے کیلئے ایک پھل کو کاٹ کر ایک ایک کاش تمام وزراءکو دیدی۔ وزیراعظم سے لیکر جونیئر وزیر نے پھل منہ میں ڈال کر کاٹتے ہی تھوتھو کر کے پھینک دیا۔ اتنا کڑوا پھل کسی نے لاحول پڑھا تو کسی نے استغفراللہ۔ صرف ایاز ا سے مزے سے کھا رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا ایاز تمہاری کاش کڑوی نہیں جواب دیا بادشاہ سلامت ساری زندگی آپ نے نوع نوع کے میٹھے پھل کھلائے آج ایک کاش کڑوی آ گئی تو میری وفاداری اور احسان مندی مجھے اسے پھینکنے اور تھوتھو کرنے سے روک رہی ہے۔ مگر میں آج ایک بڑے دانشور کے بچپن کا وہ قصہ سنانے جا رہا ہوں جس نے لکھا ہے کہ میں بہت چھوٹا سا بچہ تھا کہ میری ماں کہیں باہر سے گھر آئی مجھے اس کی پریشانی اور عجلت میں وہ سارے کام نمٹانے کیلئے غیر معمولی تیزی آج بھی بھولی نہیں‘ جیسے اس نے وہ کام نمٹانے میں ضرورت سے زیادہ تاخیر کر دی ہو۔ ایک طرف ہنڈیا میں پہلے سے پکا ہوا یا بچا ہوا سالن گرم کر رہی تھیں۔ دوسری طرف توے پر روٹی ڈال رہی تھیں۔ اس دوران پانی کے گھڑے میں پانی نہ دیکھ کر ساتھ والے گھر سے پانی لینے کیلئے بھاگ رہی تھیں مجھے اور میرے بہن بھائیوں سے کہہ رہی تھی مجھے تھوڑا سا وقت دے دو۔ تمہارے ابا کو کھانا دے دوں تو پھر تمہاری ساری باتیں بھی سنوں گی اور تمہیں کھانا بھی کھلاﺅں گی اور کہانی بھی سناﺅں گی وغیرہ وغیرہ ابا چارپائی پر کھانے کے انتظار میں بیٹھ چکے تھے اور اماں ایک ایک سیکنڈ کی تاخیر پر خود کو مجرم سمجھ رہی تھی ہم بچے اماں کی اس دوڑ دھوپ میں کہیںابا کی ہیبت دیکھ رہے تھے کہیں ان کا غصہ بلکہ زیادتی کہ وہ اماں کو ضرورت سے زیادہ دبا کر رکھتے ہیں جبھی تو وہ انہیں کھانا کھلانے کیلئے باولی ہوئے جا رہی تھی۔
میرے ذہن میں اماں کی دوڑ دھوپ سے ابا کی پہلی بار ایک جابر اور سخت گیر شخص کی شخصیت ابھر چکی تھی۔ توے پر روٹی جل رہی تھی اماں نے اسکی جگہ نئی روٹی توے پر ڈال دی اور شاید بے دھیانی میں دونوں طرف سے جلی روٹی دبا کر جاکر دے دی۔ ہمارا خیال تھا کہ ابا ڈانٹ ڈپٹ کرینگے اور جلی روٹی کو غصے سے دور پھینک دینگے مگر ابا نے جب ایسا کچھ نہ کیا تو خیال آیا کہ شاید جلی ہوئی روٹی کا اوپر والا حصہ کھرچ کر نیچے والی روٹی کھا لیں کیونکہ ان کے انتظار کرنے کا انداز بتا رہا تھا کہ انہیں بہت بھوک لگی ہے مگر ابا کو شاید ہماری سوچ سے زیادہ بھوک لگی تھی۔ انہوں نے جلا ہوا حصہ علیحدہ کرنے یا کھرچنے پربھی وقت ضائع نہ کیا اور بغیر منہ بسورے یا کوئی غصہ نکالے بھوک کی شدت کی وجہ سے جلی ہوئی روٹی کھا گئے اس دوران اماں نئی اورپھولی ہوئی روٹی لائی اور بڑی لجاجت سے کہا معاف کرنا میں نے جلی روٹی آپ کو بے دھیانی میں دے دی۔ وہ کھانے کے لائق نہ تھی ابا نے بات کاٹ کر کہا مجھے تو بڑا مزا آیا ہے شادی شدہ زندگی میں پہلی بار تو یہ جلی روٹی ملی ہے مجھے یہ بچپن سے ہی بہت پسند ہے۔ اماں کی سانس میں سانس آئی‘ ابا نے دوسری روٹی کو آج ہاتھ بھی نہ لگایا اور کہا میں اپنا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا۔
میں نے تھوڑی دیر بعد جب سب گھر والے کھانا کھا چکے۔ ابا سے پوچھا ابا آپ کو کیا واقعی جلی روٹی پسند ہے۔ ابا بولے بیٹا اپنی ماں کی دوڑ دھوپ اور پریشانی تو دیکھ رہا تھا وہ مجھے فوراً روٹی سالن پانی اور باقی لوازمات دینے میں روٹی جلا بیٹھی اور اسے بے دھیانی میں مجھے دے گئی۔ وہ آج کام کاج کر کے جتنی تھکی ہوئی تھی اور اپنے دیر ہو جانے کا جس طرح مداوا کر رہی تھی اس پر میں اگر روٹی نہ کھاتا یا اس پر تنقید کرتا تو وہ ٹوٹ جاتی۔ اسے حوصلہ دینے کیلئے میں نے کہا مجھے جلی روٹی پسند ہے اور ساتھ ہی کہا میرے بیٹے جلی روٹی کسی کا کچھ نقصان نہیں کرتی مگر غصہ میں کہے ہوئے الفاظ بہت تکلیف دیتے ہیں۔ یہ دنیا ناقص اور نامکمل چیزوں اور انسانوں سے بھری پڑی ہے۔ میں نے زندگی میں یہی سیکھا ہے کہ دوسروں کو ا±ن کے عیبوں اور غلطیوں کے ساتھ قبول کرو بلکہ سراہو اور تعلقات کو معمولی چیزوں کیلئے خراب نہ کرو۔ یہ بچہ بڑا ہوا۔اسی سبق کو ازبر کر کے زندگی گزاری۔ دنیا میں بہت بڑا سائنس دان تو بنا ہی تھا بھارت جیسے ملک کا صدر بھی بن گیا اور لوگ عبدالکلام کی انسانیت دوستی کے حوالے دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*