ریاست اپنی رٹ بحال کرے گی

تحریر : مسز جمشید خاکوانی
شائد آپ سوچیں میں نے یہ کیوں نہیں لکھا ”کیا ریاست اپنی رٹ بحال کر پائے گی”کیونکہ ان دو جملوں میں معمولی سا فرق ہے لیکن ان کے معنی میں بہت بڑا فرق ہے یہ فرق جنرل غفور کے بیان نے دیا ہے انہوں نے کہا ہم ایک بہت عظیم ملک ہیں ٹو ہنڈرڈ سیون ملین کی پاپولیشن ہے اللہ تعالےٰ نے ہمیں ہر چیز دی ہے زمین دی ہے چار موسم ہیں ،معدنیات ہیں لیکن ستر سال گذر گئے ہم یہاں کھڑے ہو کر لوگوں کو یہی بتا رہے ہیں کہ ہم نازک دور سے گذر رہے ہیں ایک نازک دور سے نکل کر دوسرے نازک دور دوسرے سے نکل کر تیسرے نازک دور میں ،یہ نازک دور کیوں آئے اور کون اس کا زمہ دار ہیاس میں بہت بحث ہوتی ہے ہوتی بھی رہتی ہے نتیجہ کوئی نہیں نکلتا سب ایک دوسرے پر الزام ڈالتے رہتے ہیں نازک دور تھا ستر سال سے یہی ہو رہا ہے لیکن ہم نے ان سے کچھ نتائج بھی اخذ کیے ہیں ہمارے مشرق کی طرف جو ملک ہے اس سے ہمارے بہت سارے ایشوز ہیں جس سے ہماری روائیتی اور غیر روائتی جنگیں بھی ہوئیں انہوں نے بھی ہر حربہ آزما کے دیکھ لیا کشمیر سب سے بڑا ایشو ہے ،وہ ایشوز بھی حل نہیں ہو سکے نہ امن آ سکا داخلی طور پر ہماری بہت ساری فالٹ لائنز ہیں ،معیشت کی ہوں کمزور گورنس کی ہوں ،جوڈیشل سسٹم ہو،ایجوکیشن سسٹم ہوحکومت کرنے کا طریقہ ہو ڈکٹیٹر شپ ہے یہ جمہوریت ہے جمہوریت میں باریاں ،ہماری اندرونی فالٹ لائنز بھی ہیں مذھب کے نام پہ فرقے کے نام پہ اشتعال انگیزیاں، ہم خود اس میں پڑے رہے اپنی غلطی مانے بغیر دوسروں کی غلطیاں نکالتے رہے اس کو ہمارے دشمنوں نے بہت ا یکسپلائٹ کیا اب حالات اور وقت پر چلتے چلتے نازک مقام سے ہم اس مقام پر آ گئے ہیں کہ جسے کہتے ہیں یہ واٹر شیڈ ہے،ہماری ہسٹری کا ایک واٹر شیڈ،ہم نے جنگیں لڑیں ،ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ،ہم نے قربانیاں دیں ہماری معیشت خراب ہوئی لیکن آج ہم اس واٹر شیڈ پر کھڑے ہیں جہاں سے آگے نازک وقت نہیں ہے یا بہت اچھا وقت ہے یا نازک وقت سے خراب وقت ہے۔
آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور کے الفاظ اتنے سادہ نہیں ہیں ،انہوں نے کہاہم نے جنگیں لڑ لیں آدھا ملک بھی گنوا دیا سنبھل بھی گئے ایٹمی قوت بھی بن گئے ،پچھلے چند سالوں میں ہم بہتری کی طرف بھی آئے امن بھی آیا گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا بھی دیا ڈیویلپمنٹ بھی ہو رہی ہے بہتر کام بھی ہو رہے ہیں تو اس کو ہم ریورس کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟کیا اس نازک دور سے اس واٹر شیڈ سے ہم ایک اچھے پاکستان کی طرف نہیں جا سکتے؟فیصلہ ہم نے کرنا ہے کیا ہم نے ایسا ہی رہنا ہے یا کامیابیوں اور ناکامیوں کے رول آف کوسٹر پر بیٹھ کر یونہی چلتے رہیں گے؟میں آج کی افواج پاکستان کا ترجمان ہوں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج کی افواج پاکستان گذرے ہوئے کل کی افواج پاکستان نہیں ہیں۔
ہمارے سپاہی سے لے کر سپہ سالار تک نے وہ مشکل ٹائم دیکھا ہے جس میں آپ کا اپنا ساتھی آپ کے ہاتھوں میں دم توڑ رہا ہو پندرہ سال سے فوج اپنے گھروں میں نہیں بیٹھی ،شہروں میں گلیوں میں سرحدوں پر آپ کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے ،ملک نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں عام شہری نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں تمام اداروں نے قربانیاں دی ہیں لیکن اس وقت جس مدو جزر میں ہم نے ستر سال گذار دیے ہیں۔
اس واٹر شیڈ سے جو سلور لائن نظر آ رہی ہے اس کی طرف نہیں جا سکیں گے ،انہوں نے میڈیا کو مملکت کا چوتھا ستون قرار دیا انہوں نے کہا باقی تین ٹھیک ہو بھی جائے لیکن آپ (میڈیا) اس کو دھچکے لگاتا رہے تو بلڈنگ مضبوط نہیں ہو گی میں نے ہر لیول پر اینکرز میڈیا مالکان سب کو انگیج کیا ہے چھ مہینے صرف اس ملک کی اچھی چیزیں دکھائیں آپ لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں اس ملک میں اچھی چیزیں بھی ہیں یہ دکھائیں لوگوں کو (اس سے اگلے روز دنیا نیوز کے ایک پروگرام میں نامور اینکرز فرما رہے تھے یہ کیا بات ہوئی کہ چھ مہینے ہم سب اچھا دکھائیں ہمارا کام حکومت کی غلطیاں لوگوں تک پہنچانا ہے تاکہ عوام ان پر گرفت کر سکیں ،حالانکہ یہ بات جنرل صاحب نے پہلے ہی بتا دی تھی کہ اس کا مطلب یہ نہیں آپ خراب نہ دکھائیں لیکن اس کے ساتھ لوگوں کو اویرنیس دیں کیونکہ جو میڈیا کی پاور ہے وہ کسی اور انسٹی ٹیوشن کی نہیں چھ مہینے کے لیے آپ پاکستان کی پراگریس ،پوٹینشل، پاکستان میں دکھائیں باہر دکھائیں پھر دیکھیں پاکستان کہاں پہنچتا ہے اس کے بعد انہوں نے سپہ سالار کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان کو ہم ایک ایک اینٹ لگا کر بنا رہے ہیں یہاں اچانک ذہن میں آتا ہے۔
جنرل راحیل کے دور میں زرداری صاحب نے فوج کو دھمکی دی تھی کہ ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اس کے بعد زرداری صاحب سال ڈیڈھ ملک سے باہر بیٹھے رہے اور اس عرصے میں فوج نے وہ تمام اینٹیں چن لیں جو یہ لیڈران پاکستان کی دیوار حیات سے نکال چکے تھے اب صرف گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کہنے کی دیر تھی کہ اچانک وہ دیوار ان کے اپنے اوپر گر گئی مزے کی بات یہ ہے کہ اب یہ اس کو انتقام اور قانون سے کھلواڑ کا نام دیتے ہیں آج سعد رفیق برادران بھی اس کو ظلم کا ضابطہ بتا رہے تھے جب ضمانت منسوخ ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا جب کہ بے چارے ڈاکٹر شاہد مسعود جن کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا وہ اب بھی ملک اور عدلیہ کے خلاف ایک لفظ نہیں بولے ،میجر جنرل آصف غفور نے جہاں اپنا موقف پیش کیا وہاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ان عزائم کا تعین بھی کیا جس کے بعد کسی ابہام کی گنجائش نہیں رہی کہ جنرل صاحب کے مطابق آنے والا وقت یا تو بہت اچھا ہو گا یا نازک وقت سے بھی خراب ،اور میرا یہ خیال ہے کہ قوم بھی اب اس گو مگو کی کیفیت سے نکلنا چاہتی ہے میں باقی سوالوں کو ایک طرف رکھ کر منظور پشتین پر آتی ہوں سوشل میڈیا پر اس پر کافی کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے۔
جب میں دیکھتی ہوں کہ وہ تمام عناصر جو پاکستان کے خلاف ہیں ،جو فوج کے خلاف ہیں بلکہ وہ بھی جن پر کرپشن کے چارجز ہیں اور ان کے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں ،جو الیکشن ہارے ہیں یا جن کی اقتدار سے چھٹی ہو چکی ہے وہ تمام عناصر منظور پشتین کی آڑ میں اکھٹے ہو رہے ہیں صاف بات یہ ہے کہ لوگ اب پی ٹی ایم سے ایسے ہی ڈرنے لگے ہیں جیسے کبھی ٹی ٹی پی سے ڈرتے تھے اور میں سمجھتی ہوں جب کسی ملک کی عوام کسی شخص یا تنظیم سے خوف کھانے لگے تو پھر ریاست کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کو ان عناصر سے محفوظ کرے یہ سوال ایک خاتون صحافی نے جنرل غفور سے کیا کہ کیا خادم حسین رضوی کی طرح کے چارجز منظور پشتین پر لگیں گے یا نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی ہو گی ِ؟جس پر جنرل صاحب نے جواب دیا کہ ہم سے سوال ہوتا ہے آپ ان پر سخت ہاتھ کیوں نہیں ڈال رہے جبکہ انہوں نے وہ کاروائیاں بھی کیں ہیں جن سے ان فوجیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا جن کے بیٹے بھائی اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں ،یہاں جنرل صاحب کے جواب سے پہلے میں آپ کو منظور پشتین کا تعارف کرا دوں۔
منظور پشتین ولد عبدل ودود قوم محسود گاﺅں ریشوارہ جنوبی وزیرستان ،منظور کے والد اسکول ٹیچر تھے اس کے تین بھائی تین بہنیں ،ایک بھائی فوت ہو چکا ہے منظور نے ابتدائی تعلیم گاﺅں میں ہی حاصل کی اور گومل یونیورسٹی سے طب حیوانات میں ڈپلومہ حاصل کیا یعنی سادہ الفاظ میں ”ڈنگر ڈاکٹر”منظور کا ایک بھائی قاری محسن تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم رکن رہا اور بدنام زمانہ قاری حسین کے (جو کہ خود کش بمبار تیار کرتا تھا) قریبی ساتھیوں میں سے تھا قاری محسن آجکل روپوش ہے منظور پشتین خود بھی ٹی ٹی پی کے کافی قریب رہا ہے اور قاری حسین اور عظمت اللہ جیسے کمانڈروں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے غالباً اس لیے ”پشتون تحظ ”موو منٹ کی سپورٹ کا اعلان سب سے پہلے ٹی ٹی پی نے کیا۔پاک فوج کے آپریشن کے بعددہشت گرد تتر بتر ہوگئے اور منظور پشتین جیسے لوگ بھی کونے میں بیٹھ گئے 2014میں منظور نے پشتون تحفظ موو منٹ بنائی مگر کسی کو اس کا علم نہ تھا اس عرصے میں اس کے سرخوں اور این ڈی ایس کے ساتھ رابطے بنے اور اس کی ساتھیوں کے ساتھ ”آزاد پشتونستان” کے جھنڈے والی تصاویر پشتو نستان کی ویب سائٹ پر نظر آنے لگیں اس کے ایک سال بعد اس کے روابط پشتونستان کے علمبردار اور پاکستان کے بدترین دشمن محمود اچکزئی کے ساتھ قائم ہو گئے منظور پشتین 10سے15دسمبر 2017کے درمیان سرحد پار افغانستان گیا جہاں کابل اور جلال آباد میں اس کی ملاقاتیں افغان انٹیلی جنس کے اعلی ترین عہدیداروں میں سے ایک ولی داد قندھاری سمیت کئی لوگوں سے ہوئیں جن میں کچھ امریکی سی آئی اے کے اہلکار بھی شامل تھے یہ سارا کام جناب محمود اچکزئی کی معرفت ہوا۔
13جنوری کو نقیب اللہ محسود کا قتل ہوا اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر محمود اچکزئی کے دورہ انڈیا کی خبریں آئیں جہاں اس نے مبینہ طور پر نریندر مودی کے علاوہ اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی نقیب اللہ کے واقعہ کے بعد منظور پشتین کی جماعت اچانک ابھر کر سامنے آئی۔اور ان کے مطالبات راﺅ انوار کی گرفتاری سے شروع ہو کر نہایت تیزی سے آزاد پشتونستان کے نعروں تک پہنچ گئے افغانستان نے پوری شدت سے ان کی سپورٹ شروع کر دی وائس آف امریکہ اور بی بی سی مسلسل ان کو کوریج دے رہے ہیں (میں سوشل میڈیا پر بیکار میں نہیں بیٹھی میں مسلسل کھوج میں رہتی ہوں میرے علم کے مطابق ایک بہت اچھا شخص بہت اچھا صحافی جو محسود تھا اس کو بھی وائس آف امریکہ نے دعوت دی تھی لیکن وہ پڑھا لکھا صاحب علم شخص تھا شائد اس وجہ سے وہ اس کھیل سے الگ ہو گیا ہے )بحر حال اس کے بعد پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد پبلش کرنا شروع کر دیا اور افواج پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی شروع میں پی ٹی ایم کے کئی مطالبات مان لیے گئے لیکن ان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
پی ٹی ایم نے پشتونوں کو اکسایا کہ تمھارے حقوق کے لیے ریاست یا فوج ہم سے بات نہیں کر رہی لیکن جب فوج نے مذاکرات کی پیش کش کی تو پی ٹی ایم نے حقارت سے ٹھکرا دیا چیک پوسٹوں پر بھی رویہ بہتر کرنے کا مطالبہ بڑھتے بڑھتے با لا خر فاٹا سے فوج کے انخلا تک پہنچ گیا سوشل میڈیا پر متحرک بدنام زمانہ گستاخ رسول وقاص گورایا،عاصم سعید ،سلمان حیدر اور ناصر جبران جیسے لوگوں نے بھی ان کی تحریک کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا وقاص گورایا جیسے ملعون کی علامتی تصاویر پی ٹی ایم کے لاہور والے جلسے میں نظر آئیں اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا (میرا خیال ہے سب جانتے ہیں لاہور میں اس جلسے کو کس نے سپورٹ کیا تھا ) سب سے حیران کن بات اس تحریک میں منظور پشتین کا دست راست محسن داوڑ نامی لبرل ہے جو چند سال پہلے تک فاٹا میں اپریشن اور پشتونوں پر ڈرون حملوں کا سب سے بڑا حمائتی تھا ان کے جلسوں میں پاکستانی جھنڈا لپرانے پر پابندی ہے لیکن افغانستان کے جھنڈے اکثر لہراتے نظر آتے ہیں۔
اب اس کے حامی پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ ،امریکہ اور انڈیا سے مدد مانگ رہے ہیں اور ریاست کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں غالبا یہی وجہ تھی خاتون صحافی کے سوال کی کہ کیا منظور پشتین جو ریڈ لائن کراس کر رہا ہے اس کے خلاف ایکشن ہو گا یا نہیں ؟ جس پر جنرل غفور کا جواب تھا ہم نے ان پر سخت ہاتھ اس لیے نہیں ڈالا کہ ان کے علاقوں میں جنگ ہوئی ان کا نقصان ہوا ان کے عزیز رشتہ دار مارے گئے ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ہمیں ان سے ہمدردی ہے ہم نے ان کے کئی مطالبات پورے کیے ہیں شروع میں ان کے صرف تین مطالبات تھے چیک پوسٹیں کم کریں ،مائینز کا صفایا،اور مسنگ پرسنز،ہم نے بہت ساری چیک پوسٹیں ختم کر دیں اگر ہمیں یہ اعتماد ہو کہ وہاں لوگوں کو سرحد پار سے کوئی خطرہ نہیں تو ہم مزید چیک پوسٹیں ہٹا لیں گے ہم اس لیے بارڈر فنسنگ کر رہے ہیں مسنگ پرسنز کے سات ہزار کیسز رجسٹر ہوئے جس میں سے چار ہزار سے زیادہ ریکور ہو چکے ہیں باقی تین ہزار کی بھی تفتیش جاری ہے وہ کسی اور ملک جا چکے ہوں یا کسی اور محاذ پر مصروف ہوں یا مارے جا چکے ہوں لیکن ہم ان پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اسی طرح تیسرا مسلہ بھی بہت حد تک کور ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ لائن کراس کریں گے تو پھر ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی ،بھارت سے متعلق سوال پر بھی جنرل نے اسی آہنی عزم سے جواب دیا کہ جنگیں انہوں نے بھی لڑ کر دیکھ لیں ہم نے بھی دیکھ لیں کوئی فائدہ نہیں ہوا اگر وہ جارحیت کا ارتکاب کریں گے تو پھر دیکھ لیں گے۔۔۔میں اس پر مزید بات کسی اور کالم میں لکھونگی انشا اللہ پاکستان کی ترقی کے بعد!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*