حکومت کو بلوچستان میں پانی کی سنگین صورتحال کا ادراک ہے،عمران خان

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں )وزیراعظم عمران خان نے ا مید ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سی پیک بلوچستان کے لئے ترقی و خوشحالی کا روشن باب ثابت ہوگا ، حکومت کو بلوچستان میں پانی کی سنگین صورتحال کا ادراک ہے، پانی کی فراہمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے جامع پلاننگ ، پانی کے صحیح استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کو برے کار لانے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں شارٹ ٹرم، میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، بدقسمتی سے بلوچستان میں طاقتور کے لئے ایک قانون جبکہ کمزور کے لئے دوسرا قانون رہا ہے، بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال تاہم ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کی وجہ سے پسماندگی کا شکار رہا ہے، ماضی میں بلوچستان کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز میں انتہا درجے کی کرپشن ہوتی رہی ہے ، نچلی سطح پر فنڈز منتقل نہ ہونے کے سبب علاقہ پس مانندگی کا شکار رہا ہے،ہمارے نبی نے ریاست کے جو سنہری اصول مرتب کیے ان پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے محدود وسائل کے باوجود دنیا کی امامت کی، معاشرے کی ترقی کے لئے قانون کی حکمرانی ، انصاف، نچلے طبقے کی معاونت اور ان کو اوپر اٹھانے کے لئے جامع نظام اور تعلیم کا فروغ کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، طلبا اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم کے حصول پر صرف کریں۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان سے کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کے طلبا نے ملاقات کی۔ملاقات میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال بھی موجود تھیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کے کیڈٹس نے وز یرِ اعظم سے بلوچستان کی مجموعی صورتحال، بلوچستان کے مسائل، تعلیم اور دیگر موضوعات پر بات چیت کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس رہا ہے۔یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے تاہم ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کی وجہ سے صوبہ پس مانندگی کا شکار رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے سوئٹزر لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں وسائل محدود ہیں لیکن گڈ گورننس کی بدولت سوئٹزرلینڈ آج یورپ کے بعض دیگر ملکوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکا ہے۔جہاں کرپشن ہوتی ہے وہاں کی عوام پس مانندگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔وزیراعظم نے ریاستِ مدینہ اور خلافت راشدہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ریاست کے جو سنہری اصول مرتب کیے ان پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے محدود وسائل کے باوجود دنیا کی امامت کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کے لئے قانون کی حکمرانی ، انصاف، نچلے طبقے کی معاونت اور ان کو اوپر اٹھانے کے لئے جامع نظام اور تعلیم کا فروغ کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم سب سے ضروری چیز ہے ۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم کے حصول پر صرف کریں۔ بلوچستان کے سماجی و معاشی حالات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں طاقتور کے لئے ایک قانون جبکہ کمزور کے لئے دوسرا قانون رہا ہے۔ ماضی میں بلوچستان کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز میں انتہا درجے کی کرپشن ہوتی رہی ہے۔ نچلی سطح پر فنڈز منتقل نہ ہونے کے سبب علاقہ پس مانندگی کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں ترقیاتی فنڈز ویلیج لیول پر مہیا کیے جائیں گے تاکہ عوام کی ضروریات کے مطابق ان ترقیاتی فنڈز کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ سی پیک اور گوادر کی تعمیر پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ سی پیک بلوچستان کے لئے ترقی و خوشحالی کا روشن باب ثابت ہوگا۔پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کو بلوچستان میں پانی کی سنگین صورتحال کا ادراک ہے۔ پانی کی فراہمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے جامع پلاننگ ، پانی کے صحیح استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کو برے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں شارٹ ٹرم، میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*