اسلام جبر کا مذہب نہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ جن معاشروں میں احتساب نہ ہو وہ آگے نہیں جاسکتے تاہم احتساب انصاف پر مبنی ہونا چاہئے، ہمیںمعاشرے میں رہتے ہوئے خوداحتسابی کے عمل کو بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ہم جس جس منصب پر فائزہیں ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کا اثر لاکھوں لوگوں پر پڑتا ہے جس کے ہم جوابدہ ہیں، اگر ہم غلط فیصلے کریں گے تو لامحالہ ان کے منفی اثرات ہم پر اور ہمارے بچوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب بلوچستان میں بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، میئر کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر کلیم اللہ، مختلف محکموں کے سیکریٹری اور دیگر حکام بھی سیمینار میں شریک تھے جبکہ ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے خطبہءاستقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے کے لئے اپنے ادارے کی کارکردگی اور کوششوں پر روشنی ڈالی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام جبر کا مذہب نہیں اور دین اسلام میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے جس میں ایک دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے مکمل آزادی حاصل ہے، تاہم اپنی خواہشات کے تابع ہوکر ہم اس دائرہ کار سے باہر نکل جاتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ اسلام میں تنگی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ غلط کام کرکے جھوٹ بول کر دوسرے کا حق مار کر اور کسی کی جان لے کر کہا جائے کہ اللہ غفورالرحیم ہے تو یہ سراسر اپنے آپ سے دھوکہ دہی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب جھوٹی دلیلوں کے ساتھ انسان اپنے آپ کو مطمئن کرنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر برائی برائی نہیں لگتی اور نہ ہی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اسلام میں سزا اور جزا کا تصور موجود ہے، انسان اشرف المخلوقات ہے اور غلطی بھی انسانوں سے ہی ہوتی ہے تاہم برائی کو روکنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے، کوئی انسان ہمیشہ اچھا یا ہمیشہ برا نہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جوانی کے بعد انسان بوڑھا اور کمزور بھی ہوجاتا ہے، اور جو انسان برائی روکنے کی کوشش ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا حصہ بنا رہتا ہے عمر کے آخری حصے میں وہ پچھتاوے کا شکار رہتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ محنت اور کوشش کرنے والے لوگ قابل تعریف ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی پسندیدگی بھی حاصل ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں، ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث زیرتکمیل منصوبوں کا تھرو فارورڈ 400ارب روپے ہے جن میں کئی منصوبے گذشتہ دس سالوں سے نامکمل ہیں جبکہ پرانے منصوبے مکمل کئے بغیر پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبے شامل کئے جاتے رہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے چھ سو سے زائد منصوبوں کا معائنہ کیا جن میں سے کئی منصوبے کاغذوں میں مکمل ہوچکے ہیں لیکن یا تو زمین پر ان کا وجو ہی نہیں یا یہ تاحال نامکمل ہیں انہوں نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ افسروں پر سیاسی دبا¶ ہوتا ہے لیکن افسر بہتر حکمت عملی کے ساتھ اپنے آپ کو اس دبا¶ سے نکال سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی مالی معاملات جس طرح خرابی کی طرف جارہے ہیں اس کا اثر سب پر پڑے گا، معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہوگا اور انتشار اور انارکی کی فضا پید ا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں تمام وسائل موجود ہیں لیکن پھر بھی ملکی معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں پر ہے جو انتہائی افسوسناک ہے، اسی طرح بلوچستان میں بھی وسائل کی کمی نہیں صرف گڈ گورننس کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہم تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی پسماندگی اور غربت کا شکار ہےں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب نے یہیں رہنا ہے ہم اپنے گھر کے ساتھ اچھا کریں گے تو سب کے لئے اچھا ہوگا اور برا کریں گے تو سب کے لئے برا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورننس سٹرکچر سب سے بڑا مسئلہ ہے، بدقسمتی سے گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے مصنوعی سیاست کا سہارا لیا گیا، بازارمیں بیٹھ کر چائے پینا اور جھاڑو پکڑ کر صفائی کرنا وزیراعلیٰ کا کام نہیں ہے اس طرح تبدیلی نہیں آتی، مسائل کا پائیدار بنیادوں پر حل گڈ گورننس کے ذریعہ ہی ممکن ہے، اگر ہم اچھا کام کریں گے تو میڈیا خود ہی ہمیں اہمیت دے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں بدعنوانی اور مس مینجمنٹ کو اس کے آغاز سے ہی قابو کرنا ہوگا، سیکریٹری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کانظام بنائیںاور خود بھی منصوبوں کا معائنہ کرتے رہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں دی ہیں جس سے ان میں بہتری آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر افسران خوش نیتی اور جرات مندی کے ساتھ کام کریں تو نیب یا کوئی ادارہ ان کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا، صوبے کو بہتر بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، بعدازاں وزیراعلیٰ کو ڈائریکٹر جنرل نیب نے بدعنوانی کے مختلف کیسز میں وصول کی گئی 46کروڑ سے زائد خطیر رقم کا چیک دیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نیب اہلکاروں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں جبکہ وزیراعلیٰ کو ڈی جی نیب نے یادگاری شیلڈ پیش کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*