پنجاب کا ایک بار پھر بلوچستان سے محبت کا اظہار

وزیراعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار نے گزشتہ روز بلوچستان ریذیڈیشنل کالج خضدار کے طلباءکے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے پیش رفت کی تقلید کرتے ہوئے ایک بار پھر بلوچستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بلوچستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں ۔مجھے بلوچستان سے محبت اور لگن ہے ہماری حکومت صوبہ بلوچستان کے عوام کے اعتماد پر پورا اتر کر وہاں عوام کو زندگی کی سہولیات دینا چاہتی ہے اور اس طرح پنجاب کی حکومت اور عوام کا دل بلوچستان کےساتھ دھڑکتا ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان محمد عثمان بزدار نے مذکورہ بیان دے کر اپنے پیش رو کی تقلید کی ہے کیونکہ اس سے قبل بھی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف متعد د بار ایسے ہی بیانات دے چکے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے دورے کے دوران متعدد بار وعدے بھی کئے اور اس طرح بلوچستان میں ایک امراض قلب کا ہسپتال بھی بنانے کا اعلان کیا اس کے علاوہ دوسرے ترقیاتی منصوبوں کی بھی بات کرتے رہے لیکن ان کے یہ تمام وعدے صرف دلاسے دعوے اور بیانات تک ہی محدود رہے کیونکہ ان پر عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جوکہ بلاشبہ بلوچستان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے حالانکہ میاں محمد شہباز شریف کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا اور وفاق میں بھی ان کی حکومت تھی اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار نے ایک بار دوبارہ پرانی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کو سبز باغ دکھانے شروع کردیئے ہیں اور انہوں نے مذکورہ بیان میں بہت ہی اچھی باتیں کہی ہیں لیکن ان پر عملد رآمد ہوگا یا نہیں ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے بھی ایسے ہی وعدے اور دعوے کئے تھے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا ۔
اب موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے کو ایک بار پھر مذکورہ بیان وعدے صرف بیانات تک محدود رکھنے کی بجائے ان پر عملی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بلوچستان کی پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے اور یہ بھی ملک کے دیگر ترقیاتی صوبوں کے برابر آسکے کیونکہ بلوچستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اس کے ساتھ وفاق اور ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں رہا اس کو ہر آنے والی حکومتوں نے صرف دلاسوں اور یقین دہانیوں تک محدود رکھا ۔اس سلسلے میں عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے یہ پسماندگی کے دلدل سے نہ نکل سکا جوکہ بہت ہی افسوس کی بات اور وفاق اور باقی صوبوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*