ملک کوقربانی کی ضرورت ہے،میاں ثاقب نثار

Chief Justice of Pakistan Mian Saqib Nisar

کراچی(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں سپریم کورٹ کی نئی عمارت کی اشد ضرورت تھی، صوبوں میں سپریم کورٹ رجسٹری کی ضرورت بڑھ گئی ہے، عمارتیں ادارے نہیں ہوتے، اس عمارت میں بیٹھے لوگ انصاف کے تقاضے پورے کریں گے، انصاف کرنے والے اداروں کو مضبوط کرتے ہیں، ہم خامیوں کو دور کرسکتے ہیں اور ان خامیوں پر قابو پاکر ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں،قانون کی پاسداری کرنے والی قوموں نے ترقی کی ہے، ملک کو قربانی کی ضرورت ہے ، پانی کے مسئلے پر دیانتداری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 2025 تک ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے، امید ظاہر کی کہ میرے بعد آنے والے انصاف کے تقاضے پورے کریں گے ، دنوں میں نہیں تو چند سالوں میں ملک کی تقدیر بدل جائے گی، آبادی کنٹرول کرنے کی مہم آنے والے دنوں میں تحریک بنے گی۔منگل کو پاکستان سیکریٹریٹ میں سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی نئی عمارت کی اشد ضرورت تھی،سپریم کورٹ کراچیرجسٹری کےلئے زمین درکار ہے، کراچی اور دیگر صوبوں میں سپریم کورٹ کی ضروریات بڑھ گئیں، عمارتیں ادارے نہیں ہوتے، زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہوا، انصاف کرنے والے اداروں کو مضبوط کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ عمارت بہت جلد مکمل ہو گی، عمارت میں بیٹھے لوگ انصاف کے تقاضے پورے کریں گے، جیسے دوسرے ممالک میں ہوتا ہے، سب سے بنیادی عمل اس ملک کےلئے قربانی کا جذبہ ہے، جس طرح کا جذبہ اور قربانی آپ اپنی فیملی کےلئے کرتے ہیں وہی جذبہ اگر ملک کےلئے کریں تو اس ملک کی تقدیر بدل جائے گی، وسائل اور ضروریات میں توازن کی ضرورت ہے، اگر توازن برقرار نہ رہا تو مشکلات کا سامنا ہو گا، اس ملک میں پانی کی اشد ضرورت ہے، پانی انسان کی زندگی ہے، بہت مشکل حالات ہیں، اگر ہم نے موثر کارکردگی اور کام نہ کیا تو ہمیں2025تک پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہو گا، ہمیں نہ صرف ڈیم بنانے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی سطح بہت نیچے گلی گئی ہے، اگر پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہاں کے لوگوں کو ہجرت کرنا پڑے گی، کراچی میں پانی کے بحران کو حل کیاجا سکتا ہے، ہم نے جو کوششیں کراچی میں پانی کے حوالے سے شروع کی تھیں اس کے ثمرات آرہے ہیں، کراچی اور سندھ میں پانی کے بحران پر قابو پانا ضروری ہے، ہم قانون سے باہر جا کر کچھ نہیں کرنا چاہتے، منرل واٹر صنعتوں پر زمین سے نکالے گئے پانی پر ایک لیٹر پر ایک روپیہ فیس عائد کی جائے گی، پانی پر عائد فیس سے پانی کی مینجمنٹ اور ڈیم کےلئے اربوں روپے مل سکتے ہیں، آئندہ 30سالوں میں پاکستان کی آبادی 40سے 45کروڑ ہو گی، اس سے ہمارے وسائل میں کمی واقع ہو سکتی ہے، دنیا میں انہی قوموں نے ترقی کی ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، اگر ایک آدمی کو حق پر فیصلہ نہیں ملتا تو وہ تبدیل ہو سکتا ہے، ہم سول لاءمیں اصلاحات لانے کےلئے کوشش کررہے ہیں، آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اصلاحات کی بنیاد رکھنا ہو گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پولیس اصلاحات کےلئے مسودہ جنوری میں لا رہے ہیں،انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ضرورت ہے، ہمارا نظام فیل نہیں ہوا ہمارے اوپر بوجھ اتنا آگیا ہے کہ ہمارے ججز متحمل نہیں، ایک سول جج کے پاس پنجاب میں 160عام کیس لگے ہوئے ہیں، آج وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی خوشحالی کےلئے قربانی دینی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*