پی ڈی ایم اے بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کےلئے چوکس ہے ،سلیم کھوسہ اور ظہور بلیدی

کوئٹہ(این این آئی) صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر سلیم کھوسہ اور صوبائی وزیراطلاعات ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے پوری طرح چوکس ہیں،خشک سالی آہستہ آہستہ متاثر کرنے والا ڈیزاسٹر ہے اس پر قابو پانے کے لئے وقت درکار ہے صوبے میں مجموعی طور پر صورت حال قابو میں ہے سامان کے لئے گورنمنٹ کو مزید فنڈز کے لئے سمری بھیجی جا رہی ہے،جن اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے رپورٹ بھیجی ہے ان کے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کا سامان بھجوا دیا گیا گیا، بلوچستان میں ہر 39ماہ بعد خشک سالی کا ایک دورانیہ آتا ہے ابتک بلوچستان میں تقریباً18سے 20بار خشک سالی آچکی ہے ۔یہ بات انہوں نے پیر کوڈی جی پی ڈی ایم اے محمد طارق،کمشنر مکران نصیراحمدناصر کے ہمراہ پی ڈی ایم اے آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بلوچستان میں خشک سالی کا سب سے بڑا دورانیہ تقریباً 1945-55تک تھا جوکہ 10سال بنتے ہیں اسکے بعد 1997سے 2003ءتک کا ہے ابتک بلوچستان میں تقریباً18سے 20بار خشک سالی آئی ہے بلوچستان میں ہر 39ماہ بعد خشک سالی کا ایک دورانیہ آتا ہے اسکی وجہ بارش کا کم ہونا اور پانی کا گرا¶نڈ لیول نیچے جانا ہے اسوقت بلوچستان کے کئی اضلاع میں خشک سالی ہے پی ڈی ایم اے نے تمام ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنرز وار تمام کمشنروں سے رپورٹ طلب کی ہے جن اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے رپورٹس بھیجی ہیں انکو متاثرہ خاندانوں کیلئے ریلیف کا سامان انکی ڈیمانڈ کے مطابق بھیج دیا گیا ہے اور مزید بھیجا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابتک کی رپورٹس کے مطابق 11اضلاع نوشکی ، چاغی،خاران ، واشک ،پنجگور، جھل مگسی ،کچھی ، موسیٰ خیل ، ہرنائی ،سبی اورژوب میں تقریباپچاس ہزارفیملز پرمشتمل ہے جو متاثر ہوئے ہیں یہ آبادی بلوچستان کے تقریباً 24تحصیل ،68یونین کونسلز اور 1099گا¶ں پر مشتمل ہے پی ڈی ایم اے نے ابتک 28500فیملیز کیلئے متعلقہ اضلاع کے ڈیمانڈ پر 14000متاثرہ فیملیز کیلئے راشن بھج دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مال مویشی کافی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں اسکے ساتھ ساتھ فصلیں بھی تباہ ہوئی ہیں اورزرعی زمین متاثر ہوئی ہے پی ڈی ایم اے بلوچستان اس قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس ہے اورحالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اضلاع کو انکی ڈیمانڈ کے مطابق ضروری اشیاءمہیا کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ خشک سالی ایک آہستہ آہستہ متاثر کرنے والا ڈیزاسٹر ہے اس پر قابو پانے کیلئے بھی وقت درکار ہوتا ہے اور اس پر موثر پلان بنانے کی َضرورت ہے جس پرکام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس پر بہترطریقے سے قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کے پاس موجودہ سامان ناکافی ہے اس سلسلے میں حکومت کو مزید فنڈز کیلئے سمری بھیجی جارہی ہے تاکہ مزید سامان خرید کر متاثرہ ڈسٹرکٹ میں سامان کی ترسیل جاری رکھ سکیں ابتک متاثرہ علاقوںمیں انسانی جانوں کے ضیاع جیسے واقعات یا اس سے متاثر ہہونے سے متعلق کوئی واقع رونما نہیں ہوا اور اس حوالے سے جو خبریں سامنے آرہی ہیں ان میں حقیقت نہیں ہم تمام علاقوں کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ سبی سمیت دیگر علاقوں میں واٹر پیوروفیکشن پلانٹ بھیج رہے ہیں تاکہ لوگوں کو صاف پانی مہیا کیا جاسکے ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کابینہ کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ رورل اسکیم کے لئے پانچ ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے یہ رقم متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی صوابدید پر علاقے میں پینے کے صاف پانی ،تعلیم ،صحت کی سہو لیات کی فراہمی پر خرچ کئے جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رخشاں ڈ¶یژن میں خشک سالی اور قحط سالی سے تقریباً 10لاکھ کے قریب مال مویشی متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر خوراک کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیںزیرزمین پانی کی سطح کو ری چارج کرنے اور کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں کو پانی کی فراہمی کیلئے مانگی ڈیم ،ہلک ڈیم اور برج عزیز ڈیم پر کام جاری ہے کیونکہ حکومت نے صوبے میں واٹر ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کوبھیجا جانے والا سامان معیاری ہے اور یہ سامان متاثرین میں بلا رنگ و نسل اور حقداروں میں تقسیم کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*